یہ ہیں عوام کے ہمدرد رہنما؟

407

ہماری ملکی سیاست کے خود ساختہ عوامی رہنماوٗں کا، خاص طور پہ جب وہ اقتدار میں نہیں ہوتے اور اقتدار پھر سے حاصل کرنے کی جوڑ توڑ میں لگے ہوتے ہیں، ہر جملہ جو ان کی زبان سے ادا ہوتا ہے عوام کی ہمدردی کے دعوے سے شروع ہوتا ہے اور اسی پر ختم بھی ہوتا ہے!
گذشتہ دو مہینوں سے ان سیاسی شعبدہ بازوں اور گماشتوں نے عمران حکومت کے خلاف جو مورچہ کھولا ہوا ہے، پاکستان جمہوری محاذ کے عنوان سے، اور جس میں ہر وہ بے ایمان اور بے ضمیر سیاسی جغادری شامل ہے جسے اپنی لوٹی ہوئی دولت اور بے ایمانی سے جمع کئے ہوئے خزانے پر احتساب کی تلوار گرنے کا خدشہ اور خطرہ ہے، اس کا بنیادی مقصد نام نہاد عوامی جلسے کرنا ہے تاکہ ان جلسوں میں بہلا پھسلا کر لائے گئے عوامی سامعین کی کثرت سے عمران خان اور ان کی حکومت کو مرعوب کیا جاسکے اور انہیں یہ جتایا جائے کہ عوام حزب اختلاف کے ان مداریوں کے ساتھ ہیں اور ان کی للکار پر گھروں سے نکلنے کیلئے ہمہ وقت بیدار اور تیار رہتے ہیں!
یہ سیاسی ڈرامہ ایک ایسے وقت اور پس منظر میں کھیلا جارہا ہے جب پاکستان میں بھی، دنیا کے دیگر بے شمار ممالک کی طرح کرونا کا عذاب ایک بار پھر مزید شدت کے ساتھ پلٹ کر آگیا ہے اور روز بروز کرونا سے متاثر ہونے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ حکومت بار بار ان سیاسی گماشتوں اور نو سربازوں سے اپیل کرتی رہی ہے کہ وہ عوام کا خیال کریں، اس کا خیال کریں کہ بڑے اجتماعات عوام کی صحت اور سلامتی کیلئے کیسا بڑا خطرہ ہیں اوراس کے ساتھ ساتھ اس وبا کے نئے حملہ کیلئے کتنے سازگار ہوسکتے ہیں۔ لیکن حکومت کی اس ہمدردانہ اپیل کو بھی سیاسی شعبدہ بازوں نے فٹبال بنالیا ہے اور عوام کو مزید بہکانے اور کرونا کے حملہ سے ان کی توجہ ہٹانے کیلئے یہ نعرہ لگایا جارہا ہے کہ حکومت جھوٹ کہہ رہی ہے اور کرونا کے پردے میں عوام کو ان کے جمہوری حقِِ اختلاف اور احتجاج سے محروم کردینا چاہتی ہے!
یوں نہیں ہے کہ ان سیاسی مداریوں کو کرونا کے خطرہ کا ادراک نہیں ہے۔ خوب ادراک ہے اور اس کا ایک بڑا ثبوت تو زرداری اور مرحومہ بینظیر بھٹو کی بڑی صاحبزادی، بختاور کی منگنی کے دعوت نامہ میں دیکھا جاسکتا ہے جس کے ذریعہ تقریب میں مدعو کئے گئے تمام مہمانوں کو حفاظتی تدابیر اور پیش بندی کے عنوان کے تحت ضروری کارروائیوں کی ایک طویل فہرست دی گئی ہے اور دعوت نامے میں صفائی سے یہ بتادیا گیا ہے کہ ان تدابیر کو اختیار کئے بغیر کسی مہمان کو بھی منگنی کی تقریب میں شرکت نہیں کرنے دیا جائے گا!
