بیمار معاشرہ ہے یہ!

18

جسمانی بیماری سے کہیں زیادہ مہلک وہ بیماری ہوتی ہے جو ذہن کی ہو!
اس کا ایک مظاہرہ تو ہمارے قارئین روز و شب اپنی اس نئی دنیا میں دیکھ رہے ہیں جو نام کی نئی سہی لیکن اس کی تمام برائیاں اور بیماریاں پرانی دنیا کی ہے اور ان میں بدترین وہی ذہنی بیماری ہے جس کے یہاں کڑوڑوں مریض ہیں لیکن ان میں سب سے نمایاں وہ ہے جو اپنی ہار کو تسلیم کرنے کو تیٌار نہیں اور کسی ضدٌی بچٌے کی طرح پاوٗں پٹختے ہوئے یہی رٹ لگائے ہوئے ہے کہ وہ فاتح ہے اور اس سے انتخاب چرایا گیا ہے!
بالک ہٹ کے شکار اس مریض کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس کی ہٹ دھرمی اور بچکانہ عمل اس کے ملک کی جمہوری روایات کو کیا نقسان پہنچارہا ہے۔ اس ملک کے دوست اور اس کی روایات سے ہمدردی رکھنے والے یہ دعا ہی کرسکتے ہیں کہ جو نقصان یہ ناعاقبت اندیش اپنے عمل سے جمہوریت کو پہنچارہا ہے وہ دیرپا نہ ثابت ہو اور اس زہر کا تریاق جلد ہی مل جائے لیکن اس نظام سے نظریاتی اختلاف رکھنے والے خوشی سے بغلیں بجا رہے ہیں کہ جو کام وہ برسہا برس میں نہیں کرسکے تھے وہ اس فاتر العقل نے چند برس میں کردکھایا۔ نقصان کا اصل حساب تو بعد میں ہوگا لیکن جو عوامل ہم سب کے سامنے ہیں اور جن حقیقتوں کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں تو ان کے ہوتے ہوئے یہ کہنا ناگزیر ہوجاتا ہے کہ امریکی معاشرہ آج جتنا منتشر ہے پہلے کبھی نہیں تھا اور بالک کی نسل پرستی اور غیر سفید فاموں سے اس کی علی اعلان بیزاری اور نفرت نے اس معاشرہ کی سابقہ مبینٌہ یگانگت کی چولیں ہلادی ہیں!
وطنِ مرحوم کی بیماری کی نوعیت اور ہی ہے!
وہاں بلا کی بے یقینی کی کیفیت ہے جسے عرفِ عام میں فرسٹریشن کہا جاتا ہے اور یہ فرسٹریشن اور یاسیت پاکستانی معاشرہ کے ہر طبقہ میں پائی جاتی ہے لیکن وہ طبقہ جسے علم سے محروم عوام کہا جاتا ہے اس میں جو فرسٹریشن سب سے زیادہ ہے وہ بدن کی بھوک ہے، جنسی بے راہروی ہے اور یہ وہ جبلٌتیں ہیں جن کو اگر کھلی چھٹی دے دی جائے تو پھر وہ انسانیت سوز حرکتیں اور جرائم سرزد ہوتے ہیں جن کا احوال بتاتے ہوئے قلم کو پسینہ آتا ہے اور جن کو ذہن میں تسٌور کیا جائے تو رات کی نیند حرام ہوجاتی ہے۔
ایسا ہی انسانیت سوز واقعہ سندھ اور بلوچستان کی سرحد پر واقع شہر کشمور میں گذشتہ ہفتے ہوا جس کی تفصیل انتہائی دکھ دینے والی اور انسانیت پر سے اعتقاد اٹھا دینے والی ہے!
