جواب تو دیجئے!!

465

قائداعظم کی ایک تقریر ایڈیٹ کی گئی، ایڈٹ کرنے والا اس وقت کا آئی سی ایس تھا چودھری محمد علی، جو بعد میں سیاست میں آیااور پاکستان کا وزیراعظم بھی بنا، یہ تقریر بقول چودھری محمد علی مفاد عامہ میں نہ تھی، اس زمانے میں یہ ٹرم عام تھی، جو بات چھپانی ہو وہ مفاد عامہ میں چھپا لی جاتی تھی اور کسی کو معلوم نہ تھا کہ یہ مفادِ عامہ کس چڑیا کا نام ہے، یہ ٹرم انگلینڈ میں پہلی جنگ عظیم کے وقت استعمال کی گئی جب جرمنی کے حملوں سے ہونے والے نقصانات عوام سے چھپائے جاتے تھے تاکہ ان کا حوصلہ اور مورال بلند رہے، دوسری جنگ عظیم کے بعد اس ٹرم کا استعمال نہیں ہے کیونکہ مغرب کے میڈیا اور حکومتوں نے جھوٹ نہیں بولا، مگر ایک اصول وضع کر لیا گیا تھا کہ ملکوں کے درمیان معاملات میں حکومت کے نکتہ نظر کو قبول کر لیا جائے گا اور اس پر سوالات نہیں اٹھائے جائینگے، مغرب کی حکومتوں نے بھی کبھی عوام کے اعتماد کو متزلزل نہیں ہونے دیا، تمام معاملات ان کے سامنے سچائی کے ساتھ رکھے، عراق کے معاملے میں امریکہ اور برطانیہ نے اپنے عوام سے جھوٹ بولا مگر معافی بھی مانگ لی گو کہ یہ بہت لیٹ تھی، کلنٹن کو بھی جھوٹ بولنے پر رسوائی کا سامنا تھا، عام طور پر مغرب کی حکومتیں اپنی عوام سے جھوٹ نہیں بولتیں مگر تیسری دنیا کی حکمران اپنے عوام سے جھوٹ بولتے ہیں، ان میں سے اکثر بری طاقتوں کے آلہ کار ہوتے ہیں اور ان کو اپنے عوام سے بہت کچھ چھپانا ہوتا ہے اس لئے ملک کی نوکر شاہی، میڈیا اور وہ خود عوام سے جھوٹ بولتے ہیں اور حقائق کو چھپایا جاتا ہے، کشمیر ہو یا سقوطِ ڈھاکہ یا اسامہ بن لادن کی موت پاکستان کی حکومتوں نے عوام سے ہر چیز چھپائی اور ملک کو نقصان پہنچایا، لیاقت علی خان کا قتل اور پھر بھٹو کا عدالتی قتل کی وجوہات کبھی سامنے نہ آسکیں اور اس میں فوج کا اہم کردار رہا، ایوب خان کے زمانے سے فوج پر کوئی روک ٹوک نہیں لگائی جا سکی اور ضیاء الحق کے بعد سے تو فوج ہی ملک کی مالک بن گئی اور کوئی اس کو پوچھنے والا نہیں، سیاست دان سب کے سب انتہائی نااہل وہ فوج سے جواب طلبی کر ہی نہیں سکتے، آج کل بھی اپوزیشن فوج سے ہی کہہ رہی ہے کہ ان کو SPACEفراہم کی جائے، اس کا مطلب میں یہ لیتا ہوں کہ ملک میں کوئی سیاسی نظام نہیں ہے۔
پچھلے دنوں میڈیا پر اسحاق ڈار کے انٹرویو کا بہت چرچا رہا، حکومت اس انٹرویو پر بغلیں بجارہی ہے اور حکومت کے وزراء اس انٹرویو کی چیر پھاڑ پر مامور ہیں مگر سچی بات یہ ہے کہ اسحاق ڈار کوئی سیاست دان نہیں ہے وہ اکائونٹس کا آدمی ہے سیاست سے اس کا کوئی لینا نہیں، تیز آدمی ہوتا تو بی بی سی انٹرویو کے لئے نہ جاتا، مگر اسی دوران ایک اورا نٹرویو بی بی سی کی زینت بنا یہ اہم انٹرویو تھا جو سارا بلوچ نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اسد درانی سے کیا، اسد درانی ایک کتاب لکھ چکے ہیں اور ان کی یہ کتاب میڈیا پر تادیر زیر بحث رہی، یہ کتاب انہوں نے اپنے انڈین ساتھی رائٹر کے ساتھ مل کر لکھی تھی، پاکستان میں اس کتاب پر خاصی تنقید کی گئی، اب ان کی دوسری کتاب آرہی ہے اسی لئے سارہ بلوچ نے اسد درانی کا انٹرویو کیا، پاکستانی میڈیا اس انٹرویو کو بالکل گول کر گیا یا اس کو مجبور کیا گیا کہ وہ اس انٹرویو کو زیر بحث نہ لائے، یہ حکومت کا جبر اور میڈیا کی مجبوری ہو سکتی ہے اگر کچھ ایسا ہی ہے تو میڈیا کا یہ دعویٰ بالکل جھوٹ ہے کہ وہ آزادیٔ صحافت کا علمبردار ہے، یا وہ سچ بولتا ہے، کم از کم اس انٹرویو کی خبر تو بنتی ہے مگر افسوس کہ اس خبر کا مکمل بلیک آئوٹ ہو گیا۔
