نئے سیاسی موسم!

13

سیاست ہر لمحہ بدلتی رہتی ہے اور نئے گل کھلاتی ہے، نئے رنگ، نئی خوشبو اور نئی لہر، سیاست ہمیشہ متحرک رہتی ہے، اسی بہتے چشمے سے فکر کے نئے سوتے پھوٹتے ہیں، عوام کی فلاح کے نئے راستے نکلتے ہیں، آسانیاں پیداکی جاتی ہیں، عوام کی زندگی میں، یہ ٹہرا ہوا پانی نہیں ہے، ٹہرا ہوا پانی بدبودار ہو جاتا ہے اور پینے کے قابل نہیں رہتا، دراصل یہ عوام ہی ہوتے ہیں جو نئی فکر کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ان کے منتخب نمائندے نئی فکر کو قابل عمل بناتے ہیں، تیسری دنیا میں نو آبادیاتی نظام کے ختم ہونے کے بعد نہ تو نئی روشنی کو لانے والے رہنما تھے اور نہ ہی ان کے پاس سیاست اور ترقی کے رجحانات اور پھر تعلیم کی عدم موجودگی کی وجہ سے تیسری دنیا میں آگے بڑھنے کا شعور ہی نہیں جاگا، اور اس سے نام نہاد عالم اسلام بہت متاثر ہوا دراصل یہ عالم اسلام ہے ہی نہیں معاشی بدحالی کے مارے ہوئے مسلم ممالک ہیں جن میں بسنے والے عوام کو یہ بتا دیا گیا ہے کہ نماز پڑھو اور قرآن پڑھو تم کو ثواب ملے گا، یہ جو تمہاری معاشی بدحالی ہے یہ من جانب اللہ ہے، سو دعا کیا کرو دعا سے تقدیر کا لکھا بدل جاتا ہے، رزق کا وعدہ اللہ نے کیا ہے سو رزق دینے والا وہی ہے، وہ جس کو چاہے کم رزق عطا کرے اور جس کو چاہے زیادہ رزق عطا کرے، اور اگر تم بدحال ہو تو اللہ کو یاد کرتے رہو اور راضی بہ رضا رہو تم کو اگلے جہان میں بڑے بڑے انعامات ملنے والے ہیں، یہ بیانیہ سرمایہ دار کا ہے جو مولوی کی زبان سے عوام تک پہنچتا ہے اور عقیدے کی سند پاتا ہے، مولوی کو مفت کی روٹی ملتی ہے اور جاگیردار ملک کے وسائل کو ہڑپ کرتا رہتا ہے، ان مسلم ممالک کے مسلمان سمجھتے ہی نہیں کہ غربت MAN MADE DISEASEہے اور مناسب معاشی اقدامات سے تقسیم دولت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے، مسلم ممالک میں سیاست ایک ٹہرا ہوا بدبودار پانی ہے اور ملائیت نے چاروں اطراف میں گمانوں کی فصیلیں بنا کر اس پانی کو بہنے سے روک دیا ہے، حکمران اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہیں، پاکستان اس صورت حال کاپچاس عشروں سے شکار ہے، عوام کو دعائوں، وظیفوں، دھاگوں، ناظرہ کے چکروں میں ڈال دیا گیا ہے، یہ احمق سمجھتے ہیں کہ قرآن پڑھنے سے مذہب سمجھ میں آجاتا ہے۔

