چاند کے مدار میں چینی ’چاند گاڑی‘ اور گردشی ماڈیول کا ’خودکار‘ ملاپ

536

بیجنگ: چاند کی طرف بھیجے گئے تازہ ترین چینی خلائی مشن ’’چانگ ای فائیو‘‘ کے دو حصوں یعنی ’آربٹر‘ اور ’ایسینڈر‘ نے چاند کے گرد مدار میں تیزی سے چکر لگاتے ہوئے خودکار انداز سے آپس میں کامیابی سے جڑ کر ایک نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔

چینی اور عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق، یہ انسانی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ جب چاند کے گرد مدار میں دو چیزوں کو خودکار طور پر اور مکمل کامیابی سے آپس میں منسلک کیا گیا ہے۔

یہ کامیابی اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ جڑتے وقت ’چانگ ای فائیو‘ کے یہ دونوں حصے 5760 کلومیٹر فی گھنٹہ کی غیرمعمولی رفتار سے حرکت کررہے تھے اور ذرا سی غلطی ان دونوں حصوں میں شدید تصادم اور تباہی کی وجہ بن سکتی تھی۔

یاد رہے کہ چین کا ’’چانگ ای فائیو‘‘ (Chang’e 5) خلائی مشن پچھلے 44 سال میں وہ پہلا مشن ہے جس کا مقصد چاند سے مٹی اور پتھروں کے نمونے جمع کرکے واپس زمین تک لانا ہے۔ وکی پیڈیا کے مطابق، سابق سوویت یونین کا ’’لیونا 24‘‘ وہ آخری خلائی مشن تھا جو 1976 میں چاند سے مٹی کے نمونے جمع کرکے واپس زمین تک لایا تھا۔

24 نومبر 2020 کو اُڑان بھرنے والا ’’چانگ ای فائیو‘‘ مشن چار حصوں یعنی چار ماڈیولز پر مشتمل ہے: مدار میں گردش کرنے والا ماڈیول (آربٹر)، چاند پر اُترنے والا ماڈیول (لینڈر)، چاند سے نمونے جمع کرکے واپس مدار میں پہنچنے والا ماڈیول (ایسینڈر)، اور یہ نمونے بحفاظت زمین تک پہنچانے والا ماڈیول (ریٹرنر)۔

چانگ ای فائیو کا ’’لینڈر‘‘ یکم دسمبر کو چاند کے ایک آتش فشانی میدان ’’ماؤنٹ روئمکر‘‘ پر اترا تھا جہاں سے اس نے چاند کی مٹی اور پتھروں پر مشتمل تقریباً دو کلوگرام نمونے جمع کیے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ مقام خاصا ’’نیا‘‘ ہے، یعنی یہاں موجود مٹی اور پتھر صرف ایک ارب 20 کروڑ سال ہی قدیم ہیں۔

یہاں سے لیے گئے ان نمونوں کو ’’ایسینڈر‘‘ ماڈیول میں بحفاظت منتقل کیا گیا جو ’’لینڈر‘‘ کے ساتھ ہی منسلک تھا۔

اسی دوران ’’لینڈر‘‘ سے ایک روبوٹ بازو کے ذریعے چاند پر چینی جھنڈا بھی گاڑ دیا گیا۔ اس طرح امریکا کے بعد چین وہ دوسرا ملک بنا جس نے چاند پر اپنا جھنڈا لگایا ہے۔