ہار کر جیتنے والے کو ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں!!

19

بالآخر ٹرمپ ہار ہی گئے، نہیں خود ٹرمپ نہیں مانتے اور شاید مانیں گے بھی نہیں اس لئے انہوں نے کئی لاء سوٹس، کئی مختلف ریاستوں پر دائر کئے، یہ الیکشن میں بے ایمانی ہونے کے شک پر کئے گئے تھے، کئی سٹیٹس میں تو ان کا یہ دعویٰ فوراً ہی رد کر دیا گیا اور جن عدالتوں نے بات سنی بھی انہوں نے ایک دو ہیرنگس کے بعد فارغ کر دیا، یعنی 28سال بعد ٹرمپ ایسے صدر ہیں جو کہ صرف ایک ٹرم کیلئے ہی صدر منتخب ہوئے۔
ٹرمپ ہارے تو ان کے ساتھ کئی چیزیں ہار گئیں، چار سال میں وہ کئی باتیں جن کو انہوں نے بار بار دوہرایا تھا، جلد ہی ٹرمپ کی ٹرم ختم ہو جائے گی اور یہ باتیں پرانی ہو جائیں گی، سب سے پہلے تو مسلم BAN، امریکہ سے لے کر پاکستان تک یہ پریشانی تھی کہ ٹرمپ کے آجانے سے مسلم ممالک پر بین لگ جائے گا، 2016ء کے الیکشن میں انہوں نے اس مدعے کو کئی بار اٹھایا تھا کہ وہ مسلمز پر پابندی لگادیں گے، امریکہ داخلے پر ،پچھلے چار سال میں یہ نہیں ہوا لیکن 2020ء کے الیکشن میں لوگوں کو قومی خطرہ تھا کہ اگر ٹرمپ آگیا تو وہ ایسا کچھ ضرور کرے گا، یہاں تک کہ کچھ مسلمان گھرانوں نے تو یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اگر ٹرمپ آگیا تو وہ امریکہ چھوڑ کر چلے جائیں گے کیونکہ ٹرمپ تو آفیشلی یہ انائونس کر دے گا کہ وہ مسلمانوں پر بین لگا دے گا، ٹرمپ ہارے تو ان کے ساتھ مسلم بین کا خطرہ بھی ہار گیا۔
ٹرمپ کی ہار کے ساتھ ہی میکسیکو اور امریکہ کے درمیان دیوار بنانے کا بھیانک خواب بھی ٹوٹ گیا، ان کا پکا ارادہ تھا کہ وہ یہ دیوار بنائیں گے اور اس پر جو خرچہ آئے گا وہ بھی میکسکن حکومت سے لیں گے، امریکہ میں ایک بڑی تعداد میں Mexicansرہتے ہیں اور ظاہری بات ہے کہ دیوار کی بات لے کر نہ وہ خوش تھے اور نہ میکسیکن حکومت۔ 2016ء میں یہ مدعا اٹھایا تھا ٹرمپ نے مگر کچھ ہوا نہیں، اب 2020ء کے الیکشن اگر ٹرمپ جیت جاتے تو لوگوں کو خطرہ تھا کہ ٹرمپ اس مدعے کو پھر سے اٹھائیں گے، تو ان کی ہار کے ساتھ ہی یہ مدعا بھی ہار گیا اور یہ امریکنز اور مکسیکنز دونوں کے حق میں بہتر ہوا۔
ٹرمپ کو تاریخ کا سب سے بُرا صدر مانا جارہا ہے، ان ہی کی صدارت کے دوران صدی کا سب سے بڑا وائرس Covid-19بھی آگیا، امریکہ دنیا کا سب سے بڑا اور پاورفل ملک ہے، یہاں لوگوں کو Educateکرنا کوئی مشکل کام نہیں تھا، ٹی وی ریڈیو، سوشل، ڈیجیٹل میڈیا سب بہت مضبوط ہیں پھر بھی صدر نے کووڈ کے معاملے کو اس طرح خراب طریقے سے ہینڈل کیا جس کی مثال دنیا کے کسی دوسرے ملک میں نہیں ملتی۔