ایک مجبور اور مفلس عورت کو ایک ذہنی مریض کراچی سے کشمور ملازمت دلوانے کا جھانسہ دیکر لے گیا۔ وہاں اس نے اپنے جیسے دو درندہ صفت ساتھیوں کے ساتھ مل کر تین دن تک اس بیچاری عورت کو اجتماعی جنسی تشدٌد کا نشانہ بنایا پھر اسے واپس کراچی بھیجا کہ وہ اپنی ہی جیسی کسی اور عورت کو کسی بہانے ان کے جال میں پھنسنے کیلئے لیکر آئے لیکن اس کی چار سالہ معصوم بچٌی کو اپنے پاس یرغمالی بناکر رکھا تاکہ مجبور عورت کسی کی مدد نہ لے سکے اور پھر اس درندے نے اس معصوم بچٌی کو بھی دنوں تک اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور اس کے ساتھ وہ درندگی کی جس کے تصٌور سے روح تک لرز جاتی ہے!
یہ کہتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے، بہت دکھ ہوتا ہے، لیکن ایسے واقعات یہ کہنے پر مجبور کردیتے ہیں کہ ایسے معاشرہ پر خدا کیوں رحم کھائے گا یا اس پر اپنی رحمتیں نازل کرء گا جس کے افراد کے اعمال درندوں جیسے ہوں؟ قرآن میں ان معتوب امتٌوں کا بار بار ذکر کیا گیا ہے جنہیں اللہ نے ان کے اعمال فاسق کے نتیجے میں تباہ و برباد کردیا اور ان کے ناپاک وجود سے اپنی زمین کو پاک کردیا۔!
اس کو صرف جہالت سے معنون نہیں کیا جاسکتا۔ ضروری نہیں کہ جو جاہل ہو، علم سے محروم ہو، وہ انسانیت کی صفات سے مبٌرا ہو۔ یہ درندگی ہے، بہیمت ہے، انسانی اقدار کے خلاف اعلانِ بغاوت ہے جو ایسے جانوروں سے انسانیت سوز جرائم کا ارتکاب کرواتا ہے اورایسے جرائم کی ذمہ داری صرف ان مجرموں پر ہی عائد نہیں ہوتی جو ان میں ملوٌث ہوتے ہیں بلکہ یہ اس معاشرہ کے اجتماعی جرائم کی صف میں شمار ہوتا ہے جس نے ان کہنہ اقدار و روایات کو ابتک اپنے سے چمٹایا ہوا ہے جو اس دور کے تقاضوں کو کسی طور پورا نہیں کرتے!
پاکستان جیسے دقیانوسی روایات کے حامل معاشروں میں آج بھی، اسلامی اقدار کے منافی رسوم و رواج کو سینے سے لگا کے رکھا جاتا ہے۔ عورت کو اسلام نے دنیا کے ادیان میں وہ مقام عزت و تکریم دیا جو اس سے پہلے کسی معاشرہ یا دین نے نہیں دیا تھا لیکن اسلامی جمہوریہٗ پاکستان میں جاگیرداری کے دقیانوسی اور کہنہ نظام کواسلامی اقدار پر ترجیح دی جاتی ہے کل بھی دی جاتی تھی اور آج بھی حکمرانوں کے ریاستِ مدینہ رائج کرنے کے کھوکھلے دعوے کے ہوتے ہوئے بھی دی جارہی ہے۔ ریاستِ مدینہ میں عورت مقدٌم تھی، محترم تھی جبکہ پاکستان کے دیمک زدہ معاشرہ میں اس کی حیثیت مرد کے مقابلے میں ثانوی ہے!
کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب نیوز میڈیا میں کسی عورت کے ساتھ زیادتی اور اس کی بے حرمتی کا کوئی واقعہ ہونے کی تشہیر اور خبر نہ ہو اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ایسے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے جس میں یہ قابلِ مذٌمت کام کسی فرد کے بجائے اجتماعی سطح پر ہوتا ہے۔ اس کا مطلب صاف ہے۔ قانوں کے رکھوالوں کی صریح ناکامی اور ناقص کارکردگی گناہ کا ارتکاب کرنے والوں کو حوصلہ دے رہی ہے لہذا اجتماعی آبروریزی کے گھاوئنے واقعات بڑھ رہے ہیں۔
ایک تو ویسے ہی جاگیرداری نظام میں خاندانی نام و نمود اور عزت کا انتہائی غلط تصٌور ان پڑھ اور کم علم عوام کو یہ ترغیب دیتا ہے کہ ان کی بہو بیٹیوں کے ساتھ اگر اس طرح کی زیادتی کے واقعات ہوں تو وہ پولیس اور قانون کی دہائی مت دیں، ان سے مدد نہ طلب کریں کیونکہ ایسا کرنے میں خاندان کی ناک کٹ جائیگی، بدنامی ہوگی اور برادری والے تھو تھو کرینگے!
