کچھ اور سوال

494

پی ڈی ایم کاایک اور جلسہ کوئٹہ میں ہو گیا، کامیاب اور منظم اور گفتگو کا تسلسل بھی ٹوٹا نہیں بلکہ ابلاغ کا گراف کچھ اور بلند ہو گیا، اس جلسے میں جو تقاریر ہوئیں وہ پچھلی تقاریر کا اعادہ نہیں بلکہ ایک قدم اور بڑھایا گیا ہے، بات بہت کھل کر اور آزادی کے ساتھ کہی گئی ہے، گو کہ اس جلسے کے بارے میں حکومت کی جانب سے کچھ سکیورٹی خدشات بھی تھے، مگر پی ڈی ایم نے ان خدشات کو مسترد کر دیا اورایک منظم، کامیاب اور پرامن جلسے کا انعقاد کیا گیا ہے، اس جلسے میں ساری سیاسی باتیں ہی کہی گئیں، وہ ساری باتیں جو گزشتہ ستر سالوں سے لوگوں کے ذہنوں میں تھیں، دھمیے دھمیے لہجے میں شکائیتیں زبانوں پر آئیں، لکھا بھی گیادبے الفاظ میں، یہ بات تو بار بار کہی جاتی رہی ہے کہ ملک کو ایک SECURITY STATEبنا کر رکھا ہوا ہے، آج مولانا فضل الرحمن بھی کہہ رہے تھے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور کشمیر ہی رہا ہے، یہ ایک تکلیف دہ بات ہے کہ جس نکتے پر خارجہ پالیسی ترتیب دی گئی ہے اس میں ہمیشہ ہی جنگ کے امکانات رہے، ملکی معاشی مفادات کی خاطر خارجہ پالیسی تربیت نہیں دی گئی اور مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ مولانا برسوں کشمیر کمیٹی کے سربراہ بھی رہے اور ان کو اس بات کا خیال نہیں آیا کہ یہ سب کچھ تنکوں سے بنایاہوا آشیانہ ہے جو کچھ شاخ پر بنایا گیا ہے اور مولانا کے کانوں تک یہ بات بھی گئی ہو گی کہ کشمیر کمیٹی کی سربراہی مولانا کو دی گئی رشوت ہے اور اس سربراہی سے مولانا برسوں تک بے تحاشا مراعات حاصل کرتے رہے اور آج بھی مولانا نے یہ نہیں کہا کہ کشمیر کا ملک کی خارجہ پالیسی کی بنیاد کا ہونا غلط تھا اور غلط ہے، مگر سچ یہی ہے کہ اس کشمیر پالیسی نے ملک کو خارجی اور داخلی مشکلات سے دو چار کیاہے۔
نواز شریف نے ویڈیو لنک پر اپنی تقریر میں ایک بار پھر جنرل باجوہ اور آئی ایس آئی کے جنرل فیض حمید پر سنگین الزامات عائد کئے اور کہا کہ فوج نہیں بلکہ جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے ان کی منتخب حکومت کو ختم کرایا، عدلیہ پر دبائو ڈالا ، انتخابات میں دھاندلی کی اور یہ ہی وہ جنرلز عمران کو غیر آئینی طور پر اقتدار میں لانے کے ذمہ دار ہیں، نواز شریف نے فوج اور بیوروکریسی کو مخاطب کر کے کہا کہ وہ ملک کے لئے آئین و قانون کے مطابق کام کریں افراد کے نہیں، جلسے میں دیگر رہنمائوں نے خطاب کیا اور حیرت انگیز طور پر اویس نورانی نے آزاد بلوچستان کی بات بھی کی، اس جلسے میں بلوچستان کے سیاسی حالات، لاپتہ افراد اور بلوچیوں کی غربت اور محرومی کی خاص طور پر بات کی، اچکزئی نے کہا کہ ہم پاکستان اور افغانستان کے درمیان باڑ کو اکھاڑ پھینکیں گے، ہم ویزا لگوا کر افغانستان نہیں جا سکتے، اس جلسے میں مبینہ طور پر پختون، افغان اور مولانا کے پیروکاروں کی بڑی تعداد موجود تھی، بلوچی عوام کم تھے، مجموعی طور پر یہ ایک منظم اور کامیاب جلسہ تھا۔
