خواب اقبال کا!

282

پاکستان کا روایتی نیوز میڈیا تو زیادہ تر سیٹھوں اور سرمایہ داروں کے قبضے میں ہے لہٰذاخبروں کی ترسیل اور ابلاغ کے اور شعبوں میں نواز شریف اور زرداری جیسے نامی چوروں کے حق میں اکثر ڈنڈی مارتا رہتا ہے لیکن خدا رکھے ہمارے سوشل میڈیا کو وہ سارا سچ کہہ دیتا ہے، بلا کم و کاست اور اسی لئے اب ذہین لوگ روایتی میڈیا پر کم اور سوشل میڈیا پہ اعتبار زیادہ کرتے ہیں!
ہم نے پچھلے ہفتے کے کالم میں اسلام آباد کے چڑیا گھر سے نجات پانے والے ہاتھی کاوان کے ضمن میں تذکرہ کیا تھا کہ وہ بیچارہ ہاتھی تو قید سے آزاد ہوگیا لیکن سیاسی چڑیا گھر کا ایک سفید ہاتھی، جواس نسل سے ہے جسے ہمارے جاگیرداری نظام کے مارے ناعاقبت اندیش جمہور ایک عرصے سے پالتے آئے ہیں، فرار ہوکر لندن میں دبکا ہوا بیٹھا ہے لیکن اب کچھ عرصے سے اکثر چنگھاڑنے کی کوشش کرتا رہتا ہے جبکہ فطرت کے اعتبار سے وہ چوہا ہے لہٰذا اس کی آواز چوہے کی طرح ہی نکلتی ہے۔
پاکستان میں محنت کشوں کے کنونشن سے مفرور نواز شریف نے بھی اپنی کمیں گاہ سے خطاب کیا۔ پاکستان واپس آنے کی تو نہ اسمیں ہمت ہے اور نہ ہی علاج کے بہانے ملک سے اور ملک کے قانون سے فرار ہوتے وقت اس کی نیت واپسی کی تھی۔ بزدل کی نشانی یہی ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ ایسے محفوظ فاصلے سے وار کرتا ہے جب وہ گرفت سے باہر ہو۔ بزدل ہونے کے ساتھ ساتھ بے غیرتی بھی اس خود ساختہ شیر پنجاب میں اس بلا کی ہے کہ اس کو جنم دینے والی ماں نے لندن میں آخری سانس لی لیکن اس ماں کی میت کے ساتھ بھی یہ بے شرم وطن واپس نہیں آیا اورنہ ہی ان کی اس ماں کے پوتوں کو یہ توفیق ہوئی کہ ان میں سے کوئی میت کے ساتھ لاہور آجاتا۔ باپ بیٹوں نے وہیں سے ہوائی کارگو کے سپرد میت کردی کہ اب تم جانو ہم تو اپنی کمیں گاہ سے نہیں نکلیں گے!
تو خیر محنت کشوں کے کنونشن کو استعمال کرکے نواز نے ایک بار پھر اس فوجی قیادت کے خلاف ہرزہ سرائی کی جس نے اس موٹی عقل والے بد دیانت اور بے ایمان کو پاکستانی قوم کے سروں پہ مسلط کیا تھا۔ اوّل تو یہ بات ہی عجیب ہے کہ نواز جیسا محنت سے جان چرانے والا محنت کشوں سے خطاب کرے لیکن پھر وہی بات ہے کہ بے شرم کب یہ سوچتے ہیں کہ وہ کس سے کلام کررہے ہیں اور کیا کہ رہے ہیں!
