عمران حکومت کا جہیز پر پابندی لگانے کا فیصلہ – عمران خان نے وزارت مذہبی اْمور کو قانون سازی جلد از جلد ختم کرنے کی ہدایت

240

وفاقی حکومت نے جہیز پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرلیا ہے، اور وزارتِ مذہبی امور نے جہیز کے خاتمے سے متعلق قانون سازی پر کام شروع کردیا ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت دولہے کا خاندان مہنگے فرنیچر، گاڑیوں، زمین جائداد یا زیورات کا مطالبہ نہیں کرسکے گا۔ خبر کے مطابق یہ قانون دلہن کے اہلِ خانہ کے اس اضافی بوجھ کو کم کرے گا جو روایتی رسم و رواج کی وجہ سے انہیں برداشت کرنا پڑتا ہے۔
جہیز کی حوصلہ شکنی کے لیے اسے ایک لعنت قرار دیا جاتا ہے، لیکن دوسری طرف پاکستانیوں کی اکثریت جہیز دینے کے حق میں ہے۔ ’پلس کنسلٹنٹ‘ نے دو ہزار سے زائد افراد کی آراء پر مبنی نیا سروے جاری کیا ہے جس کے مطابق 61 فی صد پاکستانی شادیوں میں جہیز دینے کے حامی ہیں اور حکومت سے اجازت دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 36 فی صد نے جہیز دینے کی مخالفت کی۔ سروے میں جہیز دینے کی اجازت کے حق میں 73 فی صد خواتین نے آ واز اٹھائی ہے، جبکہ صرف24 فی صد نے مخالفت کی ہے۔ اسی طرح مردوں میں جہیز دینے کی حمایت 59 فی صد نے کی ہے۔ یہ سروے بتاتا ہے کہ ہندو رسم و رواج کے تحت ہمارے معاشرے میں سرایت کرنے والی جہیز کی رسم وقت کے ساتھ ساتھ پھل پھول کر ایک ناسور بن چکی ہے۔ برصغیر میں بیٹی کی شادی میں والدین کی طرف سے دیا جانے والا سامان جہیز کہلاتا تھا۔ بدقسمتی سے یہ رسم ہمارے معاشرے میں تاریخی طور پر موجود ہے۔
ہم ایسے معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں کہ جس میں آ دھے سے زیادہ مرد وخواتین تو خواندہ ہی نہیں ہیں، یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خواندگی کی شرح 58 فی صد ہے، اور ان 58 فی صد میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اپنا نام لکھنے کے سوا کچھ بھی نہیں جانتے۔ اگر بین الاقوامی معیار کے مطابق ہماری شرح خواندگی کو دیکھا جائے تو ایک سروے کے مطابق یہ شرح محض 30 فی صد رہ جاتی ہے۔ علم و شعور تعلیم و تربیت سے ملتا ہے، ہمارے یہاں نہ تعلیم ہے اور نہ تربیت ہے۔ گھر میں ماں کی جگہ موبائل نے لے لی ہے اور ہمارا استاد جیسی تیسی بھی مادی تعلیم دے رہا ہے اْس کے اندر اخلاق کا چیپٹر ہی موجود نہیں، یا اس کے اثرات موجود نہیں ہیں۔ جب علم و شعور موجود ہی نہیں ہوگا تو جو طرزِعمل اور رویّے عام طور پر اپنائے جاتے ہیں لوگ انہی کو قبول اور اختیار کرتے ہیں، اور ویسا ہی بننا چاہتے ہیں۔ معاشرے میں عزت کمانے کے دو ہی طریقے ہیں: یا توآپ کے پاس طاقت ہو، یا پھر پیسہ ہو۔ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ بہت سا جہیز لے کر جائیں گے تو سسرال والے مرعوب ہوں گے اور عزت و احترام دیں گے، اور آپ کے ساتھ ظلم و زیادتی نہیں کریں گے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ وطنِ عزیز اور پڑوسی ملک بھارت میں بھی ہزاروں لاکھوں لڑکیاں صرف اسی جہیز کی وجہ سے گھر بیٹھی رہتی ہیں یا شادی کے بعد سسرال کے ظلم وستم کا نشانہ بنتی ہیں۔ پھر دوسری طرف یہ بھی دیکھنے میںآتا ہے کہ قیمتی جہیز لانے والی لڑکیاں احساسِ تفاخر کی بیماری میں مبتلا ہوکر اپنی ازدواجی زندگی میں تلخیاں اور مشکلات پیدا کرلیتی ہیں، اور بات رشتے ٹوٹنے تک جا پہنچتی ہے۔ لیکن وہ خوبیاں جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے، کسی کے پیشِ نظر نہیں ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہماری زندگی کے لیے نمونہ ہیں۔ آپ ؐ نے سیدنا علیؓ سے ان کی شادی کے موقع پر زرہ بیچ کر گھر کا ضروری سامان خریدنے کو کہا تھا۔ یہ وہ تیاری تھی جو سیدنا علیؓ نے اپنی شادی کے لیے خود کی۔ اللہ کے رسولؐ نے خود کبھی جہیز نہیں لیا، اور یہی طرزِعمل صحابہ کرام علیہم اجمعین نے بھی اپنایا۔ لیکن مغرب کی دی گئی خود غرضی کی تعلیم کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔ ہم اس وقت اخلاقی سماجی ذہنی پسماندگی کا شکار ہیں۔ ہمارے معاشرے کی عورت اور مرد جہیز کے حوالے سے اخلاقی دیوالیہ پن کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں۔ معاشرے کا اس سے زیادہ انحطاط کیا ہوگا کہ جو والدین اپنی اولاد کے مستقبل اور ان کی خوشی کے لیے بغیر کسی غرض کے اپنا تن، من، دھن لگادیتے اور اپنا سب کچھ قربان کردیتے ہیں، وہ خود بھی اپنی بیٹی کے لیے معاشرے کے چلن کے مطابق اْس کے سْکھ چین کے لیے جہیز کے نام پر اچھا سے اچھا دینا چاہتے ہیں۔ لیکن سروے یہ بتارہا ہے اور یہ واقعات ہمارے اردگرد موجود بھی ہیں کہ لڑکی خود والدین سے تقاضا کرتی ہے کہ اْسے جہیز چاہیے۔ یہ خودغرضی کی اس تعلیم و تربیت کا نتیجہ ہے جس میں صرف لڑکی یا جہیز لینے والے لڑکے کا قصور نہیں، بلکہ پورا سماج اس کا ذمے دار ہے۔ کیوں کہ وہ جیسا دیکھ اور سیکھ رہے ہیں وہی اپنا رہے ہیں۔ فرد اور معاشرہ ایثار، خلوص، احسان، مروت، جھکائو اور سپردگی سے پنپتا ہے، اور ان سب کا تعلق انسان کی تہذیب و تربیت سے ہوتا ہے۔ جس قسم کی انسان کی فکر ہو، وہ ویسا ہی بن جاتا ہے۔ مغربی مفکر ’’برفو‘‘ نے لکھا تھا کہ ’’اگر انسان بادلوں سے اونچا اْڑنے لگ جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ انسانیت کی سطح بھی اتنی ہی بلند ہوگئی ہے‘‘۔ مغرب نے محض مادیت کے نقطہ نظر سے دنیا کو تسخیر کرنے کی کوشش کی اور انسانیت کوگرا دیا، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہاں جیسے ہی اولاد بڑی ہوتی ہے اس سے جان چھڑانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اْس سے کہا جاتا ہے کہ اپنا کمائو اور اپنا کھائو۔ اور اولاد بھی آ زادی چاہتی ہے۔ غرض مغرب نے انسان کا درست تصورِ زندگی چھین لیا ہے۔ منظم مادہ پرستی نے زوال کو تیز کردیا ہے، اور ہم بھی ایک ایسے ہی مغربی معاشرے کی طرف بڑی تیزی سے قدم بڑھا رہے ہیں جس کا مقدر صرف تباہی ہے۔ یہ سروے دیگ کے چاول کا ایک دانہ ہے، اور اگر اہم سماجی ایشوز پر مزید سروے ہوں تو نتیجہ شاید زیادہ مختلف نہ ہو۔ اس کا بنیادی تعلق معاشرتی رویّے اور رجحانات سے ہے۔ ہمارے ڈراموں اور فلموں میں جو طرزِ زندگی پیش کیا جارہا ہے اس کا بہت گہرا اثر ہے۔ جس طرح کے شاندار گھر دکھائے جارہے ہیں، بوتیک کلچر، بڑی بڑی گاڑیاں، اور جس طرح سے شادیاں دکھائی جاتی ہیں اس سب سے ذہن پراگندہ ہوتے ہیں، اور یہ سروے ان سب کا مظہر ہے۔ ہمارا معاشرتی رویہ یہ بتارہا ہے کہ ہم اپنے مذہب، اپنی تہذیب اور اپنی تاریخ سے کتنی دور کھڑے ہیں، اور بدقسمتی سے ان تمام معاشرتی رویوں کو کوئی چیلنج کرنے والا بھی موجود نہیں ہے، اور معاشرہ زوال آ مادہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ یہ کوئی سادہ سی نظرانداز کرنے والی بات نہیں ہے، قوانین بنانا اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین، اساتذہ ، علما، دانشور، شاعر، ادیب، ذرائع ابلاغ اور بالخصوص ریاست اور حکومت کو سوچ کے زاویے تبدیل کرنے اور نوجوان نسل کو مغربی طرزِ زندگی سے باہر نکال کر اپنی تہذیب اور اپنی روایت کی طرف لانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ دوسری صورت میں مغرب اور اس کی تہذیب سب کچھ چاٹ جائے گی۔ مغرب نے مسلمانوں کو ان کی شاندار تہذیب سے بدظن کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، اور اقبال نے مغرب کو خوب پہچانا اور فرمایا؎
اقبال کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہے
ہر ملتِ مظلوم کا یورپ ہے خریدار!