پاکستان اس وقت پوری طرح ملائیت کی گرفت میں ہے، جاگیردار اس بیانئے کا مددگار اور فوج اس بیانیہ کی محافظ ہے، عمران کو امید نہیں تھی کہ ٹرمپ الیکشن ہار جائے گا اور یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ امریکہ سے تعلقات جوں کے توں برقرار رہیں گے، مگر جوبائیڈن اور کملاہیرس نے حیران کر دیا، کچھ تجزیہ کار یہ کہتے ہیں کہ ٹرمپ نے Covid19کو جس طرح ہینڈل کیا اس سے جوبائیڈن کی لاٹری لگ گئی، مگر ایسا بھی نہیں تھا کہ اس کا اندازہ لگانا مشکل تھا، حالات تبدیل ہو جاتے ہیں سو ہو گئے اور عمران حکومت اس کے لئے تیارنہ تھی، لہٰذا بہت بدحواسی میں عمران نے جوبائیڈن کو مبارکباد کا جو پیغام دیا وہ بہت احمقانہ تھا عمران نے کہا کہ ہم کرپشن، لوٹی ہوئی دولت اور افغان مسئلے پر امریکہ کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں، عمران کو کون سمجھائے کہ کرپشن اور لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کا پاک امریکہ تعلقات سے کوئی تعلق نہیں ہے، عمران قوم کو مستقل دھوکہ دے رہے ہیں کہ وہ لوٹی ہوئی دولت واپس لے آئیں گے مگر ایسا ہو نہیں سکتا، لوٹی ہوئی دولت کبھی واپس نہیں آسکتی اور یہ بھی احمقانہ بات ہے کہ کوئی دوسرا ملک آپ کے ملک میں ہونے والی کرپشن پر بے چین ہو جائے، رہا افغان مسئلہ تو یہ ہو نہیں سکتا کہ جوبائیڈن انتظامیہ ٹرمپ کے بنائی ہوئی پالیسی کو اپنائے وہ اپنی پالیسی لے کر آئیں گے اور پاکستان کو اس پالیسی کو ماننا ہو گا، ان کو ARM TWISTINGبھی آتی ہے، اس سے یہ بات تو ظاہر ہو گئی کہ عمران سیاست کے افق پر ہونے والی تبدیلیوں سے ہمیشہ ہی نابلد رہتے ہیں اور ان کو وقت کے ساتھ چلنا نہیں آتا، انہوںنے فرانس کو ڈرانے کے لئے خادم رضوی کو فیض آباد دھرنے کے لئے سہولیات فراہم کر دی ہیں، دنیا پہلے ہی کہہ رہی ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی پرورش کرتا ہے اور دنیا کے امن کو ان سے خطرہ ہے، عمران کو اگر ناموس رسالت سے پیار ہے تو فرانس کے سفیر کو پاکستان سے نکالیں اور فرانس سے اپنا سفیر واپس بلا لیں اور فرانس سے سفارتی تعلقات ہی ختم کر دیں، عمران ایسا نہیں کریں گے مگر قوم کو بیوقوف بنانے کے لئے آئے دن ڈرامے سٹیج کرنا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ پاکستان اس وقت تک ملائیت کے ہاتھوں میں یرغمال رہے گا جب تک یہ بات عالمی ایجنڈے کا حصہ ہے، مغرب پاکستان میں INDUSTRIALIZATIONنہیں چاہتا اور ملائیت بھی INDUSTRIALIZATION کی راہ میں رکاوٹ ہے ان نام نہاد دینی جماعتوں کو معلوم ہے کہ اگر ملک صنعت کاری کی جانب گیا تو ان کا کاروبار ٹھنڈا ہو جائیگا، سو میرے مطابق ملائیت اور مغرب کا ایجنڈا ایک ہے کہ پاکستان میں ترقی کے عمل کو روک کر رکھا جائے اور اسی منشور سے ریاست مدینہ کا ظہور ہوا ہے، جن کو واشنگٹن میں اکیس توپوں کی سلامی دی گئی تھی ان کو حکم عدولی کی اجازت نہیں اکیس توپوں نے فضاء میں اپنی گھن گرج سے ایک معاہدہ لکھا تھا جو تجزیہ کاروں نے سن لیا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ پاکستان میں وہی ہو گا جو امریکہ بہادر چاہے گا، اسلام کو مغربی مفادات کے تحفظ کے لئے استعمال کیا جاتا رہے گا، ملک کے سارے مسائل یا تو اخلاقی ہیں جن کو سخت قانون سے حل کیا جا سکتا ہے یا معاشی ہیں، ہمارا معاشی نظام تو کوئی ہے نہیں، ماہر معاشیات باہر سے منگوانے پڑتے ہیں، ہر پاکستانی کو اب روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں، احتساب سے اب لوگ اکتا چکے ہیں، بھاڑ میں جائے احتساب، روٹی کا انتظام ہونا چاہیے جو ہوتا نظر نہیں آرہا، اور یہ فسطائیت کے چمپئن جانتے ہیں کہ یہ قوم سسسک سسک کر مر جائے گی مگر احتجاج نہیں کرے گی، اسلاموفوبیا، ختم نبوت اور ناموس رسالت اس ملک کے مسائل نہیں اس ملک کا مسئلہ روٹی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.