کرونا کے بعد!!!

483

بالآخر ایک سال کی تگ و دو کے بعد Covid-19کی ویکسین آ گئی، نہیں نہیں ابھی یہ ہم اور آپ تک تو نہیں پہنچی لیکن خبریں یہی بتا رہی ہیں کہ بہت جلد اس کی رسائی عوام تک ہو جائے گی، 2دسمبر کو CDCکی ویب سائٹ پر بھی آگیا کہ ویکسین تیار ہے۔
میڈیکل کے ماہرین کا کہنا تھا کہ اٹھارہ مہینے میں ویکسین آ جائے گی لیکن صدر ٹرمپ کئی مہینوں سے کہہ رہے تھے کہ الیکشن سے پہلے آ جائے گی اس پر بہت تیزی سے کام ہورہا ہے، اس چیز سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں ظاہری بات ہے کہ اگر ویکسین الیکشن سے پہلے آجاتی تو الیکشن کے نتائج ہو سکتا ہے کہ کچھ اور ہوتے لیکن ایسا نہیں ہوا، کافی Republicansکا خیال ہے کہ فارما سوٹیکل کمپنیوں نے اس کام میں جان بوجھ کر تاخیر کی تاکہ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ اس کا کریڈٹ نہ لے سکیں، جوبائیڈن نے کچھ عرصے پہلے ایک تقریر میں کہا تھا کہ ویکسین پر کام تو ٹرمپ دور میں ہورہا تھا لیکن انتظامیہ نے اس کی تقسیم سے متعلق کوئی قدم نہیں اٹھایا تھا یعنی کہ ویکسین بوتل سے نکل کر سرنج میں اور پھر لوگوں کے جسم تک کیسے پہنچے گی، 350ملین امریکنز کو بھی یہ ویکسین لگانے کے لئے ایک جامع اور موثر پلان کی ضرورت ہے جس کے متعلق ٹرمپ انتظامیہ نے کچھ نہیں سوچا تھا۔
اس وقت شاید سب سے بڑی خبر یہی ہے کہ ویکسین آ گئی ہے اور دسمبر کے مہینے سے لگنا شروع ہو جائے گی، اس کے آنے کا سلسلہ Batchesمیں ہو گا یعنی سب سے پہلے پچیس ملین بوتلیں آئیں گی اور وہ First Respondersکو لگیں گی جیسے ڈاکٹرز، نرسیں خاص طور پر وہ ڈاکٹر نرسیں جو کہ نرسنگ ہومزمیں کام کرتے ہیں کیونکہ وہاں بڑی عمر کے لوگ ہوتے ہیں عموماً جن کی قوت مدافعت اتنی زیادہ نہیں ہوتی اور پھر وہ ایک دوسرے سے قریب بھی رہتے ہیں، میڈیکل اور پیرامیڈیکل کے بعد باری آئے گی پولیس، امیگریشن آفیسرز، ٹیچرز وغیرہ کی اس طرح آہستہ آہستہ باری باری یہ ویکسین سب کو لگ جائے گی، اب تک اس ویکسین کو 45,000لوگوں کو لگایا گیا ہے، سننے میں یہ نمبر بہت زیادہ لگتا ہے لیکن 350ملین کے مقابلے میں بہت چھوٹا ہے۔
کئی لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم سب سے پہلے یہ ویکسین نہیں لگوائیں گے کیونکہ اگر اس سے کوئی Side Effectsہیں خاص طور سے وہ اثرات جو لمبے عرصے بعد ظاہر ہوتے ہیں تو اس کا تو پتہ بھی نہیں چلے گا حالانہ FDAنے اس ویکسین کو فاسٹ ٹریک کر کے Approveکر دیا ہے لیکن کیونکہ اس کی ٹیسٹنگ کو ایک دو یا تین سال گزرے ہیں اس لئے اس کے منفی یا مثبت اثرات کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ کئی دوائیاں ہیں کہ جو FDAسے پاس ہو کر مارکیٹ میں آ جاتی ہیں مگر پھر کچھ عرصے بعد ان ہی کا نوٹس جاری ہوتا ہے کہ ان دوائوں پر پابندی لگا دی گئی ہے اور ان کا بیچنا اور استعمال کرنا ممنوع ہے۔
