یہاں یہ عالم ہے !وہاں اوپر ہونے والی ’’ہارڈ ٹاک‘‘ کا بھی سامنا کرنا ہے !!

332

الو ایک بڑا عقلمند پرندہ سمجھا جاتا ہے، وہ خود تو پتہ نہیں کدھر پرواز کرگیا اپنے پٹھے کو اس کمرے میں کرسی پر بٹھا گیا جہاں بی بی سی سے خبریں نشر کی جاتی ہیں کہہ گیا بیٹا انٹرویو دینا ہے، پٹھا جیسے ہی اپنی کرسی پر صحیح طریقے سے براجمان ہوا اور مدمقابل پر نظر پڑی تو دیوتا کوچ کر گئے وہ تو سمجھ رہا تھا کہ لفافیہ اینکر یا صحافی حامد میر وغیرہ میں سے کوئی انٹرویو لے گا مگر یہاں تو وزیر خزانہ حواس باختہ ہو گئے، جب ان کی نظر پڑی تو سامنے سیکرڈ اسٹیفن کو دیکھ کر پسینے چھوٹ گئے، وہ ’’ہارڈ ٹاک‘‘ کے مانے ہوئے انٹرویو کرنے والے ہیں، لوگوں کے آگے، پیچھے کے سب بخیے ادھیڑ کررکھ دیتے ہیں تو صاحب وزیر خزانہ کی حالت بڑی پتلی ہو گئی، پسینے چھوٹ گئے، انہیں یہ بخوبی علم تھا کہ اسٹیفن نے پوری معلومات جمع کی ہوں گی، پھر بھی موصوف نے ڈھٹائی کی انتہا کر دی، اس نے پوچھا کیا آپ تین سال سے لندن میں قیام پذیر ہیں، تو لرزتے ہوئے ہونٹوں اور سوکھی زبان سے الفاظ نکلے کہ میں لندن میں اپنا علاج کروارہا ہوں اسٹیفن نے برجستہ کہا دیکھنے میں تو آپ بالکل ٹھیک ٹھاک میرے سامنے بیٹھے ہیں، ایک سوال خاندان کی جائیداد کے بارے میں تھا تو فرمایا کہ میرے پاس پاکستان میں ایک گھر ہے جسے حکومت نے ضبط کر لیا ہے،ہائے اللہ یہ غریب فقیر وزیر خزانہ مظلوم معصوم جس کی بہت سی زمین اور جائیدادیں ہیں لندن، دبئی پاکستان ہر جگہ ہاتھ مارا ہوا ہے کیونکہ بے وقوف پاکستانیوں نے انہیں خزانے کی چوکیداری پر رکھا تھا، اب اگر ذات ہی خراب تو خزانے کو دیکھ کر رال ٹپکنا تو بنتا ہے، پھر سوال ہوا آپ پاکستان جا کر عدالتوں میں اپنے کیسوں کو کیوں ختم نہیں کرواتے، بڑا گھبرا کر جواب دیا وہاں نیب والے مار دیتے ہیں، شہزاد اکبر صاحب نے بھی پوچھا ہے کہ صرف ایک شخص کا نام بتا دیں جسے نیب نے مارا؟ شہزاد اکبر صاحب کے پاس ان کی جائیدادوں، زمینوں، بنک اکائونٹس کی تفصیل موجود ہے، اپنے اور ن لیگ بھائیوں کی طرح جھوٹ بولنے میں ماہر ہیں، پوری دنیا میں بدنام ہیں، اب اور بھی سامنے آگئے ہیں، بہرحال بے حیائی تیرا بھلا ہو کوئی ندامت نہیں، کوئی پشیمانی نہیں اور لوٹے ہوئے مال پر سیر سپاٹے کئے جارہے ہیں، جان چلی جائے مگر لوٹا ہوا مال واپس نہیں کریں گے، یہ جلسے جلوس جن کا کوئی مقصد نہیں نہ کوئی ایجنڈا ہے صرف اس لوٹ کے مال کو بچانا ہے، حیرت تو عوام پر ہے جو سب کچھ جانتے ہیں، ان کی ڈکیتیوں سے وقف ہیں پھر اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر اس موذی بیماری کرونا سے بھی خائف نہیں، ایس او پیز پر بھی عمل نہیں ہورہا، جوق در جوق اس کارخیر میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں، ان مکار لیڈروں نے اپنی چکنی چپڑی باتوں سے عوام کو گمراہ کیا ہوا ہے اور عوام کی عقل تو چرنے کے لئے گئی ہے، ایک دانا نے صحیح کہا تھا کہ عوام تو ’’بیل ہیں‘‘ انہیں احساس نہیں کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے اور یہ ملک دو ہجرتوں کے بعد وجود میں آیا، اس جلوس میں دو بڑے سائنسدان بھی شامل ہیں ایک وہ جنہوں نے یہ تھیوری دی کہ ’’جب زیادہ بارش آتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے، دوسرے ڈیزل کہہ رہے ہیں ’’جب آپ سوتے ہو توکرونا سو جاتا ہے اور جتنا سوئیں گے اتنا ہی یہ غیر فعال رہے گا‘‘ درپردہ ان کا مطلب ہے عوام جو پہلے ہی پتہ نہیں کون سے نشے میں غر ق ہے، سو رہی ہے، اب اگر کورونا کو مارنا ہے تو خود بھی مر جائے اپنے آپ مرض ختم ہو جائے گا۔
