شاہ سلمان کی ٹرمپ سے گفتگو، اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار

316

تازہ ترین اطلاع کے مطابق شاہ سلمان اور صدر ٹرمپ کے درمیان بہت اہم گفتگو ہوئی ہے، جس میں شاہ سلمان نے فوری طور پر اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے، انہوں نے سعودی عرب کا 2002ء کا منصوبہ دہرایا جس میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا منصوبہ شامل تھا، اسرائیل 1967ء کی سرحدوں پر واپس جاتا تھا لیکن اس منصوبے پر عمل ہونا اس دور میں ناممکن لگتا ہے، ان کے صاحبزادے اور ولی عہد محمد بن سلمان کی ساری کوششیں کامیاب ثابت نہ ہو سکیں، ٹرمپ اور جیرڈ کشنر کی جو کوئی بھی خواہش اور امیدیں تھیں وہ کامیاب نہ ہو سکیں، ٹرمپ کو اس الیکشن میں جوبائیڈن سے سخت مقابلہ کی امید ہے، وہ ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہ رہے تھے، ایک تو اسرائیل کو عربوں سے تسلیم کروا کے اسرائیل کو محفوظ بنانا چاہ رہے تھے، کرونا میں اموات اور بری معیشت نے امریکی ووٹرس کو ٹرمپ کو دوبارہ منتخب کرنے سے بہت دور کر دیا ہے، ٹرمپ ہر قیمت پر اس الیکشن میں کامیاب ہونا چاہتے تھے تاکہ آئندہ چار سال تک مزید حکمرانی کرسکیں۔
اگر سعودی عرب کی معیشت کو دیکھیں تو وہ بھی بہت تیزی سے تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بہت تیزی سے گررہی ہیں، سعودی عرب کی 87فیصد معیشت تیل کی درآمد پر کھڑی ہے، باقی 13فیصد میں حج اور عمرہ کی آمدنی ہے، اگر دنیا میں تیل کی قیمت 78ڈالر فی بیرل رہتی ہے تو سعودی حکومت کے اخراجات بریک ایون پر رہتے ہیں ورنہ خسارہ شروع ہو جاتا ہے، آج کل دنیا میں کرونا کی وجہ سے تیل کی قیمتیں 40سے 42ڈالر فی بیرل رہ گئی ہیں، جس سے سعودی کے علاوہ دوسرے عرب ممالک کا بھی برا حال ہونے جارہا ہے، سعودی عرب کو حج سے سالانہ 28ارب ڈالر کی آمدنی ہوتی تھی، اس کے علاوہ عمرہ کے ز ائرین پورا سال ہی آتے رہتے تھے، اندازہ یہ ہے شائد اگلے سال تک بھی حج اور عمرہ نارمل نہ ہو سکیں، محتاط اندازے کے مطالبق 2022ء تک شاید دنیا کی کرونا سے جان چھوٹ سکے، سعودی عرب کے تیل کا سب سے بڑا گاہک چین تھا، اس کا 30فیصد سے زیادہ تیل چین خریدتا تھا، اب چین کا جھکائو ایرانی تیل کی طرف ہو گا، اس کے علاوہ چند ماہ پہلے جب امریکی تیل کا کوئی خریدار نہ تھا، اس کی قیمتیں زیرو پر چلی گئی تھی تب چائنہ نے تیل مفت میں لیکر اپنے ریزرو بھر لئے تھے تاکہ اس کو ایک سال تک تیل خریدنا نہ پڑے اورمعاشی دبائو بھی نہ آئے جو اس کی خراب ہوتی معیشت کو سہارا دے سکے۔
مالی مشکلات کے دوران سعودی عرب کو اپنے تین بڑے منصوبوں پر کام روکنا پڑا، پہلا منصوبہ خانہ کعبہ مسجد کی Expansionتھی دوسرا منصوبہ سپورٹس ہائپرو پراجیکٹ متاثر ہوا اور روک دیا گیا وہ سپورٹ سٹیڈیم کمپلیکس تھا، تیسرے وہ ایک نیا شہر آباد کرنے جارہے تھے۔ Mega City in Desert، یہ 50ارب ڈالر کا پروجیکٹ تھا جو Vision2030کا حصہ تھا، جہاں پر دنیا بھر سے ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ ٹوریسٹس نے آنا تھا جو سعودی آمدنی کا بہت بڑا ذریعہ ہوتا، وہ رک گیا، ایم بی ایس نے سعودی عرب کو دنیا کے لوگوں کیلئے کھول دینا تھا، لوگ بیروت اور امریکہ کے نائٹ کلبوں کو بھول جاتے، محمد بن سلمان جن کی عمر 30سال کے لگ بھگ ہے ان کے ذہن میں آمدنی کا سب سے بہترین ذریعہ تھا کہ دنیا بھر سے ٹورسٹوں کو بلائیں لیکن اب ایسا کرنا ممکن نہیں رہا، سعودی عرب بہت تیزی سے تباہی کی طرف جارہا ہے، اس کے کوئی 1500سے زیادہ شہزادے اور شہزادیاں ہیں، ان کے اخراجات شاہی حکمرانوں کی شاہ کرچیاں کمال کی ہیں، ایم بی ایس نے ایک 500 سال پرانی Jesisکی پیٹنگ 450ملین ڈالر میں خریدی، محمد بن سلمان نے فرانس میں ایک گھر 300ملین ڈالر میں خریدا ہوا ہے، CBSٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے محمد بن سلمان نے ایک مرتبہ کہا تھا میں گاندھی یا نیلسن منڈیلا نہیں ہوں، میں شاہی خاندان سے تعلق رکھتا ہوں، لیکن شائد اس کا یہ غرور اور گھمنڈ سعودی عرب کو تباہ کرنے جارہا ہے، جب برا وقت آتا ہے تو انسان کا سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے، جب گوربا چوف جیسے حکمران آتے ہیں تو روس جیسی طاقتیں بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہیں، امام خانہ کعبہ شیخ عبدالرحمن اشاروں کنایوں میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی طرف اشارہ کررہے ہیں لیکن عالم اسلام شائد اس کو قبول نہ کرے، دیکھتے ہیں آئندہ آنے والا وقت سعودی عرب کے لئے کیا کیا تباہ کاریاں لاتا ہے، معاشی طور پر۔