اچھی بات یہ ہے کہ CDCکئی دوسری ویکسینز پر بھی کام کررہا ہے یعنی بہتر سے بہتر کی تلاش میں ہے، پہلے کچھ مہینے یہ ویکسینزFDAکی ’’Emergancy use aothorization‘‘کے تحت استعمال ہو گی یعنی کہ عام لوگوں تک ان کی پہنچ نہیں ہو گی۔
اس وقت جو ویکسین آرہی ہے وہ بچوں اور حاملہ خواتین کے لئے تجویز نہیں کی گئی ہے کیونکہ جو بھی ٹیسٹنگ اب تک کی گئی ہے وہ صرف بڑی عمر کے لوگوں پر کی گئی ہے بچوں پر نہیں، اس ویکسین کو حکومت امریکہ نے فنڈ کیا ہے، اس لئے امریکنز کو یہ مفت میں فراہم کی جائے گی لیکن لگانے کی فیس ہے !! یعنی کہ ہاسپٹل اور ڈاکٹروں کے آفس میں یہ فیس چارج کی جاسکتی ہے مگر انشورنس کمپنیوں کے ذریعے، اگر کسی کے پاس انشورنس نہیں ہے تو اس کی فیس کی ادائیگی حکومت کے ریلیف فنڈ سے ہو جائے گی، کئی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ویکسین DNAپر اثر انداز نہیں لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ خود کووڈ کے جرثومے کا ڈی این اے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔
ڈاکٹر فوچی کا کہنا ہے کہ جب یہ ویکسین سب کو لگ جائے گی اس کے بعد بھی ہمیں احتیاط سے کام لینا ہو گا یعنی ماسک کے بغیر نہیں نکلنا ہو گا اورمجمع سے بھی پرہیز کرنا ہو گا۔
اس وقت کئی جگہوں پر ٹریول پر پابندی ہے اور کافی جگہوں پر کووڈ ٹیسٹ کے نتائج کی رپورٹ بھی دکھانی ہوتی ہے لیکن کچھ عرصے بعد آپ کو اپنے ویکسین لگوانے کا ثبوت دکھانا ہو گا، ہوائی سفر سے پہلے اور اگر آپ نے ٹیکہ نہیں لگوایا ہے تو آپ کوایئر لائن والے جہاز پر چڑھنے اور سفر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انگلینڈ اور چائنا میں تو ویکسین آگئی ہے اور لوگوں نے لگوانی بھی شروع کر دی ہے۔
ڈر اس بات کا ہے کہ ترقی پذیر، پس ماندہ یا غریب ملکوں میں جہاں تعلیم، وسائل اور معلومات کی کمی ہے وہاں مفاد پرست، لالچی لوگ کوئی دو نمبر کی ویکسین نہ لے آئیں، غریب عوام مہنگے داموں اسے لگوائیں بھی اور اگر کوئی سائیڈ افیکٹ ہوں تو اس کاپتہ سرا بھی نہ ملے کیونکہ انہوں نے ویکسین کے نام پر کونسی دو لگوالی اس کا سراغ لگانا ممکن نہیں ہو گا۔
2020ء بہت مشکل تھا، یہ صرف ’’Covid‘‘کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا، ایک بھیانک سال، امید کرتے ہیں اور دعا کہ آنے والا ویکسین کامیاب رہے، اس کے بعد سب صحیح رہے، اللہ تعالیٰ اپنا کرم کرے اور لوگوں کو کرونا کے بعد والا وقت اچھے وقت کی طرح یاد رہے۔