صدر ٹرمپ ماسک کے خلاف تھے اور عوام کو بھی یہی بتاتے تھے کہ ماسک لگانا ضروری نہیں، حالانکہ CDCنے کئی بار اس بات کی تاکید بھی کی مگر انہوں نے سنی ان سنی کر دی، سکول، بزنس وغیرہ بند کرنے پر منفی Negative مشورے دیتے رہے، نتیجہ یہ ہوا کہ امریکہ میں روز 150,000سے 200,000 تک روزانہ کی تعداد کے Casesپہنچ گئے ہیں، سب کا خیال ہے کہ اگر ٹرمپ شروع سے کرونا کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے تو امریکہ میں اس وباء سے یہ حال نہ ہوتا جو ہوا ہے، ٹرمپ کے جانے سے یقینا کووڈ کی بھی ہار ہوئی ہے کیونکہ نئی انتظامیہ وہ سب کچھ کرے گی جو کہ یقینا وقت کی ضرورت ہے۔
جوبائیڈن نے مذاقاً کہا تھا کہ میں وائٹ ہائوس میں آ کر ڈاکٹر فاؤچی کو Hireکروں گا حالانکہ سب جانتے ہیں کہ ڈاکٹر فاؤچی اس وقت بھی جاب پر ہیں یہ اور بات ہے کہ ٹرمپ نے کئی مہینوں سے ان سے بات بھی نہیں کی ہے جبکہ ڈاکٹر فاؤچی امریکہ کے بہترین وائرس ایکسپرٹ ہیں۔
وائرس کی بات ہورہی ہے تو پھر چائنا کا ذکر کیسے بھول سکتے ہیں، ٹرمپ نے اپنی 2020ء کی پہلی صدارتی کمپین کی تقریر میں کووڈ 19 کو ’’چائنا وائرس‘‘ کا نام دیا اور یقینا یہ بات چائنیز کو پریشان کرنے کے لئے بہت بڑی تھی، یہ درست ہے کہ یہ وائرس چائنا سے شروع ہوا تھا لیکن اس کا مطلب ہر گز نہیں کہ چائنا کو اس موذی مرض کا ذمہ دار قرار دے دیا جائے، چائنا نے تو اس وائرس کا سدباب بہت خوبی اور احسن طریقے سے کیا یہاں تک کہ پورے ملک میں صرف 80,000کیسز ہوئے جتنے آج امریکہ میں آدھے دن میں ہو جاتے ہیں، ٹرمپ کے ہارنے سے ’’چائنا وائرس‘‘ بھی ہمیشہ کیلئے ہار جائے گا۔
ٹرمپ کے ہار جانے سے جو سب سے بڑی چیز ہار جائے گی وہ ہے Discriminationامریکہ میں عمر، Gender، دیس یا مذہب کی بنیاد پر جانچنا غیر قانونی ہے لیکن جب خود صدر یہ جانبداری برت رہا ہو تو پھر بھلا دوسروں کا یا عام عوام کا کیا رویہ ہو سکتا ہے!!!
ٹرمپ نے چار سال میں امریکہ کا وہ بدنما چہرہ دنیا کو دکھایا جو پچاس ساٹھ سال سے چھپا ہوا تھا، اگر ٹرمپ اگلی ٹرم کیلئے بھی منتخب ہو جاتا تو یقینا اس چیز کو بڑھاوا ملتا۔
لوگوں کا خیال تھا اگر ٹرمپ جیت جاتا تو ان کے بچوں کیلئے وائٹ ہائوس کا راستہ صاف ہو جاتا یعنی ان کا بیٹا، بیٹی صدارت کے امیدوار ہو سکتے تھے لیکن ان کے ہارنے سے یہ راستہ آسان نہیں رہا۔فلمسٹار شاہ رخ خان نے اپنی فلم بازی گر میں کہا تھا کبھی کبھی جیتنے کیلئے کچھ ہارنا پڑتا ہے، ٹرمپ ہارے ہیں اور ہم امریکہ کو پھر سے دنیا کا بہترین ملک بنانے میں جیت گئے ہیں، یہ ایک بہت اچھی خبر ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.