قوم کو دُعا دینے کی عادت پڑ گئی ہے ،میت کو بھی درازیٔ عمر کی دُعا دیتے ہیں!

318

ابھی کچھ عرصہ پہلے ایک اینکر کو محترمہ شمیم اختر صاحبہ یعنی (والدہ نوسرباز و شوباز) کا انٹرویو لیتے ہوئے دیکھا، پتہ نہیں کون سا چینل تھا بہرحال اینکر نے بہت سارے سوالات کئے، پھر یہ بھی پوچھا کہ ان کے بیٹوں پر جو کرپشن کے الزامات ہیں اس کے بارے میں وہ کیا کہیں گی تو خاتون نے کہا یہ سب جھوٹ ہے ان کے بیٹوں پر الزام لگایا جارہا ہے، انتقامی کارروائیاں کی جارہی ہیں، انٹرویو کرنے والی خاتون کا جو حال ہو گا وہ تو ہو گا مگر دیکھنے اورسننے والے بھی انگارے چبا رہے ہونگے، عیادت کرنا، تعزیت کرنا ایک کار ثواب بھی ہے، دعائیں دینا دعائیں لینا احسن اعمال ہیں اور دعائیں دینے میں پیچھے تو ہم بھی نہیں رہتے ہر وقت دعائیں دینے کی ایسی عادت پڑ گئی ہے کہ میت کو بھی درازی عمر کی دعا دے دی جاتی ہے مگر کیا کریں اکثر لوگوں کے لئے خیر کے کلمات منہ سے نکلتے ہی نہیں جم کر رہ جاتے ہیں۔
کہتے ہیں ماں کی آغوش بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے، اولاد کی تربیت میں اس کا بہت ہاتھ ہوتا ہے لیکن بعض مائیں اپنی اولاد کی بے راہ روی پر بھی ڈھکن ڈالتی رہتی ہیں، انہیں اللہ نے یہ توفیق نہیں دی کہ وہ اپنی اولادوں کو راہ راست دکھا سکیں، ان کی غلط روش پر انہیں تنبیہہ کر سکیں، برخلاف اس کے وہ بڑی شدومد سے ان کی طرف داری کرتی ہیں، کیا شمیم اختر صاحبہ کو پاکستان کی بگڑتی ہوئی معیشت کا حال معلوم نہیں تھا، کیا انہیں علم نہیں تھا عوام غربت کی کس چکی میں پستے جارہے ہیں، کس طرح اپنی زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہورہے ہیں، مہنگائی کے عفریت نے ان کے حلق سے نوالے نکلوا لئے ہیں۔یہ بھوکے، پیاسے، ننگے عوام غربت کی وجہ سے اپنے بچوں کو تعلیم سے محروم رکھنے پر مجبور ہیں جب تن کو روٹی اور بدن کو کپڑا نہ ملے تو تعلیم کہاں سے دی جائے گی، ان سب باتوں سے وہ بالکل انجان تھیں، انہوں نے بھی اس بہتی گنگا میں خوب اشنان کیا خوب فائدے اٹھائے، کبھی اپنی اولادوں سے یہ نہیں کہا کہ نمک حراموں اپنی سرزمین نے ہی تمہیں اتنے اونچے مرتبے پر بٹھایا تمہیں مالک و مختار بنایا، تم نے جس تھالی میں کھایا اسی میں چھید کر دیا، احسان فراموشی کی انتہا کر دی، تم نے ان سے یہ بھی نہ کہا کہ معیشت کی گرتی ہوئی دیوار کو سہارا دینے کے لئے اس کا قرض اتارو جو دولت تم نے لوٹی ہے اس سے کافی کچھ بنا لیا ہے اب ان روتے بلکتے عوام پر رحم کرو، لیکن وہ صاف مکر گئیں۔