اللہ اللہ، ایک طرف تو اپنی جانیں اور اپنے وی آئی پی مہمانوں کی جانیں اتنی عزیز ہیں کہ ہر مہمان کو تاکید کی جارہی ہے کہ تقریب میں آنے سے پہلے ایک نہیں دو دو ٹیسٹ کروائیں اور اس کا تحریری ثبوت اپنے ساتھ لیکر آئیں تاکہ کسی کو پریشانی نہ ہو اور دوسری طرف ان غریبوں کو جن کے نام پر اپنی سیاست کی دکان چمکائی جارہی ہے یہ ترغیب دی جارہی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں جلسہ گاہ میں آئیں اور بالکل فکر نہ کریں کہ کرونا کی وبا پھیلی ہوئی ہے اور اجتماعات نہیں ہونے چاہئیں ورنہ وبا کے پھیلنے کا خطرہ ہے۔ ساتھ میں یہ تلقین بھی ہورہی ہے کہ منہ پر ماسک وغیرہ پہننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ حکومت کا پروپیگنڈا ہے تاکہ عوام اپنے محبوب سیاسی رہنماوٗں کے جلسے میں نہ جائیں!
اب بھی اگر پاکستانی عوام کی آنکھیں نہ کھلیں تو پھر اس کے سوا اور کچھ نہیں رہ جاتا کہ ان کی عقل کا ماتم کیا جائے۔ یہ بد بخت سیاسی مداری ڈگڈگی بجا رہے ہیں صرف اسلئے کہ عوام کو بیوقوف بنائیں اور انہیں اپنی انگلیوں پر نچائیں۔ انہیں عوام سے یا ان کی صحت سے یا ان کے مفاد سے اتنی سی بھی ہمدردی نہیں ہے جتنی اپنے پالتو کتے بلیوں سے ہوتی ہے عوام ان کی دانست میں ان کی سیاسی جنگ میں ان کی لفظی توپوں کیلئے ایندھن اور گولہ بارود ہیں اور بس۔ عوام میں اگر ذرا بھی عقل ہو تو ان کا احتساب کریں اور پوچھیں کہ جب ان مداریوں کے پاس اقتدار تھا اور یہ حکومت کررہے تھے تو عوام کیلئے انہوں نے کیا کیا تھا؟ زرداری کا وہ خواجہ سرا بیٹا جو پاکستان کا وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھ رہا ہے آج اپنی منحنی آواز میں عوام کو سبز باغ دکھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ کراچی کے سارے مسائل حل کردیگا۔ یہ لاف زنی سننے والا کوئی بھی غریب آدمی کھڑا ہو اور اس سے پوچھے کہ سندھ پر بارہ برس سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے تو اس عرصے میں عوام کی فلاح کیلئے کونسا ایسا کام ہوا ہے جو اس خواجہ سرا کی بات پر یقین کیا جائے۔ اندرونِ سندھ دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ شہروں میں سڑکیں تباہ ہوچکی ہیں اور بازاروں میں کوڑے کے ڈھیر لگے رہتے ہیں۔ کراچی کا حالِ زار تو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں اور ہم کیا ہمارا ہر دوست اور شناسا جس نے کراچی کو اس وقت دیکھا تھا جب وہ دنیا بھر میں روشنیوں کے شہر کی شہرت رکھتا تھا اب اس کو دیکھ کر آنسو بہائے بغیر نہیں رہتا کہ زرداری اور اس کے چوروں اور گماشتوں نے اس شہر کو اتنا لوٹا ہے اور اس کا حلیہ ایسا بگاڑا ہے کہ یقین نہیں آتا کہ یہ وہی ہمارا کبھی کا جگمگاتا اور جاگتا ہوا شہر ہے!
