رشوت کے خلاف جہاداورمولانا فضل الرحمن کی منافقت؟

285

پاکستان پر اللہ نے مہربانی کی کہ اسکو ایک ایماندار اور ہمدرد حکمران دے دیا جو نہ خود کھاتا ہے اور نہ کھانے دیتا ہے۔ اور اس پر طرہ یہ کہ وہ راشیوں کے بھی خلاف ہے۔ اور کرپشن کے خلاف جہاد بھی کر رہا ہے۔ اسکی دیدہ دلیری دیکھو کہ بجائے اس کے کہ چھوٹے موٹے نچلے درجے کے ملازمین کو رشوت خوری کے الزام میں پکڑنے کے اس نے سیدھا ہی رشوت کے سب سے بڑے سر پرست اور راشیوں کے بادشاہ، ملک کے وزیر اعظم نواز شریف پر ہاتھ ڈال دیا۔ بات درست تھی اور دلیرانہ بھی۔ کیونکہ نواز شریف، ان کے اقرباء اور چیلے چانٹے ،نا صرف کرپٹ افسران اور سیاستدانوں کی پردہ پوشی کرتے تھے بلکہ بہتی گنگا میں خود بھی ہاتھ دھو تے تھے۔ مثلاً اپنے جلسے جلوسوں کے اخراجات ان ٹھیکداروں سے کرواتے تھے جن کو خاص مہربانی سے سرکاری ٹھیکے دیئے جاتے تھے۔ اور بھی اس قسم کے بہت سے کام۔ مثلاً سیاسی فوائد کے لیے سرکاری بھرتیاں کرنا،اپنی جائیدادوں کی سرکاری خزانے سے مرمتیں کروانا، سستی زمینیں لینا، اور رشتہ داروں کو سرکاری مراعات سے نوازنا، ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ اور وہ ان حرکات کو کرپشن کے زمرہ سے باہر بھی سمجھتے تھے۔پٹواری حضرات جو عوام الناس اور حاجتمندوں کا چھوٹے سے چھوٹا کام بھی بغیر رشوت نہیں کرتے تھے اور کرتے ہیں، اور تقریباً سب ہی سرکاری اہلکار نواز شریف کے پجاری تھے۔انکی نظر میں نواز شریف سے اچھا کوئی حکمران نہیں تھا۔ اگرچہ تقریباً ہر حکمران کسی نہ کسی سطح پر وہی کام کرتا تھا۔اگر کوئی ان سے بڑا مہربان ہو سکتا تھا تو وہ پی پی پی کے زرداری صاحب جو ڈنکہ کی چوٹ پر بھتہ لیتے تھے۔اور اس معاملے میں شریف فیملی سے دو ہاتھ آ گے تھے۔زرداری صاحب تو صوبائی خزانہ کو بھی کھلم کھلا لوٹتے تھے۔ہر سرکاری ٹھیکہ میں انکا حصہ لازمی تھا۔ ان کے ساتھی سیاستدان اور ماتحت سرکاری افسران کیوں پیچھے رہتے؟ یہی وہ اسباب تھے جن کی وجہ سے کراچی بلکہ سارا سندھ ترقی معکوس کرتا رہا ہے۔سنا ہے کہ فوجی حکومتوں کے دوران بھی اس وبا سے نجات نہیں ملتی تھی۔ کچھ فوجی حکمرانوں نے، جیسے جنرل ایوب خان نے، کوشش کی کہ راشی افسروں کو پکڑا جائے اور سروس سے نکالا جائے لیکن اس باوجود اس کے کہ بہت سے افسر نکالے گئے، لیکن اس عمل سے سرکاری افسروں میں کرپشن ختم نہیں ہوئی۔رشوت کی آمدنی وہ خون کی چاٹ تھی جو چھٹائے نہیں چھٹتی تھی۔
ان حالات میں ہمارے مذہبی رہنماوں کا کیا رویہ تھا؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ قران اور سنت کی روشنی میں اس کا جواب یہ علماء ہی دے سکتے ہیں۔ اگر جان کی امان ملے تو یہ راقم کچھ رائے زنی کرنا چاہتا ہے۔اگر کوئی غلط بیانی سر زد ہو جائے تو معافی کا خواستگار ہوں۔
حکمرانوں کو نذر و نیاز ،تحائف وغیرہ دینا قران مجید میں سختی سے منع کیا گیا ہے۔ہم صرف تین آیات کا ذکر کرتے ہیں، جو معنی خیز ہیں۔پہلی آیت قران مجید کی دوسری سورت البقرہ کی ۱۸۸ ویں ہے:
