اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کی نشاندہی میں اسرائیل نے بھی مدد کی تھی، سابق ڈائریکٹر سی آئی اے

325

تل ابيب: امریکا کی خفیہ ایجنسی ’سی آئی اے‘ کے سابق سربراہ جان برینن نے انکشاف کیا ہے کہ اسامہ بن لادن کے خفیہ ٹھکانے کی نشاندہی میں اسرائیل نے بھی معلومات فراہم کی تھیں جن کی بنیاد پر ایبٹ آباد میں آپریشن کیا گیا تھا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی خفیہ سیکیورٹی ادارے ’سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی‘ (سی آئی اے) کے سابق ڈائریکٹر جان برینن نے اسرائیل کے اخبار ہاریتز کو انٹرویو میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد میں 2 مئی 2011 کو امریکی فوجیوں کے آپریشن کے دوران ہلاکت سے متعلق انتہائی اہم انکشافات کیے۔

جان برینن کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کا پتہ لگانے سے فوجی آپریشن میں قتل، برسوں کی محنت اور انٹیلی جنس کا نتیجہ تھی۔ اس کامیاب کارروائی کے لیے انتہائی خفیہ اور مؤثر ترین منصوبہ بندی کی گئی تھی جس کے لیے اسرائیل نے بھی امریکا کو خفیہ معلومات فراہم کی تھیں۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسی کی معلومات سے بھی اسامہ بن لادن کا ٹھکانہ معلوم کرنے میں آسانی ہوئی۔

اسامہ بن لادن کی لاش کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ اسامہ کی ہلاکت سے سعودی عرب کو آگاہ کرنے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی تھی اور میں نے اُس وقت کے وزیر داخلہ محمد بن نائف سے اسامہ کی میت وصول کرنے کا کہا تھا جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں آپ پر اعتماد ہے کہ اس کی لاش کا بہتر خیال رکھیں گے اور لاش کو یہاں بھیجنے کی کوئی ضرورت نہیں’۔

واضح رہے کہ جان برینن کو 8 مارچ 2013 میں باراک اوباما نے سی آئی اے کا سربراہ مقرر کیا تھا اور وہ جنوری 2017 تک اس عہدے پر فائض رہے تھے۔