پھولن دیوی اپنی ماں کو بستر مرگ پر چھوڑ کر جلسے کرتی رہیں اور عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے یہ کہتی رہیں کہ اپنی ماں کو بستر مرگ پر چھوڑ کر آپ کے درمیان آگئی ہوں یعنی ان کا اپنا کوئی مفاد نہیں تھا، انہیں تو عوام کا دکھ کھائے جارہا تھا، اور اب دادی محترمہ کی موت پر بھی جلسے جلوس کئے جارہے ہیں، دماغ میں بھیجا تو ہے نہیں نہ ان کے پاس کوئی ایجنڈا ہے، چومکھی لڑائی میں کبھی عمران کو برا بھلا کہتی ہیں کبھی فوج کو گالیاں دیتی ہیں، ان کو اچھی طرح سمجھا دینا چاہیے کہ تم نے اس ملک کو لوٹا ہے، لوٹ کا مال باہر لے گئے ہو، تم غدار وطن ہو اور یہ فوج جو سرحدوں پر کھڑی اس ملک کی حفاظت کررہی ہے اپنے خون سے اس سرزمین کو سینچ رہی ہے ، تمہارا کوئی پیارا جگر کا ٹکڑا محاذ پر شہید نہیں ہوا، تمہاری کبھی سہاگن کی مانگ نہیں اجڑی، کسی ماں کی کوکھ نہ جلی، تمہارے کسی بچے پر سے باپ کا سایہ نہیں اٹھا، اسے یتیمی کا لبادہ اوڑھ کر زندگی کو گھسیٹنا نہیں پڑا، تو تم کیا جانو، اپنے محلوں میں چین کی نیندیں سونے والوں تمہیں کیا پتہ کہ سرد راتوں میں برف باری اور گرتے گولوں کے درمیان مائوں کے یہ لاڈلے سرحدوں پر پہرہ دیتے ہیں، ان کی مائوں نے بھی دن رات ایک کر کے انہیں پالا ہو گا، خود گیلے بستر میں سو کر انہیں سوکھے میں لٹایا ہو گا، سونے کا نوالہ کھلایاہو گا، اب انہیں سرحدوں پر اپنی بھوک، پیاس بھی یاد نہیں بس دشمن پر نظر ہے کہ اس کی میلی آنکھوں کو پھوڑنا ہے، اپنی دھرتی ماں کو اپنے لوگوں کو بچانا ہے، کتنی مائوں کے سپوت اس سرزمین پر قربان ہو گئے ، تمہیں اتنا سرزنش کیا گیا مگر مجال ہے تمہارے چہروں پر پشیمانی کا ایک شائبہ تک نہیں ڈھیٹ لوگ ہو تم ، اتنا ذلیل و خوار ہونے پر بھی عوام کے سامنے تقریریں جھاڑتے پھرتے ہو تم اس ملک کے دشمن ہو اور حکومت کو تم سے اسی طرح نمٹنا چاہیے جیسے دشمن سے نمٹا جاتا ہے، غربت کی چکی میں پستے ہوئے عوام کی بددعائیں تمہارے ساتھ ہیں، مکافات عمل ہو گا، یہاں پر بھی ذلت اور رسوائی اور آخرت میں بھی جہنم ہے؎
گھسیٹا کچھ اس ادا سے کہ نسل ہی بدل گئی
ایک خان نے شیر کو کتا بنا دیا!
دادی اماں تو اللہ کو پیاری ہو گئیں مگر وہ اتنی پیاری بھی نہیں تھیں مریم نواز ان کے سوگ میں اپنے جلسے جلوس نکالنے موقوف کر دیتیں کچھ بلاول سے اختلافات بھی سامنے آرہے ہیں، مولانا اپنی مہم پر ڈٹے ہوئے ہیں انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ایک مہلک بیماری کس طرح لوگوں کو نگل رہی ہے، اس طرح کے اجتماعات کتنے خطرناک نتائج پیدا کر دینگے، بھارت بڑے مزے لے رہا ہے اور ہر واقعہ کو بڑھا چڑھا کر بیان کررہا ہے، پھولن دیوی نے جیل میں جو مصیبتیں اٹھائیںگھٹیا پن کی انتہا کر دی کہ ان کے واش روم میں کیمرے لگائے گئے، حکومت ان مجرمان کو بہترین سہولیت دینے سے باز نہیں آتی اور یہ لوگ ہرزہ سرائی سے منحرف نہیں ہوتے، جھوٹ بولنے میں سب سے ماہر ہیں۔
ادھر محترمہ فردوس اعوان ٹیبل پر طبلے بجا کر گارہی ہیں (اس نواز کے آنے کا شدت سے انتظار ہے) ’’آ جا تینوں اکھیاںں اڈیک دیاں‘‘