بھان متی کے اس کنبے کی قیادت اس مُلا کے ہاتھوں میں ہے جو بلاشبہ پاکستانی سیاست کا سب سے بڑا منافق ہے اور جس کا دھرم ہی فساد پھیلانا ہے۔ اب اس کی قیادت میں اس چنڈال چوکڑی کا اگلا جلسہ ملتان میں طے ہوا ہے لیکن ملتان کی انتظامیہ نے اس کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے اور اس کا انکار بالکل جائز ہے کہ ملک میں کرنا کا عذاب بڑھتا ہی جارہا ہے لیکن مفسدوں کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ عوام جیتے ہیں کہ مرتے ہیں انہیں اپنا الو سیدھا کرنے سے غرض ہے عوام تو ان کی نظروں میں گھاس چارے سے زیادہ نہیں ہیں جسے کون عزت دیتا ہے یا عزیز رکھتا ہے!
دیکھنا یہ ہے کہ عمران حکومت ان شعبدہ بازوں سے جیتتی ہے یا پھر کوئی مصلحت اسے گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کردیتی ہے۔ فسادی ملا بضد ہے کہ وہ جلسہ کریگا۔ دیکھتے ہیں کہ اس کا شر کامیاب ہوتا ہے یا حکومت قانون کی بالادستی رکھنے میں کامیاب ہوتی ہے!
حکومت اور چوروں کی اس ٹولی کے درمیان جو رسہ کشی اور سرد جنگ ایک عرصے سے چلی آرہی ہے وہ ہاتھیوں کی لڑائی ہے جس میں بیچارے عوام ان چیونٹیوں کی طرح ہیں جو ہاتھیوں کی لڑائی میں پس کر رہ جاتے ہیں۔ اس سرد جنگ کا انجام کیا ہوتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن کم از کم اس ہاتھی کو تو اسلام آباد کے چڑیا گھر سے آزادی مل گئی جہاں وہ پچھلے پینتیس برس سے ہماری حکومت کی نااہلی، کرپشن اور مجرمانہ غفلت کے ستم سہ رہا تھا۔
کاون نامی اس ہاتھی کی شہرت پاکستان سے نکل کر دنیا بھر میں پھیل گئی ہے کیونکہ اس کے ساتھ اسلام آباد کے چڑیا گھر میں جو بدسلوکی ہوئی اس کا پردہ چاک ہونے کے بعد دنیا بھر کے ان حلقوں میں جو جانوروں کے حقوق کے محافظ ہیں اور ان پر ہونے والی زیادتیوں کا نوٹس لیتے ہیں اس کو اسلام آباد کی غلامی سے نجات دلوانے کیلئے ایک باقاعدہ مہم کا آغاز ہوگیا تھا۔
یہ ہاتھی1985 میں سری لنکا کی حکومت نے مرحوم صدر ضیا الحق کو اسلام آباد کے چڑیا گھر کیلئے تحفہ میں دیا تھا کیونکہ مرحوم صدر یہ چاہتے تھے کہ اسلام آباد کے باسیوں کیلئے تفریح کا ایک سامان ہوجائے۔ ہاتھی آ تو گیا لیکن اس بیچارے کو کیا معلوم تھا کہ جس ملک میں انسانوں کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک ہوتا ہے اگر ان کا شمار عوام میں ہو تو پھر وہاں جانور کا کیا خیال رکھا جاسکتا تھا۔ اور یہی ہوا کہ بیچارہ کاوان لاپرواہی اور غفلت کے ہاتھوں بیکسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگیا۔
ویسے تو بتایا گیا ہے کہ اپنے بچپن میں بلاول زرداری بھی اس ہاتھی پر سواری کرچکے ہیں لیکن انہیں اس سے کیا کہ جس ہاتھی پر انہوں نے سواری کی تھی اس کا احوال کبھی پوچھ لیتے۔ ہمارے رہنما، خاص طور پہ وہ جنہیں لیڈری وراثت میں ملی ہو، تو وہ ہوجاتے ہیں جن کا دماغ آسمان پہ رہتا ہے اور پاوٗں زمین پہ نہیں ٹکتے اور بلاول کے ساتھ تو ایک اور مسئلہ وہ باپ ہے جس کی زندگی صرف چوری چکاری اور مال سمیٹنے میں گذری ہے وہ بیٹے کی تربیت کیا کرتا!
