گلگت بلتستان کے عوام نے پی ڈی ایم، ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے بیانیے کو یکسر مسترد کر دیا

8

یوں تو دنیا کی دو بڑی ریسرچ کمپنیوں گیلپ اور پلس کنسلٹنٹ نے گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات میں سروے کے مطابق عمران خان کو مقبول ترین شخصیت اور الیکشن میں کامیابی کے امکانات کا اعلان کر دیا تھا مگر اپوزیشن پارٹیوں اور پی ڈی ایم نے ان سرویز کو درخور اعتنا نہ سمجھا، البتہ انہوں نے یہ ضرور کہنا شروع کر دیا تھا کہ گلگت بلتستان یعنی جی بی میں پری پول رگنگ ہونے جارہی ہے، دوسری طرف پی ٹی آئی کے رہنمائوں نے بھی حفظ ماتقدم کے طور پر پہلے سے یہ بات واضح کرنا شروع کر دی تھی کہ ہارنے کے بعد اپوزیشن ایک بار پھر الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگائے گی اور پھر ہوا بھی بالکل ویسے ہی، پی ٹی آئی نے پہلے نمبر پر سب سے زیادہ سیٹیں جبکہ آزادامیدواروں نے دوسرے نمبر پر آکر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو تیسرے اور چوتھے نمبروں پر دھکیل دیا، گزشتہ تین انتخابات میں یہ ایک رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ وفاق میں جو پارٹی وفاق میں حکومت کرتی تھی اس کو جی بی میں اکثریت حاصل ہوتی ہے لہٰذا جی بی کی تیئس نشستوں میں سے پی ٹی آئی نے نو اور آزاد امیدواروں نے سات نشستوں پر میدان مار لئے، تو گویا دونوں کو ملا کر کل سوشل نشستوںپر پی ٹی آئی حکومت مل کر حکومت بنائے گی، بقیہ سات نشستوں پر ن لیگ، پیپلز پارٹی اور دیگر چھوٹی جماعتوں کے امیدوار کامیاب ہوئے، سات آزاد امیدوار یقینا پی ٹی آئی میں شامل ہوں گے کیونکہ یہ بھی پچھلے انتخابات میں رجحان دیکھنے میں آیا ہے، حسب توقع اپوزیشن نے دھاندلی کاالزام لگایا مگر عوام اور میڈیا میں اسے پذیرائی نہیں مل پارہی، 2018ء کے الیکشن میں تو اپوزیشن کہتی ہے کہ فوج نے دھاندلی کے ذریعے پی ٹی آئی اور عمران خان کو الیکشن جتوایا تھا اور اسی حوالے سے وہ سلیکٹڈ اور سلیکٹر کی گردان کرتے ہیں مگر اب گلگت میں وہ کسے سلیکٹرز کہیں گے کیونکہ فوج تو ان انتخابات سے بہت دور اور لاتعلق رہی تھی؟ سو اس لحاظ سے اس بات کو بھی تقویت ملتی ہے کہ 2018ء کے انتخابات بھی بالکل صحیح تھے جس میں نواز شریف نے براہ راست نام لیکر آرمی چیف قمر باجوہ اور آئی ایس آئی کے چیف جنرل فیض پر الزام لگایا تھا کہ یہ لوگ سلیکٹرز ہیں جو پی ٹی آئی اور عمران خان کو لیکر آئے، حالات اور رائے عامہ بتارہی ہے کہ گلگت بلتستان کے الیکشن میں پی ٹی آئی کی کامیابی کے بعد اب اپوزیشن کے دھاندلی کا چورن نہیں بک رہا ہے، اس شکست میں ایک بڑا ہاتھ پی ڈی ایم کے اس بیانیے کا بھی ہے جس میں پاکستان کی فوج پر الزامات لگائے گئے جس میں سرفرست نواز شریف اور مریم صفدر ہیں، یاد رہے کہ گلگت بلتستان میں ہر تیسرے گھر میں سے کوئی نہ کوئی شخص پاکستان کی فوج کے ساتھ منسلک ہے اور ان کیلئے افواج پاکستان کیلئے دونوں باپ بیٹی کا تضحیک آمیز رویہ ناقابل قبول ہے، شاید یہ وہی وجہ ہے کہ ن لیگ سب سے آخر یعنی چوتھے نمبر پر آئی ہے، مریم صفدر شاید یہ سمجھ رہی تھیں کہ وہ ترکش ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی کی ہیروئن حلیمہ سلطان کی طرح کے کپڑے اور زیورات پہن کر لوگوں کے ووٹس حاصل کر لیں گی مگر گلگت بلتستان کے عوام ملک کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے اور سمجھدار اور بردبار لوگ ہیں، دنیا نے دیکھا کہ شدید برفباری کے دوران وہاں کے عوام سکون اور اطمینان کے ساتھ بغیر کسی ہلڑ بازی اور دھکم پیل کے لائنوں میں کھڑے ہو کر قطار در قطار ووٹ ڈالنے کیلئے انتظار کرتے رہے اور سب سے زیادہ ووٹرز ٹرن آئوٹ بھی سامنے آیا، اہالیان پاکستان خصوصاً اہل پنجاب کو ان سوشل رویوں کو مدنظر رکھنا چاہیے اور جی بی کی طرح آئندہ ہونے والے انتخابات میں حصہ لینا چاہیے، جہاں تک بلاول بھٹو کا تعلق ہے تو ان کے متعلق امین گنڈاپور نے بڑی دلچسپ بات کی کہ بلاول بھٹو آتی ہے اور میائوں میائوں کر کے چلی جاتی ہے، ٹی وی کے ناظرین کیلئے گنڈاپور کے بلاول بھٹو اور مریم صفدر کیلئے ریمارکس کو بہت انجوائے کیا جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ہمارے ٹیکس کے کروڑوں روپے کے خرچے سے مریم نواز نے اپنے چہرے کی سرجریاں خوبصورت دکھنے کیلئے کروائی ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.