فوجی قیادت کے خلاف زہر اگلنے کو نواز جیسے غیرت و شرم سے عاری سزا یافتہ اور مفرور مجرم نے اپنا وطیرہ بنالیا ہے اور یہ بھی اس کے بے پیندے کے ہونے کی علامت ہے۔ کم ظرف کی یہی تو خاص نشانی ہے کہ وہ سانپ کی طرح اسی ہاتھ کو ڈستا ہے جس نے اسے دودھ پلایا ہو۔ نواز کا ماضی تو کھلی کتاب ہے کہ باپ نے جرنیلوں کی جو خدمت کی تھی تو اس مصاحبی کے صلہ میں یہ انعام ملا کہ ان کا نالائق بیٹا پنجاب کا وزیر مالیات بنادیا گیا اور پھر بے ایمان سپوت نے مال ہی مال بنایا اتنا بنایا کہ پاکستان کو کنگال کردیا اور جو تھوڑا بہت بچا رہ گیا تھا اسے وہ ڈاکو زرداری صاف کرگیا۔
نواز کے زہر کو پاکستان کے روایتی نیوز میڈیا نے تو شہ سرخیوں کے ساتھ الم نشرح کیا اور خوب اچھالا کہ ان کو اسی کام کیلئے لوٹے ہوئے مال میں سے جھولیاں بھر بھر کے دیا جاتا ہے لیکن اللہ بھلا کرے سوشل میڈیا کا کہ وہ نہ کبھی لگی لپٹی رکھتا ہے نہ ہی اس بیان کو اس نے نظر انداز کیا، اور اگر نظر انداز کیا ہوتا تو اس کا مطلب نواز جیسے کم ظرف اور احسان فراموش کو ہوا دینا اور اس کا حوصلہ بڑھانے والی بات ہوتی۔
ہمیں اس موقع پہ کچھ عرصہ پہلے کی ایک سوشل میڈیا کی پوسٹ یاد آگئی جو ایسی لاجواب تھی کہ منٹوں میں وائرل ہوگئی تھی۔ لکھنے والے کی بذلہ سنجی کی داد دیئے بغیر رہنا ویسے بھی ناممکن تھا۔ سو لکھنے والے نے کیا خوب لکھا تھا کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ علامہ اقبال نے پاکستان بنانے کا خواب دیکھا تھا تو اگر علامہ کو ذرا سا بھی یہ احساس ہوجاتا کہ ان کے پاکستان پر نواز اور زرداری جیسے چور اور ڈاکو حکومت کرینگے تو وہ ضرور وہ رات جاگ کر گزاردیتے جس رات انہوں نے یہ خواب دیکھا تھا!
بات بھی کیسے پتے کی کہی لکھنے والے نے۔ ہم خود بھی ایک مدت سے یہ کہتے آئے ہیں کہ دونوں بانیانِ پاکستان، علامہ اقبال اور قائد اعظم، جہانِ بالا میں سخت آزردہ اور پریشان رہتے ہونگے اس ملک کی حالتِ زار دیکھ دیکھ کر جسے قائم کرنے کیلئے انہوں نے اپنی زندگیاں وقف کردی تھیں۔ کیسی بدنصیبی ہے اس قوم کی جسے بنانے والے ایسے قد آور زعیم تھے لیکن جس پر کیسے کیسے چھٹ بھئیے اور اٹھائی گیرے حکومت کرکے گئے ہیں!
اور اب جب پاکستان کو قدرت نے عمران خان کی شکل میں ایک اور موقع فراہم کیا ہے کہ وہ اٹھائی گیروں اور نوسربازوں کو کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دے، جو ان چوروں کی اصل جگہ ہے، اور اس قائد کی قیادت میں جو پاکستان کے بانیان کی طرح دیانتدار بھی ہے اور مخلص بھی، اپنا سیاسی قیادت کا قبلہ درست کرے اور ایک نئے جوش اور جذبے کے ساتھ پھر اس صراطِ مستقیم پر سفر شروع کرے جس کی نشاندہی اقبال اور قائدِ اعظم کرگئے تھے تو یہ بے غیرت اور قوم کے دشمن سیاسی گماشتے سب ایک پلیٹ فارم پر سانپوں کی مانند جمع ہوگئے ہیں اور عمران کو ڈسنا چاہتے ہیں تاکہ لوٹ مار کرنے کیلئے ان کا راستہ صاف ہوجائے!
