دو نہتی لڑکیاں

292

ویسے تو جنوبی ایشیاء میں خواتین کی حکمرانی، نمائندگی، آزادی اور جمہوریت کے لئے بے تحاشا قربانیاں دی گئیں جس میں رضیہ سلطانہ، چاند بی بی، بھارتی اندرا گاندھی، بنگلہ دیشی حسینہ واجد، پاکستانی بے نظیر بھٹو شہید، فاطمہ جناح، بیگم نصرت بھٹو قابل ذکر ہیں جنہوں نے مختلف زمانوں اور وقتوں میں طرح طرح کی مشکلات اور مصائب میں حکمرانی اور نمائندگی کی ہے جس میں بیٹوں سمیت اندرا گاندھی کو مار دیا گیا، حسینہ واجد کے والد شیخ مجیب سمیت پورے خاندان کو قتل کر دیا گیا، بے نظیر بھٹو سمیت والد بھٹو اور بھائی مرتضیٰ بھٹو اور شاہ نواز بھٹو قتل کر دئیے گئے، فاطمہ جناح کی مسخ شدہ لاش پائی گئی جس کو خاندان کو دکھانے سے منع کیا گیا، نصرت بھٹو کا سر پھوڑ دیا گیا جس کے بعد وہ دماغی طور پر بیمار رہتی تھیں تاہم پاکستانی خواتین نے غیر قانونی اور غیر آئینی حکمران جنرل ایوب، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کے خلاف علم بغاوت بلند رکھا، مادر ملت فاطمہ جناح نے جنرل ایوب خان کے خلاف صدارتی انتخاب لڑا جس میں مادر ملت کے حمایتیوں اور اتحادی ووٹرز کو اغواء کر لیا گیا جن کو بھارتی ایجنٹ اور غدار قرار دیا گیا، نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کو جلاوطن رکھا گیا، آج پھر پاکستان کے شہیدوں اور اسیروں کی خواتین مریم نواز کو جیل میں بندرکھا گیا اور آصفہ بھٹو کو قتل کی دھمکیاں دی جارہی ہیں جنہوں نے پاکستان کے دربانوں اور بلوانوں کو للکار کر رکھا ہے جن کے جلسے اور جلوسوں سے حکمران طبقہ گھبراہٹ کا شکار ہے،پی ڈی ایم تحریک میں یہ بات کھل کر سامنے آچکی ہے کہ اگر بزدل اور بدکردار نالائق اور نااہل حکمرانوں نے پی ڈی ایم کی قیادت کو گرفتار کیا تو ان کی خواتین تحریک کا جھنڈا تھام لیں گی، مریم نواز نے گوجرانوالہ، کراچی، کوئٹہ، پشاور اور ملتان میں اپنی قیادت کا مظاہرہ کیا جن کے ساتھ ملتان جلسے میں بھٹو شہید کی نواسی اور بے نظیر بھٹو کی صاحبزادی آصفہ بھٹو نے بھی اپنے خاندان کی قربانیوں کی یادیں تازہ کر دی ہیں جنہوں نے علم بغاوت تھام کر کہا کہ آج بھی بھٹو زندہ ہے، یہ جھنڈا اس وقت تک نہیں جھکے گا جب تک ملک میں حقیقی جمہوریت بحال نہ ہو جائے گی، ملتان کے جلسہ عوام میں دو نہتی لڑکیوں نے اہل ملتان کو ایسا احساس دلایا کہ جس کی وجہ سے پورا ملتان جلسہ گاہ بن گیا، عوام ہر گلی کوچے میں کھڑے جلسے سے مستفید ہورہے تھے جس میں حکومتی مشینری مکمل طور پر ناکام ہو گئی تھی جن کے پیروکاروں نے تمام تر بند راستوں، رکاوٹوں اور غلیظ حربوں کے باوجود ملتان کو جلسہ گاہ میں تبدیل کر دیا کہ پوری قیادت میں دونوں خواتین حوصلہ مند اور ہمت والی ثابت ہوئیں جو تمام بندشوں اور رکاوٹوں کے باوجود ملتان کی جلسہ گاہ پہنچیں جن کو حکومتی ہرکارے اور ناکارے روک نہ پائے، چونکہ مریم نواز کے خاندان کے افراد اسیری اور جلاوطنی کی زندگی بسر کررہے ہیں اسی طرح آصفہ بھٹو کا خاندان اسیری، بیماری اور شدید مرض میں مبتلا ہے جس کی وجہ سے آصفہ بھٹو نے کراچی سے ملتان آ کر اپنے کارکنوں کی حوصلہ افزائی کی۔