اس پر طرٌہ ہمارا انتہائی ناقص اور دیمک زدہ، کرپٹ، پولیس کا محکمہ اور عدالتی نظام ہے جو دونوں مل کر غریب کو تحٌفظ اور انصاف دینے کے بجائے الٹا اس سے جان و مال اور ّآبرو سب کا بھاری تاوان وصول کرتے ہیں۔ اعداد و شمار جو سماجی تنظیموں کی مہربانی اور محنت سے جمع ہوتے ہیں ان کے مطابق عورتوں کے خلاف زیادتی اور دیگر سنگین جرائم کے پچاس فیصد سے زائد واقعات و حادثات تو پولیس تک پہنچتے ہی نہیں، پولیس ان میں سے زیادہ تر معاملات میں مجرموں سے ساز باز کرکے اور ان سے رشوت کھاکے مقدمہ درج ہی نہیں کرتی اور جو درج ہوتے ہیں وہ بمشکل پانچ فیصد کیس ہوتے ہیں ان میں سے بھی پانچ فیصد سے زیادہ مجرموں کو سزا نہیں ہوتی یعنی جب جرائم کا پہاڑ کھودا جاتا ہے تو اس میں سے بمشکل ایک آدھ ہی چوہا نکلتا ہے!
لیکن اس پر ایک اور ستم نادانستہ یا دیدہ و دانستہ نیوز میڈیا کی طرف سے ہورہا ہے اور اس سے بھی دو ہاتھ آگے جاکر سوشل میڈیا میں ہورہا ہے۔ کشمور کا یہ واقعہ انتہائی تکلیف دہ تو تھا ہی اس پرایک اضافہ یہ ہوا کہ کسی نے پولیس اسٹیشن میں اس معصوم چار سالہ بچٌی سے کئے گئے سوالات پر مبنی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈال دی جو چند لمحوں میں وائرل ہوگئی۔ آپ تصٌور کیجئے کہ ایک معصوم چار برس کی بچٌی کے پاس الفاظ کا کتنا سرمایہ ہوسکتا ہے، اس بچٌی کے پاس جو کسی اسکول یا مکتب میں ابتک نہیں گئی؟ وہ بچٌی تو صرف اپنی حرکات و سکنات سے ہی کسی کو بتاسکتی ہے کہ اس درندے نے اس کے ساتھ کیا کچھ کیا تھا!
الامان و الحفیظ، میں تو حیرت میں ہوں کہ ایسے ویڈیو کوکون سنگدل دیکھ سکتا ہے یا دیکھنے کے بعد اپنے اعصاب کو قابو میں رکھ سکتا ہے؟
ضرور بالضرور ایسے وحشیانی واقعات اور وارداتوں کی خبر لگنی چاہئے لیکن کیا ان واقعات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنا بھی لازمی ہے؟ کیا نفسیاتی اثر ہوگا اس بچٌی کی شخصیت پر آج سے دس برس بعد جب وہ شعور کی عمر کو پہنچکر کسی واسطے سے اپنی اس ویڈیو کو دیکھے گی؟
یہ ہر چیز، بلا تخصیص و بلا امتیاز سوشل میڈیا پر الم نشرح کردینا بھی بیمار ذہنوں کی علامت ہے۔ ایک تعلیم یافتہ اور مہذب معاشرہ اتنی تمیز رکھتا ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرسکے کہ کیا چیز الم نشرح ہونے کے لائق ہے اور کیا نہیں ہے۔ جو معاشرہ مادر پدر آزاد اپنے آپ کو سمجھنے لگے اس میں سے یہ تمیز، یہ احساسِ ذمٌہ داری، یہ سماجی شعور اٹھ جاتا ہے اور پھر حشر وہی ہوتا ہے جس کے مظاہر پاکستان میں شب و روز دکھائی دیتے ہیں۔