ہمیں اس مقام پر قدیم تاریخ کا ایک معروف کردار یاد آگیا جس کا تعلق سلطنتِ رومہ سے تھا۔ مارکس اوریلیس کو تاریخ فلسفی بادشاہ کے نام سے یاد کرتی ہے اور درست کرتی ہے کہ سلطنتِ روم کی عظیم تاریخ میں اس جیسا فہم و فراست اور دیانت دار حکمراں اور دوسرا کوئی نہیں ہوا۔ تو سنئے مارکس اوریلیس نے کیا کہا تھا اور میری دانست میں جو کہا تھا وہ ایسا ہے کہ اسے سنہری حروف میں لکھا جائے:
’’جب مانے ہوئے بدقماش اور کرپٹ لوگوں کا ایک گروہ ایک فرد کے خلاف متحد ہوجائے اور اسے ہر طرح سے مطعون کرے، بلیک میل کرے اور اس کی کردار کشی کرے تو ایسے فرد کی آنکھ بندکرکے پیروی کرو اور اس کے پیچھے چلو‘‘
اوریلیس نے یہ بات دو ہزار برس پہلے کہی تھی لیکن آج کے پاکستان کے تناظر میں یہ بات کتنی کھری ہے، کتنی سچی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ وہ کون ہیں، کس کردار کے مالک ہیں جو آج عمران کا تختہ الٹنے کیلئے چوہوں کی طرح اپنے اپنے بلوں سے نکل آئے ہیں صرف اسلئے کہ اس بدنصیب قوم سے لوٹی ہوئی دولت کو بچا سکیں۔ اس گروہِ منافقین کی سربراہی وہ پانچوں عیب شرعی ملا کررہا ہے جس کی منافقت اور بے ایمانی کی داستانیں زباں زدِ عام ہیں اور بقیہ گروہِ منافقین میں سب سے نمایاں ایک نواز چور کی خودسر بیٹی ہے تو دوسرا ڈاکو زرداری کا خواجہ سرا بیٹا ہے۔ یہ عقل و خرد کے ٹٹ پونجئے، یہ سیاست و قیادت کے دعویدار نوسرباز، کس منہ سے جمہوریت کی پاسبانی کے نعرے لگاتے ہیں جب ان کی رگوں میں پاکستان کو لوٹنے والے رہزنوں کا خون گردش کر رہاہے!
جس دن نواز نے فوجی قیادت کے خلاف زہر افشانی کی وہ ۶ دسمبر کا وہ تاریخ ساز دن تھا جب آج سے ۸۲ برس پہلے بھارت میں ایودھیا کے شہر میں تاریخی بابری مسجد کو شہید کیا گیا تھا۔ آج ہم پورے پاکستانی میڈیا کو کھنگالتے رہے اس امید پر کہ شاید جمہوریت کے کسی منہ بولے پاسبان کو بابری مسجد کا سانحہ یاد ہو اور اس نے بھارت کی اسلام دشمن حکومت کی مذمت میں کوئی ایک جملہ کہا ہو، کوئی بیان دیا ہو لیکن آنکھ ترس ترس گئی کسی ایسے بیان کو جو مودی سرکار کی مسلم اور اسلام دشمن پالیسی اور حکمرانی کے بارے میں ایسی کوئی بات کہے جو ملک و قوم کے یہ دشمن ہر دوسرے تیسرے روز اپنی فوجی قیادت کو مطعون کرنے کیلئے داغ دینا اپنے لئے فخر کی بات سمجھتے ہیں!
اور یہ توقع رکھنا کہ نواز مودی سرکار یا بھارت کی اسلام دشمنی کے خلاف کوئی بیان دیگا ایسے ہی جیسے نیم کے پیڑ پہ آم لگنے کا کوئی خواب دیکھے۔ نواز کے بیٹے پاکستان دشمن بنیوں کے ساتھ کاروبار کر رہے ہیں اور خود بھی فطرت سے بنیئے ہیں۔ یہ ساہوکار ہیں انہیں صرف اپنے مال اور فائدے سے پیار ہے ملک تو صرف نعرے لگانے کیلئے ہے اور ملک کے عوام صرف بیوقوف بنانے کیلئے ہیں!
