پرویز مشرف کی لاش کو گھسیٹنے والا جسٹس وقار سیٹھ خود قبر میں چلا گیا

18

یہ اللہ تعالیٰ کا کیسا نظام ہے کہ ظالم یا ظلم کی بات کرنے والے کو اس دنیا میں ہی انجام کو پہنچا دیا جاتا ہے، جسٹس وقاراحمد سیٹھ پشاور ہائیکورٹ کا چیف جسٹس جس کو اپنی کرسی کا بہت زعم تھا کہ اس کے ہاتھ میں قلم ہے اور وہ انصاف کی کرسی پر بیٹھا ہے لیکن وہ جب چاہے ناانصافی کر سکتا ہے، اس چیف جسٹس نے ۱۷ دسمبر 2019ء کو پرویز مشرف کے جعلی غداری کیس میں آرٹیکل کے تحت جو چور ڈاکو چور ڈاکو نواز شریف کی حکومت میں بنایا گیا تھا فیصلہ سنایا، اس فیصلے میں وقار سیٹھ نے پیراگراف 66کا اضافہ کیا اور اس میں لکھا کہ اگر پرویز مشرف سزا پانے سے پہلے انتقال کر جائے تو اس کی لاش کو گھسیٹا جائے اور گھسیٹ کر ڈی چوک لایا جائے اور اس کو تین دن تک لٹکایا جائے، کیسا ظالم اور بے رحم مسلمان تھا کہ لاش کو ڈی چوک پر لٹکانے کا حکم دے رہا تھا اسلام میں تو دشمنوں کی لاشوں اور جنازوں کو عزت دینے کا حکم ہے، مسلمان جنگ میں مارنے جانے والے اپنے دشمنوں کو بھی عزت و احترام کیساتھ دفناتے تھے یا ان کی مذہبی رسومات کیساتھ ان کی تدفین کرتے تھے، یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان اور ایک صوبہ کا چیف جسٹس تھا جو ایک آرمی چیف کے لئے اس طرح کا آرڈر لکھ رہا تھا، آرمی چیف بھی کون جس نے ملک کے دفاع کیلئے جنگیں لڑی ہوں، کارگل جنگ کا سپہ سالار جس نے بھارت سے 1971ء کی جنگ کا بدلہ لے لیا ہو، جس کی ملک سے وفاداری کی بھارت بھی تعریف کرتا ہو جس نے پوری دنیا میں پاکستان کا مقدمہ لڑا ہو جس نے آئین کی حفاظت کا حلف اٹھایا ہو جس نے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کو سیاسی طور پر بہت پیچھے چھوڑ دیا، اسی پرویز مشرف کو وقار احمد سیٹھ غدار ثابت کررہا تھا، پوری دنیا اس فیصلے پر حیران اور پریشان تھی کہ کیسا جج ہے جو اپنے ہی آرمی چیف اور صدر کو غدار ثابت کررہا ہے اور موت کی سزا دے رہا ہے، اسی چیف جسٹس کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہی دکھا دیا کہ جو کرونا کی بیماری سے انتقال کر گیا، 13نومبر 2020ء بروز جمعہ اس کا اسلام آباد میں انتقال ہوا، پرویز مشرف کیسے غدار ہوا؟ کیا کسی ملک کا آرمی چیف غدار ہو سکتا ہے، کیا دنیا میں ایسی کوئی اور مثال موجود ہے؟ ان سب سوالوں کا جواب نفی میں ہو گا، کہانی شروع ہوتی ہے افتخار چودھری کے وقت سے جب پرویز مشرف نے ان کو ہٹایا اور ایک ریفرنس ان کے خلاف دائر کیا گیا، اس کا انتقام افتخار چودھری نے مشرف کے خلاف آرٹیکل 6لگا کر غدار قرار دیا، نواز شریف نے اقتدار میں آتے ہی بدلہ لے لیااور ان کے خلاف کورٹ میں مقدمہ دائر کر دیا، ایک آرمی چیف پر دفعہ 6لگا دی، کیسے کیسے ظلم ہوتے ہیں پاکستان میں۔
16مارچ 1961کو ڈیرہ اسماعیل خان میں پیدا ہونے والے وقار سیٹھ کا خاندان ہمیشہ سے قانون اور عدلیہ سے منسلک رہا، ان کے والد بھی عدلیہ سے تعلق رکھتے تھے، ان کا نانا بھی پارٹیشن سے پہلے متحدہ ہندوستان میں بھی قانون اور عدلیہ کا حصہ رہے، وقار سیٹھ نے 1985ء میں وکالت کا آغاز کیا اور 1990ء میں ہائیکورٹ میں وکالت کا آغاز کیا اور 1990میں ہائیکورٹ کے وکیل بن گئے، 2008ء میں سپریم کورٹ میں وکالت کا آغاز کیا پھر 2اگست 2011میں ایڈیشنل سیشن جج مقرر ہوئے، 28جون 2018ء میں پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مقرر ہوئے، جسٹس وقار سیٹھ ہمیشہ متنازع چیف جسٹس رہے، انہوں نے ہمیشہ اداروں اور حکومت کے خلاف فیصلے دئیے، 2018ء میں 74سے زیادہ دہشت گردوں اور قانون توڑنے والوں کی سزائیں کالعدم کر دیں، ان سزائوں کو توثیق آرمی چیف کر چکے تھے تب اداروں کو حکم امتناعی لینے کے لئے سپریم کورٹ جانا پڑا، تب یہ افراد رہا ہونے سے بچے، پی ٹی ایم اور ٹی ٹی پی کے نہ جانے کتنے دہشت گردوں کو ضمانت پر چھوڑ دیا جو ان کی ملک دشمنی کا ثبوت تھا، ان کے اوپر ہمیشہ تنقید ہوتی رہی کہ وہ ہمیشہ حکومت کے خلاف ہیں، بی آر ٹی پشاور کی بس سسٹم پر انہوں نے انکوائری شروع کروائی جو ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی۔
جسٹس وقار سیٹھ کا دور بحیثیت جج ہمیشہ تنقید کی زد میں رہا، پرویز مشرف کیس میں عمران حکومت ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے والی تھی لیکن بعض لوگوں کے سمجھانے پر عمران خان رک گئے لیکن قدرت کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے فوج میں وہ انتہائی غیر مقبول تھے، پرویز مشرف کے خلاف فیصلے سے ہر فوجی یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ اگر آرمی چیف غدار ہو سکتا ہے تو اس کے نیچے کی پوری فوج کیا غدار ہے؟ عجیب ہی فیصلہ تھا، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے اور سارے گناہ معاف کرے اور جنت میں جگہ دے۔آمین

Leave A Reply

Your email address will not be published.