سنا ہے زیادتی کے جرائم میں ملوث لوگوں کے لئے سزائیں تجویز کی جارہی ہیں اور قانون بنایاجائے گا، زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں یعنی اس فعل بد کے مرتکب لوگوں کو سزائے موت دی جائے، بالکل احسن اقدام ہے، اسلام میں سنگسار کی بھی اجازت ہے لیکن یہ ایک تجویز ہے کہ ایسے لوگوں کو کسی جبلت سے محروم کر دیا جائے صحیح نہیں، ا س کی وجہ یہ ہے کہ جب مجرم زندہ رہے گا جرم کو ختم نہیں کیا جا سکتا بلکہ معاشرے میں ایک خون خوار درندہ چھوڑ دیا جائے گا اور پتہ نہیں کتنے بے گناہ اس کے انتقام کا نشانہ بنیں گے، ذرا اس کے نفسیاتی پہلو پر بھی نظر کر لی جائے، زخمی درندہ کتنا مہلک ثابت ہو گا، اس سزا کے لئے کوئی عقلی دلیل نہیں، جرم کو ختم کرنا ہے تو مجرم کاقلع قمع کر دیں۔
ہے زمانے میں تشدد ہی تشدد کا جواب
جبر سے ظلم کی ہستی کو مٹانا ہو گا!(سردار جعفری)
جب تک قانون اپنا شکنجہ پوری طاقت سے نہیں کسے گا، یہ جرائم ختم نہیں ہونگے، اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جاتا ہے، معاشرے کی اصلاح اسی طرح ہو سکتی ہے ،روس کے صدر صاحب فرماتے ہیں افریقہ کے لئے لیکن یہ پاکستان کے لئے بھی صادق آتا ہے ’’پاکستان پاکستانیوں کا قبرستان ہے‘‘ جب کوئی پاکستانی دولت مند ہوتا ہے تو اس کا بنک اکائونٹ سوئٹزرلینڈ میں ہوتا ہے، وہ لندن اور امریکہ اپنے علاج کے لئے سفر کرتا ہے، وہ لندن، دبئی میں انویسٹمنٹ کرتا ہے، یہ روم میں اور مکہ میں عبادت کی غرض سے جاتا ہے، اس کی اولاد یورپ میں تعلیم حاصل کرتی ہے، یہ سیاست کے غرض سے کینیڈا، امریکہ، یورپ کا سفر کرتے ہیں، لیکن جب وہ مر جاتا ہے تو دفن اپنے آبائی وطن میں ہی ہوتا ہے، تو اس طرح پاکستان صرف ایک قبرستان ہے، پاکستانیوں کے لئے تو پھر ایک قبرستان کیسے ترقی کر سکتا ہے، آخر یہ تماشا عوام کب تک دیکھتے رہیں گے؟ کب تک آپ کا ضمیر بیدار نہ ہو گا، کب تک آپ شخصیت پرستی، زرپرستی کے خوابوں سے باہر نہیں آئیں گے ان لٹیروں کے ہاتھ پکڑ لینے چاہئیں، ظلم کی بیخ کرنی کرنی چاہیے، ان چوروں، ڈاکوئوں، بے ضمیروں کے جلسے جلسوں کو مسترد کر دینا چاہیے، ان مفاد پرستوں نے اپنی لوٹی ہوئی دولت کو بچانے کے لئے عوام کی زندگیوں کو دائو پر لگا دیا ہے، اب ان کے جھانسوں میں مت آئیے ملک آپ کا ہے اس کی حفاظت آپ کی بھی ذمہ داری ہے۔
بی بی مریم اورنگزیب عرف پوپلی جو ہر جگہ اپنے منافق اور خائن لیڈروں کی پشت پناہی کے لئے چراغ کے جن کی طرح حاضر ہو جاتی ہیں، اپنے احتساب کے لئے تیار ہو جائیں، پہلی چراغ کا جن تھا اور چڑیل بھی آگئی ہے، یہ قوم کا سرمایہ ہڑپ کروانے میں معاون ثابت ہورہی ہیں، سب گلے میں باہیں ڈال رہے ہیں، ایک غریب نے سوچا کہ شاید ان کے ساتھ سیلفی بنوانا سب کا حق ہے (پتہ نہیں بیچارا کا کیا حشرہوا ہو گا) پی ڈی ایم والوں کا تو یہی ایجنڈا ہے کہ عوام کو ورغلاتے رہو تاکہ حقیقت سے ناواقف رہیں؎
جن کی تجوریوںمیں سرمایہ قوم کا
ان شاطروں کا کیا ہے پتہ یہ نہ پوچھا!