پی ڈی ایم کا ملتان میں ناکام جلسہ، آصفہ کی انٹری، مریم کی گندی زبان؟

443

اپوزیشن کسی طرح ملتان میں حکومتی دبائو کے باوجود جلسہ کرنے میں کامیاب ہو گئی حکومت نے پہلے تو سٹیڈیم میں تالہ لگایا اور پکڑ دھکڑ شروع کی لیکن مولانا فضل الرحمن کے مدرسہ کے طلباء نے تالہ توڑ کر کارروائی کا آغاز کیا، آخری مرحلے میں حکومت نے خاموشی اختیار کر لی اور بجائے کہ ہنگامہ ہوتا انہوں نے حالات کا مشاہدہ کرنے اور حالات کو مزید بگڑنے سے بچانے کیلئے رک جائو اور دیکھو کی پالیسی اختیار کی، جلسہ بہت بڑا نہیں تھا لیکن پکڑ دھکڑ کے بعد اتنے آدمیوں کا جمع ہو جانا ایک طرح سے اپوزیشن کی کامیابی ہو سکتی ہے، مسئلہ اپوزیشن کے جلسے کا نہیں ہے بلکہ دفاعی اداروں اور جوآرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید کے خلاف جو زبان استعمال کی جارہی ہے وہ بہت ہی تشویشناک ہے، فوجی اداروں نے بھی اس وقت ملکی اور بارڈر پر تشویشناک صورت حال کے پیش نظر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے، چائنہ کی جو پالیسی اس خطہ میں ہے اور جو دبائو اس نے بھارت پر بڑھایا ہوا ہے اور جو صورت حال آگے آنے والی ہے اس کے لئے ملک میں سکون رکھنے کے لئے عمران خان اور فوج دونوں درگزر سے کام لے رہے ہیں کہ آہستہ آہستہ اپوزیشن خود ہی تھک جائے گی وہ جلسے جلوسوں سے حکومت نہیں گرا سکتے اس لئے ان کو قومی اسمبلی میں اکثریت لازمی ہو گی اور تحریک عدم اعتماد پیش کرنے ہو گی، فوج کی حمایت کے بغیر یہ تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہو سکتی۔
اپوزیشن کو بھی یہ پتہ ہے کہ اگر بارڈر پر جنگ چھڑ گئی تو ان کی ساری کاوشیں بیکار ہو جائیں گی، پورا ملک اپنی افواج کے ساتھ کھڑا ہو جائے اور اپوزیشن کی سیاست ختم ہو جائے گی، یہ جنگ اب لمبی ہو گی صرف چند دنوں میں ختم نہیں ہو گی بلکہ بہت سے ملک اس میں شامل ہو جائیں گے، چائنہ صرف امریکی صدر کی حلف برداری کا انتظار کررہا ہے، ٹرمپ نے جو قانونی ہنگامہ مچایا ہوا ہے وہ اب ختم ہونے جارہا ہے، ۱۷ دسمبر کو جب الیکٹرول ووٹ کا فیصلہ ہو جائے گا تب جوبائیڈن بہتر پوزیشن میں ہوں گے، ان کے پیر میں جو فریکچر ہوا ہے وہ اس وقت ٹھیک ہو جائے گا، چین اور روس دو واحد ملک تھے جنہوں نے سب سے بعد میں جوبائیڈن کو مبارکباد کا پیغام بھیجا تھا، اس وقت دو قوتیں ٹکرانے کیلئے کھڑی ہوئی ہیں چائنا اور بھارت لیکن امید ہے کہ امریکہ بھارت کیساتھ کھڑا ہو گا لیکن وہ جنگ میں فریق نہیں بنے گا بلکہ کوشش کرے گا کہ بھارت ٹوٹنے سے بچ جائے وگرنہ تباہی بھارت کا مقدر ہے، اس کی سات ریاستیں الگ ہونے کے لئے تیار ہیں، اس کے بعد آزاد کشمیر کا نمبر ہے، پھر خالصتان کی تحریک سر اٹھائے گی، چائنہ اب کسی قیمت پر سی پیک کو بھارتی حملہ کا نشانہ نہیں بننے دے گا، آزاد کشمیر کی آزادی اب طے ہے ،صرف وقت اور شروعات کا انتظار ہے کہ پہلی گولی کون چلاتا ہے۔
اپوزیشن یہ بات اچھی طرح سمجھ رہی ہے کہ اگر ملک جنگ میں پھنس گیا تو ان کی ساری محنت ضائع ہو جائے گی، عمران خان ایک مضبوط حکمران بن کر ابھرے گا اور اس بار جو وہ کارروائیاں کرے گا وہ اپوزیشن کو تتر بتر کر دے گا فوج نیوٹرل رہے گی، موجودہ چیف جسٹس خاموشی سے اس نظام کو سہارا دے رہے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ ملک غیر مستحکم ہو، ایک اور بہت بڑی تبدیلی آئی کہ پہلی مرتبہ بے نظیر بھٹو کی دوسری بیٹی آصفہ بھٹو نے سیاسی انٹری دی، مختصر لیکن اچھی تقریر کی اور اپنے آپ کو ایک سیاسی کردار کیلئے عوام میں روشناس کروایا، بختاور کی منگنی کے بعد اس کا سیاسی کردار ختم ہو گیا اسی لئے زرداری نے دو افراد کو اپنے خاندان سے سیاست میں اتارا، بلاول صرف عمران خان پر تنقید کر کے اپنے آپ کو مقبول بنارہے ہیں اور اپنے آپ کو انہوں نے مریم نواز کے مقابل لا کھڑا کیا ہے، بلاول اور آصفہ کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ سندھی ہیں اور ان کے پاس سندھ کا صوبہ ہے، مریم کے پاس پنجاب کا صوبہ ہے جس میں سب سے زیادہ سیٹیں ہیں جو پنجاب میں جیتے گا وہی ملک پر حکمرانی کرے گا، اس لئے شائد آئندہ دس سال تک بلاول کے حکمران بننے کا کوئی آثار دکھائی نہیں دیرہا، صرف مولانا کو ڈیزل پرمٹ اور سینیٹ کی سیٹ چاہیے وہ شاید ان کوآگے مل جائے گی۔
نواز شریف کے بعد نانی مریم کی زبان بھی سخت سے سخت ہوتی جارہی ہے، باپ نے فوج کو نشانہ بنا کر اپنی قبر کھود لی ، ان کا سیاسی کردار اس ملک سے ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا، صرف مریم سیاست میں رہ گئی ہے لیکن جو گندی زبان وہ فوج اور عمران خان کے خلاف استعمال کررہی ہے اس سے اس کا سیاسی کردار تاریک سے تاریک ہوتا جارہا ہے، عمران خان سکون سے دو سال اور گزار جائے گا ،اگر جنگ کی صورت میں آزاد کشمیر آزاد ہو جاتا ہے تو عمران خان اگلے پانچ سال مزید حکمرانی کرے گا۔