امریکا نے چین کے ساتھ 5 ثقافتی پروگرام ختم کردیے

678

واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے دور اقتدار کے خاتمے سے قبل چین کے ساتھ 5 ثقافتی تبادلے کے پروگرام ختم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ چینی پروپیگنڈا کے لیے استعمال کیے جارہا تھے اور اس کا امریکا کو کوئی فائدہ نہیں تھا۔

ثقافتی پروگراموں کا خاتمہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب واشنگٹن حال ہی میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کے اراکین کے امریکا میں قیام کے حوالے سے ویزا پابندیاں عائد کی تھیں جس سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدے پر رہنے کے آخری ہفتوں میں بیجنگ کے ساتھ تعلقات میں مزید کشیدگی کا عندیہ ملتا ہے۔

سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ ختم کیے گئے تبادلہ پروگرام کی مکمل ادائیگی اور آپریشنز چینی حکومت پروپیگنڈے کے طور پر کررہی تھی۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اس سے چینی کمیونسٹ پارٹی کے عہدے داروں کو سہولت فراہم کی جارہی تھی نہ کہ چینی عوام کو، جو آزادی اظہار رائے سے لطف اندوز نہیں ہوتے۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے پالیسی سازوں کے تعلیمی چین کے دورہ کے پروگرام، امریکا-چین فرینڈشپ پروگرام، امریکا-چین لیڈرشپ ایکسچینج پروگرام، امریکا-چین ٹرانسپیسیفک ایکسچینج پروگرام اور ہانگ کانگ ایجوکیشنل اینڈ کلچرل پروگرام کو ختم کیا۔

ہر پروگرام کے ذریعے امریکی عہدیداروں کو چین میں بیجنگ کے خرچ پر سفر کرنے کی اجازت ملتی تھی۔

مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکا چین کے ساتھ ثقافتی پروگراموں کے باہمی اور منصفانہ تبادلے کا خیرمقدم کرتا ہے اور باہمی فائدہ مند افراد کا تبادلہ جاری رکھے گا۔