جاگ پنجابی جاگ ،تیری پگ نوں لگ گیا داغ، نواز لیگ یاس اور مایوسی کی انتہا پر پہنچ گئی

324

جلسوں، جلوسوں اور ریلیوں کے کسی قسم کے اثرات موجودہ حکومت پر قطعاً نہیں پڑ رہے، مجرمان کے ٹولے یعنی پی ڈی ایم کی مایوسی اور ڈپریشن اپنی انتہا کو پہنچنا شروع ہو گئی ہے، ایک طرف لوگوں اور میڈیا کی جانب سے کووڈ کے باوجود عام پبلک کی زندگیوں کو دائو پر لگانے پر ان چوروں کے ٹولے پر لعن طعن ہورہی ہے تو دوسری طرف ہر کچھ دن بعد آنے والے بین الاقوامی سروے اور جائزوں میں عمران خان کی حکومت کے حق اور اپوزیشن کے خلاف عوامی رائے عامہ کے نتائج نے اپوزیشن کو تقریباً حواس باختہ کر دیا ہے، وہ کیا کہتے ہیں کہ نہلے پر دہلے کے مصداق بھگوڑے سسرے اسحاق ڈار کے بی بی سی کو دئیے گئے شرمندگی اور شرمساری سے بھرپور انٹرویو نے اپوزیشن اور خاص طور سے نواز لیگ کی رہی سہی کسر نکال کر رکھ دی ،نتیجے کے طور پر نواز لیگ ہر اس جائز ناجائز حربوں پر اتر آئی ہے اور وہ طریقے اختیار کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے صوبائیت اور تعصبات کو ہوا دی جارہی ہے،لاہور کے مینار پاکستان کے جلسے کو ہر قیمت پر بھرنے کے لئے گھٹیا ترین نعرے لگائے جارہے ہیں، اس ہفتے نواز شریف کے رشتے دار اور نیب کے ملزم سعد رفیق نے اہل پنجاب کو بھڑکانے کیلئے پنجابیت کا نعرہ لگایا، انہوں نے ایک سے زائد جلسوں میں کہا کہ پنجابیوں تمہاری غیرت کو کیا ہو گیا ہے، باہر نکلو اور سڑکوں پر آئو، جلسہ گاہ کو پنجابیوں سے بھر دو، ایک ن لیگی ایم این اے اور سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے منہ سے پنجابیت کے حوالے سے اور پنجابیوں کے لہو کو گرمانے کے لئے وہ وہ الفاظ اور نعرے نکلے جن کو احاطہ تحریر میں لانا ممکن نہیں، ’’جاگ پنجابی جاگ‘‘ کا نعرہ کچھ نیا نہیں ہے اور اس سے قبل میاں نواز شریف بھی ماضی میں پنجابیوں کا خون گرم کرنے کے لئے یہ نعرہ لگا چکے ہیں، اس قسم کے سیاستدان اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ پاکستان صرف پنجابیوں کا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ دیگر بقیہ صوبوں کے عوام پنجابی اور پنجاب مخالف جذبات رکھتے ہیں، یقینا اہل پنجاب کی یہ چند بے ضمیر سیاستدان ہر گز ترجمانی نہیں کرتے ان چند کالی بھیڑوں اور مفاد پرست سیاستدانوں کی وجہ سے سارے پنجابیوں پر تعصب کا الزام لگ جاتا ہے اور ان ہی بے غیرت سیاستدانوں کی وجہ سے سقوط ڈھاکہ سے پہلے مشرقی پاکستان کے بنگالی پاکستانی فوج کو پاکستانی نہیں بلکہ پنجابی فوج کہتے تھے یہاں تک کہ ہر غیر بنگالی اور مغربی پاکستانی کو وہ پنجابی کہتے تھے ،بھلے چاہے وہ کراچی کا ہو یا پشاور کا، بدقسمتی سے پاکستان میں جس کسی سیاستدان کو بھی اپنے مفاد کو حاصل کرنے کے لئے مشکلات کا سامنا ہوتا ہے تو وہ قوم پرستی اور صوبائیت کا نعرہ لگانے سے گریز نہیں کرتا، سندھ میں پیپلز پارٹی سندھ پرستی کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آتی ہے، کراچی اور حیدر آباد میں ایم کیو ایم، مہاجر قوم پرستی کا نعرہ لگا کر ووٹ بنک بناتی ہے، خیبرپختونخوا میں نیب یا اے این پی پختون کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آتے ہیں اور بلوچ قبائلیوں کا تو سیاست کا دارومدار اور بلیک میلنگ کا طریقہ ہی بلوچستان کا نعرہ ہے مگر افسوس کہ پاکستان اور پاکستانی کا نعرہ لگانے والوں کا فقدان ہوتا جارہا ہے، نتیجتاً پیپلز پارٹی، نواز لیگ اور اے این پی صرف صوبائی جماعتیں ہو کر رہ گئی ہیں، ابھی تک صرف تحریک انصاف نے اپنے آپ کو کسی مخصوص صوبے یا قومیت سے وابستہ نہیں کیا ہے مگر اب آگے دیکھئے کہ مستقبل میں کیا ہوتا ہے، صد افسوس کہ ایک جلسے کو بھرنے کی خاطر خواجہ سعد رفیق، خواجہ آصف، میاں برادران اور دیگر کم ظرف سیاستدان پاکستانیت کو دائو پر لگاتے ہوئے پنجابیت کا کارڈ کھیل رہے ہیں، مگر کب تک؟ اب یہ گھنائونا کھیل ختم ہونا چاہیے۔