چھوٹے ہاتھ اور چھوٹی ڈیسک

101

کئی دن بعد ٹرمپ نے پریس کانفرنس کی، ٹرمپ جو ابھی تک آفیشلی صدر ہیں بالآخر اپنی ہار مان گئے ہیں اور الیکشن کے بعد پہلی بار پریس کانفرنس کرتے نظر آئے، ایسا بہت کم ہوا ہے کہ صدر بہت لمبے عرصے تک پبلک کے سامنے نہ آئے لیکن جہاں ٹرمپ کے دور حکومت میں بہت سے عجیب واقعات رونما ہوئے وہیں یہ بھی سہی، اب یہی دیکھ لیں کہ ساری دنیا کے ساتھ جہاں امریکہ بھی اتنے بڑے Pandamicسے گزررہا ہے اور ایک مستحکم لیڈر شپ کی ضرورت ہے وہیں ٹرمپ ایک پانچ سالہ بچے کی طرح ایکٹ کررہے ہیں، ٹرمپ اگر ناراض ہیں تو وہ کسی بھی مسئلے پر نہ تو غور کریں گے اور نہ ہی کسی اور بارے میں سوچیں گے۔

پانچ سال کے بچے پر یاد آیا کہ لوگوں نے کئی بار اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ٹرمپ کے ہاتھ غیر معمولی طور پر چھوٹے ہیں اتنے چھوٹے کہ وہ عموماً کسی سے ہاتھ ملانا بھی پسند نہیں کرتے کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی ان کے ہاتھوں کے سائز کو محسوس کرے۔لوگوں نے پھر یہ بھی کہنا شروع کر دیا کہ ہاتھوں کے ساتھ ساتھ ٹرمپ کا دماغ بھی چھوٹا ہے، وہ اس چھوٹے سے دماغ میں سوچنے سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں اسی لئے ان کے زیادہ تر فیصلے غلط ہوتے ہیں۔

جب کسی کا وقت اچھا ہوتا ہے تو اس کی ہر چیز کی تعریف ہورہی ہوتی ہے چاہے وہ صدر ٹرمپ ہی کیوں نہ ہوں، ان کی کوئی نہ کوئی اچھی بات میڈیا ڈھونڈ ہی لیتا تھا۔

ٹرمپ کے چھوٹے ہاتھوں پر جس طرح اب تنقید کی جارہی ہے پہلے کبھی نہیں کی گئی کیوں کہ وہ ’’صدر‘‘ تھے، وہی بات کہ جب برا وقت ہو تو اس شخص کی بات ’’ہاتھ‘‘، ’’دماغ‘‘ سوچ سب بُرے لگنے لگتے ہیں، ہر کوئی اس میں نقص ڈھونڈ کر تنقید کرتا ہے۔

ایسا ہی کچھ اس کرکٹ ٹیم کے ساتھ بھی ہوتا ہے جومیچ ہار جاتی ہے، جہاں جیتنے والی ٹیم جشن منارہی ہوتی ہے وہیں ہارنے والی ٹیم کندھے جھکائے میدان سے نکل رہی ہوتی ہے، ایک بہت اچھا ایکٹر جس کی فلم باکس آفس پر فلاپ ہو جائے اس کا اعتماد زیرو ہو جاتا ہے لیکن ایک برا ایکٹر جس کی فلم اگر کامیاب ہو جائے تو اس کامیابی کا نشہ اس کے سر چڑھ کر بولتا ہے، ٹرمپ بیچارے کے ساتھ کچھ یوں ہوا کہ ان کو جس میز کے ساتھ کرسی رکھ کر پریس کانفرنس سے خطاب کرنا تھا، ان کے سٹاف نے ایک بہت ہی چھوٹی میز کا انتخاب کیا، وہ میز تو کیا ایک کلاس تھری کے بچے کی سکول ڈیسک معلوم ہو رہی تھی، عام حالات میں تو صدر ٹرمپ کا اعتماد سر چڑھ کر بول رہا ہوتا ہے ، کھری کھری سناتے، سیدھے سیدھے جواب اور اگر کوئی بات بری لگ جائے تو پریس کانفرنس چھوڑ کر بھی چلے جاتے لیکن ہارے ہوئے کھلاڑی یافلاپ ایکٹر کی طرح ٹرمپ سمجھ چکے ہیں کہ وہ بائیڈن کے مقابلے میں ہار چکے ہیں، بہت ہی افسردہ لگ رہے تھے اپنی تازہ پریس کانفرنس میں، جھکے ہوئے کندھے، جھکا ہوا سر اور ہلکی آواز میں بات، یہ سب ٹرمپ کے اپنے انداز اور سٹائل سے بالکل مختلف تھا۔

بے اعتمادی کے سبب ہی ٹرمپ نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ پریس کانفرنس میں ان کیلئے کتنی چھوٹی میز رکھی گئی ہے، پوری کانفرنس انہوں نے اسی میز پر بیٹھ کر کی۔

پریس کو اور اس پریس کانفرنس دیکھنے والوں کو جو بات سب سے زیادہ یاد رہ گئی وہ تھی ’’یہ چھوٹی سی میز‘‘ اس پریس کانفرنس میں ٹرمپ کی کہی کسی بھی بات کو وہ اہمیت نہیں ملی جتنی اس چھوٹی سی میز کو ملی، پچھلے کئی روز سے انٹرنیٹ پر اس کی Imagesمختلف کیپشن اور لطیفوں کے ساتھ ڈالی جارہی ہیں، پریس کا کہنا ہے کہ چھوٹے ہاتھوں اور چھوٹے دماغ والے اس صدر کو اسی طرح ’’چھوٹی سی میز‘‘ والی پریس کانفرنس کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا۔

صدر ٹرمپ اگر 2020ء کا الیکشن جیت گئے ہوتے تو لوگ ان کی شخصیت ان کے پالیسز پر بات کررہے ہوتے نہ کہ اس چھوٹی سی میز کے متعلق ہر کوئی اس چھوٹی سی میز پر بات کررہا ہے اور اس ’’ہر کوئی میں‘‘ ہم بھی شامل ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.