اس انٹرویو میں اسد درانی نے سارہ بلوچ کو بتایا کہ آئی ایس آئی سیاست میں مداخلت کرتی رہی ہے، انہوں نے جنرل حمید گل کا نام لے کر اس بات کا اعتراف کیا، انہوں نے کئی واقعات کا حوالہ دے کر بتایا کہ فوج سیاست میں ملوث رہی ہے مگر ہم دو سال سے جنرل باجوہ کی باتیں سن رہے ہیں کہ فوج کا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں، مگر ان کے یہ بیان آنکھوں میں مرچیں جھونکنے کے مترادف ہیں، ہم دیکھ رہے ہیں کہ مختلف ممالک کے سفراء اور دیگر فوجی شخصیات پاکستان آتی ہیں جنرل باجوہ سے ملتی ہیں اور ان ملاقاتوں کا اعلانیہ بھی جاری ہوتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ باہمی دلچسپی کے معاملات پر گفتگو ہوئی، باہمی دلچسپی بھی مفاد عامہ کی طرح غیر متشرح ہے مفاد عامہ کا جس طرح پتہ نہ چل سکا اسی طرح عوام کو یہ بھی نہیں معلوم کہ باہمی دلچسپی کے امور کیا ہوتے ہیں مگر عوام دیکھ رہے ہیں کہ شاہ محمود قریشی بس دیکھنے کے وزیر خارجہ ہیں بہت ہوا تو افغانستان کے مسئلے پر وہ بیان داغ دیتے ہیں مگر وزیر خارجہ کا منصب جنرل باجوہ کے پاس ہے اور وہی تمام اہم معاملات دیکھتے ہیں جس کا شائد عمران خان کو بھی علم نہیں ہوتا، اسد درانی نے کہا کہ اب صورت حال یہ ہو گئی ہے کہ فوج اور اس کے ادارے چاہے کسی دھرنے میں ملوث نہ بھی ہوں تب بھی یہی کہا جاتا ہے کہ اس میں آئی ایس آئی ملوث ہے چند دن پہلے کراچی کے معاملے میں جو میٹنگ ہوئی تھی اس میں جنرل فیض حمید موجود تھے جو آج کل آئی ایس آئی کی سربراہی کرتے ہیں اب کوئی پوچھے کہ کراچی کے بارے میں جو پراجیکٹ منظور کئے جانے ہیں ان کا تعلق تو کلیتاً سول اداروں سے ہے اس اجلاس میں کور کمانڈر کراچی اور ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کا کیا کا م ہے، ایسے میں نواز شریف نے اپنی تقریر میں جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید سے جو سوال پوچھ لئے ہیں ان کے جواب تو عوام کو چاہئیں، اب حالت یہ ہے کہ قوم کو نہ صرف انڈیا بلکہ افغانستان سے ڈرایا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ فوج نہ ہو تو انڈیا اور افغانستان پاکستان کو نگل لیں گے، جنرل عاصم باجوہ پر بھی امریکہ میں اپنی جائیداد بنانے کے الزامات لگائے جارہے ہیں، مگر ان سب باتوں کا کوئی معقول جواب نہیں ملتا سوائے ایک سرسری تردید کے، پاکستان کے سول اداروں میں فوج کی مداخلت بہت زیادہ بڑھ چکی ہے مگر فوج اپنی پوری مداخلت کے باوجود جواب دہی کے لئے تیار نہیں اب ENOUGH IS ENOUGHقوم کو ان سارے سوالات کے جواب درکار ہیں جو پوچھے جا چکے ہیں یا پوچھے جارہے ہیں وگرنہ کوئی سانحہ ہو سکتا ہے کیا فوج اس کی ذمہ داری قبول کرے گی؟