موروثی سیاست میں ایک نئے مہرے کی آمد، آصفہ بھٹو کی واحد قابلیت یہ ہے کہ ان کے نام کے آخر میں بھٹو لگا ہے

367

دنیا کے تمام تر مروجہ اصولوں کے مطابق، اولاد کے آخری نام کے ساتھ ہمیشہ باپ کا آخری نام منتقل ہوتا ہے مگر ہمارے ملک میں کرپٹ سیاستدانوں کے مکروفریب کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنا نسلی آخری نام بھی سیاست میں دھوکہ دہی کیلئے استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرتے، سب سے بڑا دھوکہ میاں شریف کا خاندان کھیل رہا ہے، مریم نواز شریف نے جب ڈرائیور کے ساتھ بھاگ کر شادی کی تو اصول اور قواعد کے مطابق ان کانام شادی کے بعد مریم شریف کے بجائے مریم صفدر ہو گیا تھا اور یہ ہی نام ہے جو ان کی تمام قانونی دستاویزات میں درج ہے، ان کے قومی شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر سرکاری دستاویزات اور کاغذات میں ان کا نام مریم صفدر ہی درج ہے مگر جب انہیں سیاست میں لایا گیا تو خاندانی اور موروثی قیادت کو آگے بڑھانے کیلئے اور عوام الناس کو دھوکہ دینے کیلئے ان کے نام کو شریف خاندان نے تبدیل کر کے میاں نواز شریف کے آخری نام کے ساتھ لکھنا شروع کر دیا جس کے نتیجے میں اب وہ مریم صفدر کے بجائے مریم نواز شریف کہلاتی ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ بقول عمر شریف اب آئندہ انہیں اسی نام سے پڑھا، لکھا اور دفنایا جائے گا، دلچسپ بات یہ ہے کہ پچھلی آدھی صدی سے پوری دنیا عمران خان کو اسی نام سے لکھتی، پڑھتی اور جانتی ہے مگر ان کے نام کی اہمیت کو کم کرنے اور لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے نواز مسلم لیگ والے انہیں عمران نیازی کے نام سے پکارتے ہیں مگر یہ دھوکہ چل نہیں پارہا ہے۔
اسی طرح سے بے نظیر بھٹو کی وفات کے بعد ان کے شوہر آصف زرداری نے ایک پریس کانفرنس کر کے عوام کو خاص طور سے سندھیوں کو دھوکہ دینے کیلئے اور عالمی میڈیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو اور نصرت بھٹو کی طرف اپنے تینوں بچوں بلاول زرداری، بختاور زرداری اور آصفہ زرداری کے ناموں کے آخر میں بھٹو لگانے کا اعلان کر دیا، یعنی ایک قلم کی جنبش سے ان کی ولدیت کو تبدیل کر کے بلاول بھٹو، بختاور بھٹو اور آصفہ بھٹو کر دیا یعنی
جنوں کا نام خرد رکھ دیا، خرد کا جنوں
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے
اب پی ڈی ایم کے ملتان کے جلسی میں ایک مرتبہ پھر بلاول بھٹو کے بعد ان کی آخری پود آصفہ بھٹو کو لانچ کیا گیا ہے جس میں انہوں نے ڈرتے ڈرتے بہت مختصراً بے نظیر بھٹو کی کاپی کرتے ہوئے خطاب کیا، اس موقع پر آصفہ بھٹو کو سامنے لانے پر مختلف لوگ مختلف آرا دے رہے ہیں، کہنے کو بلاول بھٹو کو بہانہ بنا گیا ہے کہ انہیں کووڈ ہو گیا ہے مگر اطلاعات یہ ہیں کہ اب تک کی ان کی پرفارمنس سے پی پی پی اور زرداری صاحب بہت مایوس ہیں، خاص طور سے گلگت بلتستان میں شکست کے بعد یہ طے کیا گیا ہے کہ پاکستان کے عوام فی الحال ایک ہم جنس پرست لیڈر یا وزیراعظم کو ذہنی طور پر قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں، یاد رہے کہ مرتضیٰ بھٹو اور غنویٰ بھٹو کا بیٹا ذوالفقار علی بھٹو جونیئر بھی ایک اوپن گے یعنی کھلے عام ہم جنس پرست ہے اور کئی ویڈیوز بھی ویب پر موجود ہیں، بلاول ہائوس میں بلاول بھٹو کا ایک گورا ہم جنس پرست ساتھی یا پارٹنر بھی ان کیسا تھ ہی قیام پذیر ہے، تو طے یہ ہوا کہ ہمیشہ ہی آخری نام کا دھوکہ نہیں چلتا، ان دونوں بھٹوئوں کو لاسٹ نیم بھٹو ہوتے ہوئے بھی لوگوں نے مسترد کر دیا اور آصفہ کی لاٹری نکل آئی۔