امریکہ میں بھی اس وقت جو سیاسی انتشار نظر آرہا ہے اس کی جڑیں اس سماجی انتشار میں دیکھی جاسکتی ہیں جو اپنے آپ کو عقل کل اور نابغہٗ روزگار سمجھنے والے ذہنی مریض ٹرمپ نے امریکہ معاشرہ میں اپنے دورِ اقتدار میں رائج کیا ہے۔ نسلی برتری کو جان بوجھ کر ہوا دی گئی ہے جس کا ایک ثبوت تو یہ ہے کہ ایک ایسے صدر کو جس نے کووڈ جیسی وبا کو بھی سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی اور اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے صرفِ نظر کیا جس کے نتیجہ میں امریکہ میں اس وبا سے ہلاکتوں کی تعداد، جو اب کوئی ایک چوتھائی ملین کے قریب ہے، دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے، حالیہ انتخاب میں ۲۷ ملین ووٹ ملے ہیں گویا امریکہ کی ۳۳ کڑوڑ کی آبادی میں ٹرمپ کی تمام تر ناکامیوں اور کوتاہیوں کے باوجود چاہنے والوں کی تعداد اب بھی سات کڑوڑ سے زیادہ ہے۔ بہ الفاظِ دیگر، بیس فیصد امریکی باشندے ایک ایسے شخص کو اپنے سر کا تاج بنانے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے جس نے امریک قوانین کی دھجیاں اڑائیں، جسے امریکی کانگریس بداطواری کا ملزم ٹہرا چکی ہے اور اس کا مواخذہ کرچکی ہے!
تاریخ گواہ ہے کہ پہلی جنگِ عظیم کے بعد جرمنی میں ہٹلر کا عروج اور اس کی مقبولیت میں حیرت انگیز اضافہ من و عن ایسے ہی ماحول میں ہوا تھا جو ماحول ٹرمپ نے امریکہ میں رائج کرنا چاہا ہے اور جو بنیادی طور پر جمہوریت دشمن اور فسطائیت کا حامی نظام ہے۱
سماجی بیماری ہر وبا سے زیادہ مہلک ہوتی ہے اگر وہ یہ کرے کہ صحیح اور غلط کے درمیان فرق کرنے والا خطِ تقسیم دیکھنے والوں کی نظروں سے اوجھل کردے۔ پاکستان میں یہ قبیح کام تو جاگیرداری نظام نسلوں سے کرتا آرہا ہے اور وقت کے ساتھ اس وبا کی سنگینی بڑھتی ہی جارہی ہے۔ لیکن ٹرمپ کے چار برس گواہ ہیں کہ یہ وائرس کس تیزی اور سرعت سے ایک لکھے پڑھے اور تعلیم یافتہ معاشرہ کے اعصاب کو بھی معطل کرسکتا ہے!ہم پاکستانیوں کیلئے یہ کوئی خوشی کی بات نہیں کہ معاشرتی ناہمواری اور جہالت کا وائرس ان کے تعاقب میں نئی دنیا تک چلا آیا ہے۔ دکھ ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ امریکہ کے بنانے والے بزرگوں نے جو نظامِ جمہوریت دو صدیوں کی شبانہ روز محنت سے کھڑا کیا تھا ایک فسطائی ذہنیت والے صدر کے ہاتھوں چار برس میں ایسے ہوگیا جیسے کوئی چھلنی، بہتٌر چھیدوں والی!
ہم اللہ کے حضور دست بستہ اپنے وطنِ مرحوم کی بحالی اور صحتیابی کی دعا تو ہمیشہ کرتے ہیں لیکن آج اس وطنَ ثانی کیلئے بھی خلوصِ دل سے دعا کرتے ہیں کہ خدا اسے زوال سے بچائے۔ نو منتخب صدر جو بائیڈن کا راستہ روشن ہے انہیں معلوم ہے کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ کام آسان نہیں ہے لیکن ہمیں امید ہے کہ ان کی لگن اور محنت رنگ لائیگی اور وہ کرونا کی وبا کے ساتھ ساتھ اس دوسرے، اور اتنے ہی مہلک، وائرس کے خلاف بھی جنگ جیت جائینگے۔ اللہ ان کا حامی و ناصر ہو!
أأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأ

Leave A Reply

Your email address will not be published.