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ـ’’اور تم ایک دوسرے کا مال آپس میں نا حق نہ کھایا کرو اور نہ مال کو (بطور رشوت) حاکموں تک پہنچایا کرو کہ یوں لوگوں کے مال کا کچھ حصہ تم (بھی) ناجائز طریقے سے کھا سکو حالانکہ تمہارے علم میں ہو (کہ یہ گناہ ہے)ـ‘‘۔ اسی آیت کا زیادہ آسان فہم ترجمہ مولانا مودودی کا ہے:’’ اور تم لوگ نہ آپس میں ایک دوسرے کے مال ناروا طریقے سے کھائو اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض سے پیش کرو کہ تمہیں دوسروں کے مال کا کوئی حصہ قصداً ظالمانہ طریقے سے کھانے کا موقع مل جائے۔‘‘ مولانا مودودی کی تفسیر اس آیت کے مفہوم کو اچھی طرح واضح کر دیتی ہے۔’’حاکموں کو رشوت دے کر نا جائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرو۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جب تم خود جانتے ہو کہ مال دوسرے شخص کا ہے، تو محض اس لیے کہ اس کے پاس اپنی ملکیت کا ثبوت نہیں ہے یا اس بنا پر کہ کسی اینچ پینچ سے تم اس کو کھا سکتے ہو، اس کا مقدمہ عدالت میں نہ لے جائو۔ ہو سکتا ہے کہ حاکم عدالت روداد مقدمہ کے لحاظ سے وہ مال تمہیں دلوا دے۔ مگر حاکم کا ایسا فیصلہ دراصل غلط بنائی ہوئی روداد سے دھوکہ کھا جانے کا نتیجہ ہو گا، اس لیے عدالت سے اس کی ملکیت کا حق حاصل کر لینے کے باوجود حقیقت میں تم اس کے مالک نہ بن جائو گے۔ عنداللہ وہ تمہارے لیے حرام ہی رہے گا‘‘۔ اس تفسیر کے حق میں مولانا نے ایک حدیث بھی پیش کی ہے جس کا مفہوم بھی کم و بیش یہی ہے۔
دوسری آیت پانچویں سورت المائدہ کی ۶۲ویں آیت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: (ترجمہ و تفسیر مولانا موددودی)’’تم دیکھتے ہو کہ ان میں سے بکثرت لوگ گناہ اور ظلم کی زیادتی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں اور حرام کے مال کھاتے ہیں۔ بہت بری حرکات ہیں جو یہ کر رہے ہیں۔‘‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ مولانا مودودی نے اس آیت کریمہ پر ، اور اس کے بعد کی آیت پر تبصرہ یا تفسیر کرنے سے گریز کیا ہے۔ ہماری نظر میں یہ نہایت افسوسناک بات ہے کہ اتنے اہم موضوع پر اپنی زبان نہ کھولنا اور خاموشی سادھ لینا اتنے بڑے مولانا کو ہر گز زیب نہیں دیتا۔
تیسری آیت اسی سورت کی ہے نمبر ۶۳: ’’کیوں ا نکے علماء اور مشایخء انہیں گناہ پر زبان کھولنے اور حرام کھانے سے نہیں روکتے؟ یقینا بہت ہی برا کارنامہ زندگی ہے جو وہ تیار کر رہے ہیں‘‘۔
مولانا نے اس آیت پر بھی کوئی تفسیر بیان نہیں کی۔ وہابی مترجموں نے سیدھا سیدھا یہودی ملائوں کو ذمہ وار بنا ڈالا۔ یعنی مسلمانوں کے علماء اور مشایخ پر کوئی ذمہ واری نہیں آتی کہ وہ بھی اس حرام کی آمدنی اور اس میں ملوث حضرات کو تنبیہ کریں۔ اس حرکت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مترجم اور تفسیر کنندہ کو اپنے عہد کے حکمرانوں کے عتاب کا بھی خیال کرنا پڑتا تھا۔ جیسے مولانا مودودی نے، ممکن ہے کہ انگریزوں کے دور حکومت میں یہ تفسیر لکھی ہو اور اس وجہ سے اس آیت کی تفسیر لکھنے سے گریز کیا ہو؟ نہ سعودی عرب کے مترجم کہنا چاہتے تھے کہ سعودی حکمرانی میں کرپشن ہو رہی ہے۔لیکن حقیقت بالکل واضح ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہر دور، ہر فرقہ اور ہر حکومت پر لاگو ہے۔ پاکستان کے ملا اور مفتی یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ آیت تو فلاںحکومت اور فلاں فرقہ کے بارے میں تھی۔اس لیے ہم رشوت کے خلاف کیوں آواز اٹھائیں۔ یہ صریحاً بد دیانتی ہو گی۔
