اسرائیل کو تسلیم کرنے کی ذہن سازی شروع

369

یہ جو کہتے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے سے پاکستان دنیا سے کٹ جائے گا تنہا رہ جائے گا، یہ مومن کی نہیں بزدل اور منافق کی سوچ ہے۔پاکستان کلمہ کی بنیاد پر بنا اور اس کی بنیاد سے غداری کرو گے تو تنہا توتم رہ جائو گے یہا ں بھی آگے بھی۔ کلمہ کا مطلب ہے ایمان اور ایمان کا تقاضہ ہے جائز موقف پر ڈٹے رہنا جیسے فلسطین اور کشمیر ڈٹے ہوئے ہیں۔پاکستان نے کشمیر کو انڈیا کا تسلیم نہیں کیاتو فلسطین کو اسرائیل کا کیوں کر تسلیم کرے گا؟ آزادی فلسطین کے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطلب ہے‘‘ بے غیرتی بے ضمیری ایمان فروشی‘‘۔۔۔ پاکستان کی بنیاد ہی آزادی پر قائم ہے۔فلسطین اور کشمیر کی جدو جہد آزادی کو پاکستان سے زیادہ کون سمجھ سکتا ہے۔ حضرت علامہ کے خیال میں فلسطینی عوام کے حقوق غصب کرنے میں برطانیہ کے ساتھ ساتھ عرب ملوکیت بھی برابر کی شریک ہے۔
یہی شیخ حرم ہے جو چرا کے بیچ کھاتا ہے
گلیم بوذرؓ و دلق اویسؒ و چادر زہراؑ!
قائد آعظم نے انڈیا کو تسلیم کیا ہوتا تو پاکستان کے وجود اور لاکھوں شہیدوں کی قربانی کا کیا جواز تھا؟۔ قائد آعظم دو قومی نظریہ کے مطابق جب تک کشمیر سے قبضہ نہیں اٹھایا جائے انڈیا سے دوستی نہیں کی جا سکتی یعنی انڈیا کوتسلیم نہیں کیا گیا۔ پاکستان میں بے ضمیر حکمرانوں نے انڈیا کو یار بنا لیا۔اسرائیل سے متعلق قرآن نے فرما دیا‘‘اہل کتاب (بنی اسرائیل)میں سے کچھ مومن ہیں اور اکثر فاسق ہیں’’۔فلسطین پر قابض یہ وہی فاسق اہل کتاب ہیں۔اس فاسق کو جھپی ڈالنے کے لئے وہی مرے جا رہے ہیں جنہوں نے کشمیر پر غاضب کو تسلیم کیاہے۔ آل ابراھیم ان پر درودبھیجا جاتا ہے جو مومن ہیں، فاسق اور غاضب اہل کتاب آل ابراہیم کے درود میں کیوں کر شامل ہو سکتے ہیں؟اسرائیل قبضہ چھوڑ دے تو ان سے بھی کوئی جھگڑا نہیں۔ پاکستانیوں کی ذہن سازی کا مشن شروع کر دیا گیاہے کبھی کسی اینکر کو اسرائیل چینل پر بھیج کر اور کبھی کوئی صحافی سوشل میڈیا پر بول لکھ کرعوام کی نبض چیک کر رہاہے کہ غیرت ایمانی میں ابھی دم خم ہے یا با لکل ہی مر چکی؟یہودکی قابلیت سے نکمے مسلمان مرعوب ہیں،نبی کی امت کو تمام تر منافقت کے باوجود رب نے انہیں ذلت و زوال سے اس حد تک دوچار نہیں کیا جو سلوک بنی اسرائیل کے ساتھ کیا، یہود نے دنیاوی ترقی سے خود کو دنیا میں منوا لیا اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اصل سے ہٹ گئی اور یہودو نصاریٰ کی غلامی اختیار کر لی۔اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قابلیت پر عمل کیا ہوتا تو یہ‘‘جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں‘‘۔تاریخ انسانی میں دو ہی ریاستیں نظریے کی بنیاد پر بنی ایک اسلام اور کلمے کی بنیاد پر اوردوسری یہودیت کے نظریے پر۔ یہ دونوں کبھی ایک نہیں ہو سکتیں۔اگر اسرائیل کو پاکستان تسلیم کرتا ہے تو پھر یہ نظریہ پاکستان کا قتل ہوگا پھر اپنے آپ کو اسلامی اور آزاد ملک کہلوانے کے آپ حقدار نہیں۔وزیر آعظم عمران خان نے دو ٹوک الفاظ میں فیصلہ سنا دیا ہے کہ ہم فلسطین کے ساتھ ہیں جب تک اسرائیل فلسطین آزاد ریاست تسلیم نہیں کرتا پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔ ایک طبقہ وزیر آعظم کے اس بیان کو بھی‘‘ یو ٹرن’’بنانا چاہتے ہیں۔ عوام پہلے بھی کئی طرح کے‘‘یو ٹرن‘‘ کے ڈسے ہوئے ہیں، وزیر آعظم کے حمایتی صحافیوں کا اسرائیل تسلیم کرنے کی عوامی ذہن سازی نے بھی ماحول مشکوک بنا دیا ہے۔ عمران خان سے اگر یہ اقدام اٹھوایا گیا تو عمران خان کی نہ صرف سیاست ختم ہو جائے گی ان کے ناقد ین جو انہیں یہودی ایجنٹ کہتے ہیں سچے ثابت ہو جائیں گے۔ عمران خان کے حمایتی صحافیوں کو عوام کی ذہن سازی کا ٹاسک کس نے دیا یہ سوالیہ نشان اٹھ چکا ہے۔پاکستان اسرائیل کو مرتے دم تک تسلیم نہیں کرے گا۔ چند ماہ میں متحدہ عرب امارات او ر پھر بحرین کی جانب سے غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کو تسلیم کرنے کے اعلانات سامنے آئے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دونوں فریقو ں کے مابین سفارتی وفود اور انٹیلی جنس وفود نے آمد ورفت شروع کر دی۔عربوں کا ہنودو یہودو نصاری سے غلامانہ رازو نیاز پرانے ہیں۔ پاکستان بھی ذہنی غلام ہے اب ایک طبقہ چاہتا ہے اسرائیل کو تسلیم کر کے غلامی پر مہر ثبت ہو جائے۔حضرت اقبال کی سوچ کو سلام کہ فلسطین کا درد برسوں پہلے بیان کر گئے۔
زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ
میں جانتا ہوں وہ آتش تیرے وجود میں ہے
تری دوا نہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں
فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے
سُنا ہے میں نے غلامی سے امتوں کی نجات
خودی کی پرورش و لذتِ نمود میں ہے!!