کرپٹ اور شکست خوردہ سیاستدان اور کیا گُل کھلائیں گے؟

351

آنجہانی ایڈولف ہٹلر کے وزیر پراپیگنڈا کا نام جوزف گوئبلز تھا۔ اسکا سب سے مشہور قول تھا: ’’اگر آپ کسی جھوٹ کو بار بار بولیں گے، تو لوگ اس پر یقین کرنے لگ پڑیں گے،حتیٰ کہ ا ٓپ خود بھی اس کو سچ سمجھنے لگیں گے‘‘۔ اس مقو لہ کو نواز لیگی اور پی پی پی کے لیڈروں نے پلے سے باندھ لیا ہے، اور جب موقع ملتا ہے توطوطے کی طرح نا اہل وزیر اعظم، سیلیکٹڈوزیر اعظم، کی گردان شروع کر دیتے ہیں۔ کہ بار بار ایسا کہنے سے عوام بھی یہی سمھیں گے اور کہیں گے۔ حالانکہ تین چوتھائی عوام کو سیلیکٹڈ کا مطلب بھی نہیں آتا ہو گا، اور نہ اسکی اہمیت سے واقف ہونگے۔سچ تو یہ ہے کہ سب سیاستدان اس طرح سیلیکٹڈ ہوتے ہیں جیسے کہ عمراں خان کو سمجھا جاتا ہے۔ اگر پاکستان عسکری قیادت کے سیلیکٹ کرنے سے پاکستانی عوام کے ووٹ مل سکتے توکبھی بھی غیر سیلیکٹڈ وزیر اعظم نہ آتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر کوئی فوج کا سیلیکٹڈ وزیر اعظم تھا تو وہ نواز شریف خود تھا۔جسے فوجی ڈیکٹیٹر ضیاالحق نے گود لیا تھا ۔یہ بڑے مزے کی بات ہے کہ نواز لیگی لیڈربجائے اپنی شکست یا غلطی تسلیم کرنے کے، الٹا مخالفین پر الزام ڈال دیتے ہیں۔ جیسے حال ہی میں گلگت بلتستان کے انتخابا ت میں جب نواز لیگ کو ۲۴ میں سے صرف دو سیٹیں ملیں تو مریم صاحبہ فرماتی ہیں کہ تحریک انصاف کوعبرت ناک شکست ہوئی ہے، جب کہ تحریک کو ۱۲ سیٹیں ملی تھیں جن سے وہ حکومت بنانے کے قابل ہو گئے تھے۔ اتنا سفید جھوٹ بولنے اور بے حیائی کا مظاہرہ صرف نواز شریف کی بیٹی ہی کر سکتی ہے۔اب وزیر اعظم عمران خان کو بار بار سیلیکٹڈ کہنے کا کیا مقصد ہو سکتا ہے؟ اس طعنہ زنی سے کہنا کیا چاہتے ہیں؟ یہ کہ پاکستانی عسکری قیادت انتخابات میں اپنی مرضی کے بندے لانا چاہتی ہے؟ مجھے کوئی یہ سمجھائے کہ کونسا وزیر اعظم ہو سکتا ہے جو اپنے ملک کی فوج کے خلاف ہو گا؟ اور جب عمران خان کو پاکستان کے عوام کی اکثریت نے سب پارٹیوں کے مقابلہ میںووٹ دیے، تو ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ مارنے سے پہلے خود تو ووٹ کو عزت دینا سیکھو۔ لیکن گوئبلز کے پیرو کاروں کو حقیقت سے کیا واسطہ۔ انہیں تو پراپیگنڈہ سے غرض ہے۔ اور عوام کو گمراہ کرنے سے۔
اسی طرح عمران خان کو نا اہل کہنا ان کا منترہ بن گیا ہے اور ہرمخالف نا اہل کا ورد کرتا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ عمران خان نہ صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے، وہ بلا ججھک صنعتی ترقی یافتہ ممالک کے عمایدین اور قایدین سے آنکھ سے آنکھ ملا کر بات چیت کرتا ہے اور پاکستان کی اعلیٰ سطح پر نمائندگی بھی بہترین انداز میں کرتا ہے۔ اورپاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا کے اہم فورمز پر جنوبی دنیا، غریبوں اور مسلمانوں کی بھی پر جوش اور مدلل حمایت کرتا ہے۔ پاکستان میں اپنی حکومت کی کابینہ سے باقاعدگی سے اجلاس کرتا ہے اور ان سے مشورہ کر کے حکمت عملی بناتا ہے۔ یہ سب کام سابق حکمرانوں سے کتنے مختلف ہیں اس کا شعور مخالفین کو ہے لیکن اسے ماننے سے انکاری ہیں۔طوطے کی طرح نا اہل کا ورد کرنا سوائے پراپیگنڈا کے مقاصد حاصل کرنے کے اور کچھ نہیں۔اگر اس نا اہل وزیر عظم کی کا کردگی کو نواز شریف اور پی پی پی کے وزر اء اعظم سے کریں تو مخالفین شرم سے ڈوب مریں۔
حزب مخالف کی جماعتوں کے قائدین جو بنیادی طور پر ’’ابو بچائو مہم‘‘ پر کار فرما تھے یا ہیں، در اصل اس کرپٹ نظام کو واپس لانا چاہتے ہیں جن پر پاکستان کے حکمران ستر سال سے مستفید ہو رہے تھے۔ لیکن خدا کو پاکستان پر رحم آ گیا اور اس نے عمران خان کو رحمت کا فرشتہ بنا کر بھیج دیا۔اب ان شیطانوں سے توقع کرنا کہ وہ اس کو کام کرنے دیں گے ایک لا حاصل امید ہے۔ لیکن چونکہ عمران خان کو تائید خداوندی ملی نظر آتی ہے، اس کے منصوبے کامیاب ہو رہے ہیں۔ اس کو دنیا کے مقابلے میں کووِڈ پر کنٹرول پر امید سے بڑھ کر کامیابی ملی۔ فیصل آباد میں صنعتی انقلاب آ رہا ہے اور کپڑے کی صنعت میں دوبارہ جان پڑ گئی ہے۔ ادھر تعمیراتی سر گرمیوں نے بہت سی صنعتوں کو بحال کرنا شروع کر دیا ہے۔ مالی میدان میں علیحدہ کامیابیاں ہو رہی ہیں، جن سے حریفوںکے پراپیگنڈے پر پانی پھر رہا ہے۔ مریم نواز بوکھلا بوکھلا کر حکومت کی مخالفت میں اول فول بکنا شروع ہو گئی ہے۔ کہتی ہے کہ میں جب جیل میں تھی تو مجھے چوہوں کا بچا ہوا کھانا دیا جاتا تھا۔ حالانکہ اسے اس کے گھر سے کھانا بھجوایا جاتا تھا۔ کہتی ہے کہ جب میری دادی مری تو حکومت نے مجھے اطلاع نہیں دی۔ بی بی اگر تم جیل میں ہوتیں تو تب بھی حکومت کی ذمہ واری نہیں ہوتی کہ تمہیں دادی کے مرنے کی خبر سرکاری ذرائع سے دی جاتی۔ تم ہٹی کٹی جلسے کرتی پھر رہی ہو، اور دن رات ٹویٹر پر جھوٹ کے پلندے نشر کرتی ہو، تمہاری ملازموں کی فوج ظفر موج کے پاس موبائیل فون ہیں اور لندن والے مجرم برادران اور ابو جی بھی موبائیل فون سے لیس رہتے ہیں۔ البتہ یہ علیحدہ بات ہے کہ تمہیں ان میں سے کسی پر اعتبار نہیں ہے۔ تمہیں سچ صرف سرکاری ذرائع سے مل سکتا ہے۔جھوٹ بولنا تمہارے خاندان کی روایت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تم نے اپنے مشہور زمانہ انٹرویو میں کہا کہ تمہاری’’ لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائداد نہیں ہے‘‘خدا نہ کرے کہ تم پاکستان میں کبھی بھی کسی اہم عہدے پر فائز ہو۔ خیر تمہارے اور تمہارے کنبہ کے جو کرتوت ہیں، اس بات کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ اور ہم صرف دعا ہی کر سکتے ہیں کہ ایک دن ایسا آئے کہ تمہارا دعویٰ صحیح ثابت ہو اور جب واقعی تمہارے پاس کوئی جائداد نہ رہے، نہ لندن میں، نہ پاکستان میں اور نہ ہی کہیں اور۔ تم اور تمہارا خبیث شوہر سڑکوں پر بھیک مانگتے نظر آئو۔
عمران خان کے حق میں اب گاہے بگاہے میڈیا میں بھی آوازیں اٹھنی شروع ہو گئی ہیں۔ یہ ان چند ایماندار صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی آوازیں ہیں جنہوں نے اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا۔ خدا کرے کے باقی سب بھی اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہیں۔اس سے یاد آیا کہ تحریک لبیک کے بانی مولانا قادری کا انتقال ہو گیا اور ان کے جنازے پر لاکھوں لوگ آ گئے۔ ان کو غالباً اپنے گناہوں کی معافی ملنے کا یہی ایک موقع ملا۔ کہتے ہیں کے مرنے کے بعد ہی کچھ بندوں کی قدر ہوتی ہے۔ حکومت لاکھ سر پٹخے کہ کورونا پھیل رہا ہے، بڑے بڑے اجتماعوں سے پرہیز کریں، لیکن مسلمانوں کا ایمان ہے کہ موت جب آنی ہے اسے کوئی نہیں روک سکتا اور جسے خدا رکھے اسے کون چکھے؟ اس لیے حفاظتی تدابیر کرنا بے کار ہے۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ اسلامی مجلس شوریٰ سے مشورہ کرے اور ان سے پوچھ لے کہ کورونا کی وجہ سے حفاظتی اقدامات لینا بمطابق اسلام اور شرع ٹھیک ہے یا لوگوں کو اپنی من مانی کرنے دیا جائے؟ اسمبلی میں تو حزب مخالف نے آنے کی تکلیف گوارا نہیں کی کہ عوام کے نمائندے کووڈ سے متعلق عوامی پالیسی پر قانون سازی کی جا سکتی۔
حزب مخالف اپنے ایجنڈا پر ثابت قدمی سے عمل پیرا ہے۔ انہوں نے اگر پانچ یا چھ جتنے بھی جلسہ کرنے ہیں وہ ہو کر رہیں گے۔ خواہ اس سے عوام میں کورونا کا پھیلائو دوگنا ہو یا پانچ گنا۔ اگر دو چار لاکھ لوگ مر بھی گئے تو ان امراء اور نواب زادوں کو کیا فرق پڑے گا۔ وہ تو الزام حکومت پر ڈالیں گے۔حکومت کو بھی چاہیے کہ اوپر اوپر سے شور مچائے اور کورونا کو پھیلنے دے ۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ مخالفین اس وباء سے فیض یاب ہوں اور قبل از وقت اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ حکومت کے مخالفین صرف ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ مارتے ہیں، ووٹر گیا جہنم میں، انکی بلا سے۔ ان شاطروں کو اچھا بھلا معلوم ہے کہ ماسک پہننے اور سوشل فاصلہ رکھنے سے آپ دوسروں کو اس متعدی مرض سے بچاتے ہیں اور خود بھی بچتے ہیں۔ یہ ایک اخلاقی عمل بھی ہے اور سماجی ذمہ واری بھی۔لیکن جاہل اور غریب عوام کو بہکانے سے یہ لوگ اپنے سر پر کتنا بڑا گناہ لیتے ہیں؟ یہ علیحدہ بات ہے کہ ان لوگوں کی لغت میں گناہ کا یہ تصور ہی نہیں۔یہ لوگ تو آخرت پر اور مرنے کے بعد کی زندگی پر بھی ایمان نہیں رکھتے۔ سب کچھ یہی دنیا ہے اور یہیں جو حساب کتاب ہونا ہے وہی ہو گا۔ اس لیے کورونا پھیلتا ہے تو پھیلے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے فرمانروائوں کو بھی کورونا ہوا جن میں برطانیہ کے وزیر اعظم اور امریکی صدر بھی شامل ہیں۔ کچھ بڑے لوگ تو اللہ کو پیارے بھی ہو گئے۔ اب تازہ ترین اطلاع کے مطابق پی پی پی کے رہنما، بلاول زرداری کو بھی کورونا ہو گیا ہے اگرچہ قاعدے کے مطابق ہونی تو انہیں ایڈز چاہیے تھی۔اب دیکھیں وہ کب تک گھر بند رہتے ہیں؟ ملتان کے جلسہ میں تو اب صرف وڈیو لنک کے ساتھ ہی شاید شرکت کر سکیں؟ ادھر خدا کا کرنا یہ ہوا کہ نواز کی چھپکلی کی دادی مر گئی اور اُسے پشاور کے جلسہ سے بغیر زبان چلائے واپس جاتی امراء آنا پڑا۔ لیکن سنا ہے کہ ابو جان نے حکم دیا ہے کہ بیٹی، دادیوں نے تو ایک دن مرنا ہی ہوتا ہے لیکن اللہ کی زمین پر فتنہ فساد پھیلانے کا موقع ہاتھ سے نہیں گنوانا چاہیے، ورنہ انکے مالکان جو ہمسایہ ملک سے احکامات بھیجتے ہیں، ناراض ہو جائیں گے۔
سنا ہے کہ دادی کا جنازہ دھوم سے نہیں نکلے گا۔ اگرچہ بیٹے اور پوتے کو پانچ دن کی جیل سے رہائی بھی دے دی گئی ہے تا کہ وہ افسوس کرنے والوں سے مل سکیں۔ راقم کی سمجھ سے بالا تر ہے کہ ۹۳ سالہ عورت کی وفات پر افسوس کا کیا مقام ہے؟ بلکہ یہ کہ ایک سوال پورے معاشرے کے لیے ہے کہ کس عمر کے بعد اگر کوئی وفات پائے تو افسوس کے بجائے اطمینان کا اظہار کرنا چاہیے؟ پاکستان میں عالمی ادارۂ صحت کے مطابق توقع حیات عورتوںلیے 67.4 سال ہے اور مردوں کی 65.7سال۔ قاعدے کے مطابق اگر کوئی عورت اس عمر سے پہلے مرے تو افسوس بنتا ہے۔ اگر وہ اس عمر تک بھی نہ مرے اور ۲۶ سال اور زندہ رہنے کے بعد رحلت کرے تو بھائی افسوس کاہے کا؟ ہونا تو چاہیے یہ خوشی کا مقام کہ خاتون نے ۹۳ سال کی عمر پائی ۔ واہ واہ۔ آپ کو مبارک ہو، اور اللہ آپ کو بھی اتنی عمر دے! یہ محترمہ شمیم صاحبہ تو نہ صرف بچوں کی بہاریں اور جاہ و جلال دیکھ گئیں، بلکہ پوتوں، نواسیوں اور پڑ نواسیوں کی بہاریں بھی۔ کسی نہ کیا خوب کہا کہ یہ کبھی نہیں سنا تھا کہ نانی کی دادی مر گئی۔محترمہ نے کڑوڑوں اربوں کی جائدادیں بنتی دیکھیں اور کبھی بچوں کو نہیں کہا کہ حرام کی آمدنی سے عیاشی کے سامان نہ بنائو۔اگر بھٹو خاندان کی کوئی خاتون اس عمر میں بھی مرتی تو وہ فوراً شہید قرار دی جاتی۔
معلوم ہوتا ہے کہ گوئبلز کا بھوت ایک متعدی بیماری بن کر پاکستان کے سیاسی قائدین میں پھیل چکا ہے۔ اب بلاول زرداری کو ہی لے لیجئے۔ موصوف فرماتے ہیں کہ حکومت کراچی کی سٹیل مل کے کارکنوں کو فارغ کر نے کا فیصلہ سنگدلانہ ہے۔ اگر پی پی پی کی حکومت آئی تو وہ ان ۴۵۰۰ فارغ کردہ ملازمین کو بحال کروائے گی۔ اسے کہتے ہیں کہ نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی ۔برخودار کو اس کے مشیر یہ تو نہیں بتاتے کہ سٹیل مل کو اس حال پر پہنچایا کس نے تھا؟ ان کے بزرگوں نے۔ سٹیل مل انتظامیہ کا ایک بھیانک خواب بن چکی تھی، وہ اب کسی منطقی انجام پر پہنچ رہی ہے اور ملازمین جو سال ہا سال سے گھر بیٹھے تنخواہیں بٹور رہے تھے اب فارغ کیے جا رہے ہیں۔ لیکن پراپیگنڈا کے اصول کے تحت جھوٹ بولنا اور سچ کو چھپانا پی پی پی کا پرانا شیوہ ہے۔یہی حال جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا بھی ہے۔ وہ بھی وفاقی حکومت کے خلاف بولتے ہیں اور زمین آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں۔ اس وقت انہیں نہ قران یاد رہتا ہے اور نہ حدیث۔
اب پی ڈی ایم کا کھڑاگ سب لندن مقیم نون لیگی سازش ہے، جس کی ہدایا ت براہ راست دہلی میں بیٹھی بھارتی سازشی کمیٹی سے آتی ہیں جنہوں نے نواز شریف پر بہت بڑی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ جوکسی کا خیال ہے کہ لندن کی جائداد خریدنے کے کام آئی تھی۔پاکستان میں بیٹھی نون لیگ کی چھپکلی ، اوربھاڑے کے ٹٹو فضلو ملکر اس سازش کوچلا رہے ہیں اور پیسہ وہ ٹھیکیدار دیتے ہیں جو پیشگی ٹھیکے منظور کرا چکے ہیں۔اس طرح جلسوں کے اخراجات پورے ہوتے ہیں۔ بھارت کی جو سب سے بڑی تکلیف پاکستان سے ہے وہ پاکستان کی عسکری قوت ہے اور وہ ان سازشی عناصر کے ذریعے فوج کو بد نام کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح پاکستان کو کمزور۔ ہمارے یہ نادان سیاستدان ،آنکھیں بند کر کے اس سازش کا آلہ کار بن رہے ہیں۔ یہ ہے اصل افسوس کی بات ۔