لمبی داستان ہے کاون کی رہائی کیلئے کوششوں کی جن میں ہالی وڈ اور امریکہ کی معروف گلوکارہ شیر بھی شریک رہیں اور وہ ہی اس ہفتے اسلام آباد آئیں تاکہ کاون کی اسلام آباد سے کمبوڈیا روانگی کی تقریب میں شرکت کرسکیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ شیر کی ملاقات کو پاکستانی میڈیا میں خصوصی پذیرائی ملی اور یوں کاوان کی رخصت اسلام ّباد سے ایسی دھوم دھام سے ہوئی جیسے کوئی دولھا ا پنی بارات میں جارہا ہو۔!
شرم آئی ہمیں ٹیلی وژن پر اسلام آباد کے چڑیا گھر کے مناظر دیکھ کر۔ یوں لگا جیسے کسی اجڑے دیار کو دیکھ رہے ہوں۔ اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت ہے جہاں ایک سے بڑھکر ایک صاحبِ منصب و اقتدار پایا جاتا ہے لیکن کسی کی توجہ اس حا لتِ زار کی طرف نہیں ہوئی جسمیں دارالحکومت کا چڑیا گھر ہے۔ ایسے ہوتے ہیں چڑیا گھر کہ جسے دیکھ کر لگے کہ جیسے اسے دشمن فوج کا کوئی دستہ پامال کرکے گیا ہو!
لعنت ہے سی ڈی اے پر جس کے ذمہ اسلام آباد کی سرکاری عمارتوں اور املاک کی دیکھ بھال ہے۔ سزا کے لائق ہیں وہ عملہ اور افسران جن کی اپنے فرائض سے غفلت کی منہ بولتی گواہی یہ چڑیا گھر دے رہا ہے۔ کاون ہاتھی خوش نصیب نکلا کہ اسے قید سے رہائی مل گئی اور اب وہ کمبوڈیا کی کھلی فضا میں اپنے جیسے دوسرے ہاتھیوں کے ساتھ آزادی کا سانس لے سکے گا۔ لیکن ان کڑوڑوں عوام کی نجات اس بیرحم اور سفاک نظام سے کب ہوگی جو ان کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کو روا رکھے ہوئے ہے اور گذشتہ ستر برس سے ان کے سینوں پہ مونگ دل رہا ہے؟ ہے کوئی جس کے پاس اس سوال کا جواب ہو؟
جواب اگر کوئی ہوسکتا ہے تو وہ صرف ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ ہمارا استحصالی جاگیرداری نظام صرف سفید ہاتھیوں کو پالنا جانتا ہے کاون جیسے عام ہاتھی اسے نہیں بھاتے۔ سو پاک لوگوں کا ملک کتنے ہی سفید ہاتھیوں کو پالتا آیا ہے اور آج بھی پال رہا ہے۔ یہ سفید ہاتھی ملک کو کنگال کرچکے ہیں لیکن آج بھی ان کے جانثار ہیں جو وبا کی پرواہ بھی نہیں کرتے اور ان نوسربازوں کے فریب کا شکار ہوکے ان جلسوں میں جاتے ہیں جو وبا کیلئے کھیتی کا کام کرتے ہیں۔
ایک ایسا ہی سفید ہاتھی ملک سے مفرور ہے اور لندن میں دبکا ہوا ہے اور اتنا بے شرم ہے کہ اپنی ماں کی تدفین میں شرکت کیلئے وطن واپس نہیں آیا بلکہ ماں کی میت کو وہیں سے کارگو کرکے یہ سمجھ لیا کہ اس کا فرض پورا ہوگیا۔ بے غیرتی اور بے مروتی کی اس سے بڑھ کر بھی کوئی مثال ہوسکتی ہے؟