عمران خان اور ہماری عسکری قیادت دونوں نے اس گروہ منافقین کی ہرزہ سرائی اور ملک دشمن تقریروں کے جواب میں جس صبر و ضبط کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابلِ داد اور لائقِ ستائش ہے لیکن پانی اب سر سے اونچا ہوچلا ہے، خاص طور پہ اس اعتبار سے کہ یہ عوام دشمن اپنی عصبیت اور منافقت کے ہاتھوں اندھے ہوکر جو عوامی جلسے کررہے ہیں اس سے ملک میں کووڈ وائرس بھی ایک انتقامی جوش سے یوں لگتا ہے کہ پلٹ پلٹ کر حملہ آور ہورہا ہے۔ پاکستان میں عمران کی قیادت میں حکومت نے اس موذی وائرس کے خلاف دفاع میں بہت کامیابی پائی تھی اور پاکستان کی اس کامیابی پر دنیا نے اسے سراہا تھا اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے پاکستان کو ان چند ممالک کی صف میں شامل کیا تھا جہنوں نے اس وبا کے خلاف بہترین تدابیر اختیار کی تھیں لیکن اب ان جلسوں میں جو ہزاروں لوگ آرہے ہیں بلکہ یوں کہنا زیادہ درست ہوگا کہ زبردستی لائے جارہے ہیں اس ماحول میں وائرس کے پھیلنے کیلئے بہترین موقع ہے اور یہی وجہ ہے کہ غیر متوقع طور پر ملک میں پھر سے وبا شدت سے پھیل رہی ہے۔ اس کیلئے تمام تر ذمہ داری اس منافق گروہ پر عائد ہوتی ہے لیکن یہ چکنے گھڑے اتنے بے شرم ہیں اور ملک دشمنی میں اتنے اندھے ہوچکے ہیں کہ یہ اب بھی بضد ہیں کہ وہ لاہور میں ۳۱ دسمبر کو جلسہ کرینگے اور اس کے باوجود کرینگے کہ پنجاب حکومت نے تمام اجتماعات پر پابندی عائد کردی ہے۔
ہمیں اب یہ دیکھنا ہے کہ اس بار حکومت اپنے آپ کو منواتی ہے یا ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر کسی مجبوری یا مصلحت کو جواز بنا کر ان چوروں کو ایک اور موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ اپنا زہر پھیلاتے رہیں۔ لیکن عمران کو یہ سوچنا چاہئے، اور سوچنا پڑیگا، کہ یہ عوام کی صحت اور سلامتی کی بات ہے اور اس پر کسی اور بات کو ترجیح دینا ملک و قوم کے خلاف دشمنی کے مترادف ہوگا۔
قوم کیلئے بھی اس میں سبق ہے۔ ہم نے مارکس اوریلیس کا قولِ صادق نقل کیا تو یہ تاریخی حقیقت بھی بیان کردیں کہ اسے اپنی حق گوئی اور صداقت کی قیمت اپنی جان سے دینی پڑی جبکہ اس کے دشمنوں نے اسے اسی کے ایک غلام کے ہاتھوں قتل کروادیا لیکن یہ تو وہ قیمت ہے جو تاریخ گواہ کہ حق و صداقت کے ہر علمبردار کو ادا کرنی ہوتی ہے۔ ہم نے کالم کا آغاز سوشل میڈیا کی حق گوئی سے کیا تھا تو اختتام بھی اسی پر کرتے ہیں۔ حق گوئی کی قیمت انسان تو کیا جانور بھی ادا کرتے ہیں۔ آج سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ دیکھی کہ کسی نے بانگ دیکر صبح کا اعلان کرنے والے مرغے سے کہا، تم اپنی بانگ سے سوئے ہوئوں کو جگاتے ہو لیکن پھر بھی لوگ تمہیں ذبح کردیتے ہیں۔ کیوں؟ اور جواب میں جو مرغے نے کہا وہ بھی جلی حروف میں لکھنے والا ہے۔ اس نے کہا، سوئے ہوئوں کو جگانے کی یہی قیمت ہوتی ہے! ہم دعا کرتے ہیں کہ سوئی ہوئی پاکستانی قوم کو جگانے کی کوشش کرنے والے عمران کو اللہ نہ کرے جو ایسی کوئی قیمت ادا کرنی پڑے!
أأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأ