ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان کی ملتی جلتی خصلتیں

388

اگر امریکی شکست خوردہ ٹرمپ اور پاکستان وزیراعظم عمران خان کی عادتوں، اعمالوں، فعلوں، قولوں اور خصلتوں پر غور کیا جائے یا موازانہ کیا جائے تو دونوں کی خصلتوں میں بہت زیادہ مماثلت پائی جاتی ہے۔ دونوں کی عمریں لگ بھگ ایک ہی ہیں اور ہم عصر ہیں،دونوں اپنے سکولوں میں کند ذہن اور نالائق طلباء تھے،دونوں کا پچپن ماں باپ کی نظر میں اسپاٹنگ گزرا ہے،دونوں اپنی آبائی پیدائشی جگہوں سے پیار یا محبت نہیں رکھتے ہیں،دونوں کی زندگی جنسی سکینڈلوں سے بھری پڑی ہے، دنوں نے تین تین شادیاں رچائیں، دونوں کی اوباشی اور خباثتی عادتیں مشہور ہیں، دونوں متکبر، مغرور، گھمنڈی عادتوں کے مالک ہیں، دونوں فسطائیت اور آمریت ذہن کے حامی ہیں، دونوں غیر جمہوری روایات کے حامی ہیں، دونوں جھوٹوں، فریبوں، دغابازیوں کے عادی ہیں جو دوسروں پر الزامات لگا لگا کر اپنے آپ کو اچھا ثابت کرتے نظر آتے ہیں، دونوں نے جھوٹے وعدوں اور دعوئوں سے لوگوں کو بری طرح گمراہ کیا ہے، دونوں من گھڑتوں، مفروضوں اور ہٹ دھرمیوں کے سہارے زندہ ہیں، دونوں مذاہب کو استعمال کر کے لوگوں کو بے وقوف بناتے ہیں، دنوں لوگوں کو نفرتوں اور حقارتوں سے تقسیم کرتے نظر آتے ہیں۔دونوں ہٹلر ازم اور نازی ازم کو پسند کرتے ہیں، دونوں مخالفین کو حقیر، ناتوقیر اور کمتر سمجھتے ہیں، دنوں نے اپنے اپنے ملکوں کو سیاسی، معاشی اور سماجی طور پر تباہ و برباد کر دیا ہے، دونوں میں بداخلاقی، بے ادبی، گالی گلوچ کا عنصر پایا جاتا ہے، دونوں نے اپنے اپنے ملکوں کو دنیا میں تنہا کر دیا ہے، دونوں سٹے باز اور جوا باز ہیں، دونوں مرض نسیان کا شکار ہیں، دونوں کا ذہنی اور جسمانی میڈیکل چیک اپ کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ دونوں عدالتوں کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کرتے، دونوں کو انتخابات میں دھاندلیوں کے الزامات سے عدالتوں سے منہ کی کھانا پڑی ہے، اگر ٹرمپ کی ریاستی عدالتوں اور فیڈرل کورٹوں نے دھاندلیاں کی درخواست رد کر دی ہے تو عمران خان کی دھاندلیوں کے الزامات کو سپریم کورٹ کے اعلیٰ کمیشن نے رد کر دیا تھا مگر وہ بضد رہے کہ عدلیہ کے ججوں نے دھاندلی کی ہے جبکہ خالی ہونے والی نشستوں پر وہ بری طرح ہار گئے مگر انہیں دھاندلیوں کے سلسلے میں ایک طویل ترین دھرنا دیا جس پر اربوں روپے اخراجات آئے جس کا خاتمہ پشاور آرمی سکول میں دہشت گردی کے بعد ہوا جس میں ڈیڑھ سو کے قریب طلباء اور اساتذہ شہید ہوئے تھے جس کے سب سے بڑے مجرم احسان اللہ احسان کو جیل سے افغانستان بھگا دیاگیا تھا۔
بہرکیف صدر ٹرمپ نے آخر کار عوامی دبائو میں آ کر جوبائیڈن کی کامیابی مشروط طور پر قبول کر لی ہے جس میں الیکٹرول کے بارے میں کہا گیا ہے کہ جب تک امریکی ریاستوں کے تمام الیکٹرول جوبائیڈن کو منتخب نہیں کرتے ہیں میں انہیں صدر تسلیم نہیں کروں گا جو جانتے ہیں کہ بعض ریاستوں کے الیکٹرول کے پاس اختیارات ہیں وہ چاہیں تو کامیاب امیدوار کی بجائے شکست خوردہ امیدوار کو بھی ووٹ دے سکتے ہیں جس کا ماضی میں کبھی مظاہرہ نہیں ہوا ہے اگر ایسا ہوا تو یہ جمہوریت کا جنازہ ثابت ہو گا کہ اسی ملین پاپولر ووٹ اور 306الیکٹرول جیتنے والا امیدوار الیکٹرول کی غیر جمہوری کردار سے جیتا ہوا انتخاب ہار جائے اگر ایسا ہوا تو امریکہ میں ایسٹ نارتھ، ویسٹ اور سائوتھ میں تقسیم ہو جائے گیا جس کو متحد رکھنا مشکل ہو جائے گا جس کا سابقہ سوویت یونین سے بھی براحال ہو گا جس پر محب وطن امریکی شہری بہت فکر مند ہیں مگر ٹرمپ میں نہ مانوں کی پالیسی پر بضد ہیں، اسی طرح عمران خان جو 25جولائی 2018ء کو انتخابی لوٹ مار سے لائے گئے جنہیں رات کو الیکشن عمل بند، کمپیوٹر بند، پولنگ ایجنٹس بند، نتائج بند کر کے جتوایا گیا ہے وہ آج یکطرفہ احتساب کاداعی ہے جس سے ملک میں مسلسل انتقام سے استحکام کمزور پڑ چکا ہے جس میں ملک کو سیاسی، معاشی، مالی بحران اور سماجی نقصانات پہنچے ہیں مگر وہ شخص بضد ہے کہ مخالفین کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے قلع قمع کر کے اپنی نیازی بادشاہت کا اعلان کر دے جن کو مردوں کی بجائے دو عورتیں مریم نواز اور آصفہ بھٹو بھگانے میں مصروف ہیں جس سے لگتا ہے کہ سیاسی میدان جنگ میں اسی طرح انہیں شکست فاش ہو گی جس طرح باقی میدانوں میں عورتوں کے ہاتھوں رسوا ہوا ہے، بہرحال سیاست میں ضدی ہونا بہت بڑا جرم کہلاتا ہے جو ہٹلر کی طرح جرمن کو تباہ و برباد کرنے کا باعث بنتا ہے جس کا مظاہرہ امریکہ اور پاکستان میں دیکھا جارہا ہے کہ آج دونوں ممالک دنیا میں تنہا ہو چکے ہیں دنیا سے کٹ چکے ہیں جن کو دنیا بھر میں عزت و احترام سے نہیں دیکھا جاتا ہے جو اپنی غلط پالیسیوں اور حکمت عملیوں کا نتیجہ ہے کہ جن پر بیرونی دنیا اعتبار اور اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں ہے، امریکہ کی عزت جوبائیڈن دوبارہ عزت بحال کرے گا مگر پاکستان کا کیاہو گا جس کی حکومت احمقوں اور بیوقوفوں پر مبنی ہے جو اپنی عقل و شعور سے پیدل ہیں جو حکومت میں ہوتے ہوئے اہل اقتدار کی بجائے بے زار لوگ تصور کئے جاتے ہیں جس کے لئے کوئی نجات دہندہ چاہیے۔