کیا ہم یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ کیوں پاکستان کے مذہبی رہنما، ملا، مولانا، مفتی اور علماء رشوت کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے؟ نہ صرف یہ بلکہ وہ تو اس حکومت کے بھی خلاف بولتے ہیں جو کرپشن اور رشوت کے خلاف جہاد کر رہی ہے۔ مذہبی جماعتوں کے رہنما اس حکومت کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے سے باز نہیں آتے۔ کیا جماعت اسلامی کے امیر مولانا سراج الحق ہر دوسرے دن عمران خان پر بہتان تراشی نہیں کرتے؟ اور تو اور، مولانا فضل الرحمن، جمعیت علمائے اسلام کے صدر، حکو مت کی مخالفت میں کئی ہاتھ آگے نہیں چلے گئے ؟ بجائے حکم خداوندی پر عمل کرنے کے اور کرپشن کے خلاف جہاد میں حکومت کا ساتھ دینے کے، وہ حکومت گرانے کی مہم کے ایسے ٹولے کی سربراہی کر رہے ہیں جس میں پاکستان کے سب سے بڑے راشی ، مجرم ، حرام کھانے والے اور حرام کی آمدنیوں کے بڑھانے میں مدد گاربننے والے شامل ہیں۔یہ حضرات جب اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے، تو کیا منہ دکھائیں گے؟اس کی ایک ہی توجیہ سمجھ آتی ہے کہ ان مردودوں کو نہ آخرت پر ایمان ہے اور نہ اللہ کی کتاب پر۔ ورنہ یہ اتنی مکروہ حرکات کیوں کرتے؟
حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے مولوی صاحبان، علماء، مولانا، اور مفتی صدیوں سے ان مسلمانوں کو جو عرب نہیں ہیں ، قران مجید پڑھنے کی ہدایت دیتے رہے ہیں، لیکن اس کا ترجمہ پڑھنے کی نہیں ۔ انہوں نے قران مجید کو ، جو کہ ایک ہدایت کی کتاب ہے، اسے تلاوت کی کتاب بنا دیاہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ خود بھی بس تلاوت کرتے ہیں اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور اگر سمجھتے ہیں تو اس پر عمل کرنے کی نہیں۔یا یہ صرف اس بندہ حقیر پُر تقصیر کی غلط فہمی ہے؟
جب ملتان کے جلسہ میںمولانا نے اپنے مدرسوں کے طلباء کو حکم دیا کہ’’ اگر تمہیں پولیس ڈنڈے مارے تو تم بھی آگے سے ڈنڈے سے جواب دو‘‘ تو اس راقم کو اللہ کی کتاب سے ایک آیت یاد آ گئی۔ یہ ساتویں سورت (الاعراف) کی۵۶ ویں آیت ہے، جس کا ترجمہ ہے (مولانا مودودی): ’’زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہو چکی ہے، اور خدا ہی کو پکارو خوف کے ساتھ ا ور طمع کے ساتھ،‘‘ ۔ مولانا اس آیت کی تفسیر فرماتے ہیں: ’’زمین میں فساد برپا نہ کرو، یعنی زمین کے انتظام کو خراب نہ کرو۔ انسان کا خدا کی بندگی سے نکل کر اپنے نفس کی یا دوسروں کی بندگی اختیار کرنا اور خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنے اخلاق، معاشرت اور تمدن کو ایسے اصول و قوانین پر قائم کرنا جو خدا کے سوا کسی اور کی رہنمائی سے ماخوذ ہوں، یہی وہ بنیادی فساد ہے جس سے زمین کے انتظام میں خرابی کی بے شمار صورتیں رونما ہوتی ہیں۔ اور اسی فساد کو روکنا قران کا مقصود ہے‘‘۔ مولانافضل اچھی طرح جانتے ہیں کہ قانون اور آ ئین کی رو سے پاکستان میں ایک حکومت بن چکی ہے اور اس کو پانچ سال تک کام کرنے کا حق حاصل ہے۔ اب اس حکومت کے انتظام میں فساد کرنا ، صرف اپنے نفس کے لیے، کیا حکم خداوندی کی مخالفت نہیں ہے؟ کاش کہ مولانا قران مجید کو سمجھ کر پڑھیں، اور اللہ سبحان و تعالیٰ کے فرمان پر عمل کریں تا کہ آخرت میں اپنے رب کے سامنے سرخرو ہوں۔اور چوروں، لٹیروں، اور راشیوں کے ان گروہوں کی رہنمائی سے باز آئیں۔بلکہ رشوت کے خلاف مہم میں حکومت کے ساتھی بن جائیں۔