سوال یہ ہے کہ آج اس جلسے میں اتنی سخت زبان استعمال کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، ایوب خان کے دور سے ہی یہ کہا جانے لگا تھا کہ فوجیوں کو سول زندگی کا عادی بنانا اس کی پیشہ وارانہ کارکردگی،پراثرانداز ہو گا، وہ عیاشی کے عادی ہو جائینگے ہم نے CSD CANTEENمیں میجر اور کرنل صاحبان کو اپنی بیگمات کے ساتھ بہت محدود شاپنگ کرتے ہوئے دیکھا ہے مگر وہ وقت بھی آیا جب بھٹو نے کراچی میں منی مارشل لاء لگایا تو نوجوان کیپٹن کی بیویاں کراچی کی باڑہ مارکیٹ سے ہزاروں کی شاپنگ کرتی دیکھی گئیں اور پھر ضیاء الحق کے زمانے میں پورا ملک ان کی دسترس میں تھا اورکیپٹن سے جنرلز تک سول آبادیوں میں اپنی ملازمت کے دوران ہی شاندار پرتعیش بنگلے بنوارہے تھے، ضیاء کے دور سے ہی سول اداروں پر فوجیوں کا عمل دخل بڑھ گیا تھا، بھٹو کو پھانسی دی گئی تو ان کے حوصلے بہت بڑھ گئے ان کو یہ بھی اندازہ ہو گیا کہ عدلیہ کو بھی جوتے کے نیچے رکھا جا سکتا ہے، جس کا اعتراف جسٹس نسیم نے برسر عام کیا نام نہاد افغان جہاد کے دوران فوج کو عوام، دینی جماعتوں اور نادان اور نابالغ میڈیا کی بھرپور حمایت حاصل رہی اور انہوں نے جس طرح چاہا سول اداروں کو POLLUTکیا، فوج نے بڑی بے جگری سے سیاست کو تباہ کیا، نئی سیاسی جماعتیں بنائیں اور ان کے حصے بخرے بھی کئے، اس فوجی بدمعاشی میں سیاست دانوں نے بھی خوب ہاتھ دھوئے، شیخ رشید ٹھیک کہتا ہے کہ ہر سیاسی جماعت کی پنیری فوج نے ہی جی ایچ کیو کے گملوں میں ہی لگائی اور پاکستان کی کوئی جماعت اس سے انکار نہیں کر سکتی، بھٹو نے اپنیARROGANCEسے اپنی جان گنوائی،وہ تحمل مزاجی سے حالات پر قابو پا سکتا تھا بے نظیر کو بھی سیاست کبھی نہیں آئی، اس کو بھی وزیراعظم بننے کا بہت شوق تھا، نواز ذہین سیاست دان نہیں تھا، ذہین ہوتا تو تین بار اپنی PRIMEJOBُٓبے وقوفیوں سے نہ گنواتا، فوج کی خوشی قسمتی کہ کوئی فطین سیاست دان ابھر ہی نہ سکا اور فوج کو کھل کر کھیلنے کا موقع ملا اور اس بار فوج نے ایک بہت کھوبڑ دماغ کا انتخاب کیا جس نے بہت کچھ تباہ کر دیا، عمران دو سالوں میں کچھ بھی ACCOMPLISHنہ کر سکا۔
اس بار جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے بہت RUTHLESSLYسیاست میں اکھاڑ پچھاڑ کی ،بے دردی سے عدلیہ سے بے ہنگم فیصلے کرائے گئے، جنرل باجوہ UN-ANNOUNCEDوزیر خارجہ ہیں اور ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر وزیر داخلہ مگر حالات سنبھلنے کا نام نہیں لے رہے، ملک ڈوبتا چلا جارہا ہے اس تنزلی کو اب پچاس سال ہو گئے تو خیال آتا ہے کہ یہ تنزلی فوج کے ہاتھوں کسی عالمی ایجنڈے کے تحت دانستہ ہورہی ہے، عوام کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے، مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے اور دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں، ایسی حالت میں پی ڈی ایم کی للکار بری معلوم ہوتی اور اب جو آزاد بلوچستان کی باتیں سیاست دانوں کی زبانوں پر آگئی ہیں وہ بھی کہیں گرد میں دب جائیں گی، اب یہ ہو نہیں سکتا کہ ملی نغموں کا لولی پاپ عوام کو سلا دے، بھوک بڑھ جائے تو نیند نہیں آتی، اب یہ سوچ ابھر رہی ہے کہ کشمیر کے نعرے سے پیٹ نہیں بھرتا، نہیں چاہیے کشمیر، روٹی چاہیے اور بہت جلد وہ وقت بھی آ ہی جائے گا کہ ملک اگر ٹوٹ گیا تو عوام کہیں گے کہ پاکستان ٹوٹنے کے لئے ہی بنا تھا اور اس کی ذمہ داری فوج اور پنجاب پر عائد ہو گی، فوج کو اب ہوش کے ناخن لینے چاہئیں، ابھی اور اسی وقت۔