انہوں نے اپنی تقریر اور سٹائل سے اپنی والدہ کے خطاب کی یاد کو تازہ کر دیا جس پر میرے جیسے سیاسی کارکن بڑے جوش میں آگئے کہ ملک کے قاتلوں نے کس طرح مشہور زمانہ سیاستدان بے نظیر بھٹو کا قتل کیا تھا، بہرحال دوونوں لڑکیوں کے سیاست میں آنے سے عوام میں مزید جوش و جذبہ پیدا ہوا کہ جس میں خاص طور پر پاکستان کی خواتین جن کی مردوں کی نسبت زیادہ آبادی ہے وہ بھی ملکی مسائل کی خاطر پاکستان کی سیاست میں گھروں سے نکل کر سامنے آئیں گی تاکہ خواتین کے حقوق بھی بحال ہونگے جو صدیوں سے سلب چلے آرہے ہیں کہ جن کو گھر، بار ہر مقام پر کمزور سمجھاجاتا ہے لہٰذا دونوں خواتین کا موجودہ تحریک میں متحرک ہونا بہت اچھا عنصر ہے جس سے پی ڈی ایم کی تحریک زور پکڑے گی جو لاہور کے بعد اسلام آباد کا رخ کرے گی جس کی عوام کو سخت ضرورت ہے کہ کوئی تو ہو جو موجودہ بے لگام حکمرانوں کو لگام دے پائے جنہوں نے عوام کو بدحال اور بے محال کر دیا ہے کہ عوام کو نوکریاں دینے کی بجائے لاکھوں کو بیروزگار کر دیا ہے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے یہاں تک کہ بجلی، گیس اور تیل کو اتنا مہنگا کیا کہ لوگ اندھیروں میں ڈوب گئے یہ سب کچھ اس کے دور میں ہورہا ہے جس نے جھوٹے دعوے اور مفروضے پیش کئے تھے جن سے عمران خان یوٹرن کی بدولت بھاگ چکے ہیں لہٰذا پاکستانی عوام کو آج فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ ایسے جھوٹے اور مکار لوگوں کا ایسا محاسبہ کرے تاکہ آئندہ کوئی جھوٹ بول بول کر اور قسمیں اٹھا اٹھا کر اقتدار پر آنے والے شخص کو برداشت نہ کریں جس سے عوام کو آج وہ دن دیکھنے کو ملے ہیں کہ آج پاکستان کے عوام کو کھانے کو روٹی ، پینے کو صاف پانی، تن ڈھانپنے کو کپڑا اور رہنے کی جھونپڑی تک چھین لی گئی ہے کہ آج پاکستانی غریب لوگ اپنے بچوں کو نہروں اور دریائوں کے سپرد کررہے ہیں قصہ مختصر پاکستان میں اب وہ وقت آپہنچا ہے کہ عوام ہر مداری اور شیخ چلی کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر خاتمہ کرے گی جس میں آنے والی نسلوں کا بھلا ہو گا لہٰذا ایسے موقع پر لوگوں کو پی ڈی ایم کے تمام جلسوں، جلسوں، دھرنوں، ہڑتالوں اور بائیکاٹوں کا ساتھ دینا ہو گا جو پہلی مرتبہ آئین اور قانون کی بالادستی کا پرچار کررہی ہے جس میں پاکستان کی بقاء ہے۔