ساڑھے تین ہزار بندے مروا نے اور تباہی پھیلانے کے بعد یہ کیسا ہے امن کا معاہدہ ؟؟

14

نگورنو کاراباخ کے متنازع علاقے پر کنٹرول کے لیے گزشتہ چھ ہفتوں سے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جاری خوںریز جنگ جس میں ساڑھے تین ہزار سے زائد افراد لقمہ ٔ اجل بنے ہیں کا اختتام ایک بڑے امن معاہدے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ آذربائیجان کے صدر الہام علیوف،آرمینیا کے وزیراعظم نیکول پاشنیان اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امن معاہدے پر دستخطوں کے بعد اعلان کیا ہے کہ معاہدے کے مطابق لڑائی کے دوران قبضے میں لیے گئے علاقے آذربائیجان کے کنٹرول میں رہیں گے جبکہ آرمینیا نے نگورنو کاراباخ کے بعض علاقوں سے انخلا کے نظام الاوقات پر اتفاق کرلیا ہے۔ معاہدے کی نگرانی اور قیام امن کو یقینی بنانے کے لیے اس متنازع خطے میں پانچ سال تک روس کے دوہزار فوجی تعینات رہیں گے جنہیں فی الوقت 90بکتربند گاڑیوں کے علاوہ 360دیگر فوجی گاڑیوں اور ہلکے ہتھیاروں کی مدد حاصل رہے گی۔ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد آذربائیجان میں جہاں ہر جانب جشن کا سماں ہے وہیں آرمینیا کے لوگوں میں زبردست غم و غصہ پایا جاتا ہے۔آرمینیا میں اس جنگ بندی اور معاہدے کے خلاف زبردست مظاہرے ہوئے ہیں۔ مظاہرین نے دارالحکومت میں قومی اسمبلی کی عمارت میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور اپنے حکمرانوں کے خلاف شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔آرمینیا کے دارالحکومت یرے وان میں بڑی تعداد میں لوگوں نے گھروں سے نکل کر امن معاہدے کے خلاف زبردست احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے امن معاہدہ توڑنے کا مطالبہ کیاہے۔
دوسری جانب آذربائیجان کا کہنا ہے کہ اس نے نگورنو کاراباخ کے آس پاس کے ان بیش تر علاقوں کو حاصل کر لیا ہے جو 1991 سے 94 19 کے درمیان آرمینیا اورآذربائیجان کے درمیان ہونے والی جنگ کے دوران اس کے ہاتھ سے نکل گئے تھے۔ جنگ بندی معاہدے کے تحت آذربائیجان کا خطے کے کلیدی شہر شوشا سمیت ان تمام علاقوں پر کنٹرول برقرار رہے گا جس پر اس نے حالیہ لڑائی کے دوران قبضہ کیا ہے جبکہ آرمینیا نے ایک معینہ وقت کے دوران خطے سے اپنی افواج کے انخلا پر اتفاق کیا ہے۔آرمینیا کے وزیر اعظم پاشنیان نے کہا ہے کہ حالات کے پیش نظر یہ معاہدہ اس علاقے کے ماہرین سے بات کرنے اور گہرائی سے تجزیہ کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فتح تو نہیں ہے لیکن جب تک ہم خود کو شکست خوردہ تسلیم نہ کر لیں اس وقت یہ شکست بھی نہیں ہے۔آرمینیا کے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ عمل میرے لیے ذاتی طور پر اور ہمارے عوام کے لیے ناقابل بیان حد تک تکلیف دہ ہے۔ ادھرآذربائیجان کے صدر الہام علی یوف نے کہا ہے کہ آرمینیا کی جانب سے یہ معاہدہ گھٹنے ٹیکنے کے برابر ہے۔ اس دوران ترکی کے صدر طیب اردوگان نے کہا ہے کہ انقراہ اور ماسکو ایک ساتھ مل کر اس مشترکہ مرکز سے اس جنگ بندی کی نگرانی کریں گے جسے آذربائیجان نے آرمینیا کے قبضے سے چھڑانے والے علاقوں میں نامزد کیا ہے۔
واضح رہے کہ روس جس نے اس معاہدے کویقینی بنانے میں کلیدی کردار اداکیا ہے کا اس جنگ میں واضح جھکائوآرمینیا کی جانب رہا ہے جس کے ساتھ اس کا جنگی معاہدہ ہے۔ گزشتہ پیر کے روز روس نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ آ رمینیا کی سرزمین پرآذربائیجان کی سرحد کے پاس اس کا حملے میں کام آنے والے ایک فوجی ہیلی کاپٹرکو مار گرایا گیا تھا۔ اس ہیلی کاپٹر میں سوار روسی فوجی بھی ہلاک ہوگئے تھے اور اس پرآذربائیجان کی فوج نے روس سے اس غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے معذرت بھی پیش کی تھی بعدازاں اس واقعے کے بعد ہی جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا ہے حالانکہ بعض مبصرین کا خیال تھا کہ روس اپنے ہیلی کاپٹر کوگرائے جانے پر بڑا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس جنگ میں براہ راست کودنے کی حماقت بھی کرسکتا ہے لیکن روس نے اپنے اس جنگی اور جانی نقصان کے باوجودنہ صرف صبر وتحمل کا عملی مظاہرہ کیا ہے بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر خطے کی دو متحارب قوتوں کے درمیان ایک ایسا امن معاہدہ بھی کرایا ہے جس پر اگر ایک فریق (آذربائیجان) فتح کا ملک گیر جشن منا رہا ہے تو دوسرا فریق (آرمینیا) اپنے زخم چاٹتے ہوئے اپنے عوام کو جھوٹی طفل تسلیاں بھی دے رہا ہے۔
یاد رہے کہ 27ستمبر کو شروع ہونے والی اس جنگ میں نگورنو کاراباخ کے بیش تر علاقوں پر آذربائیجانی فوج نے قبضہ کر لیا تھا جہاں اب بھی اس کے سہ رنگی قومی پرچم لہرا رہے ہیں۔ یہاں اس امر کی نشاندہی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ سوویت یونین کے انہدام کے بعد روس کچھ عرصے تک معاشی اور سیاسی افراتفری کا شکار رہنے کے باوجود خطے میں سابقہ سوویت یونین کے مفادات کا تحفظ کرتا رہا ہے اور اسی ناتے اس کے سوویت یونین سے الگ ہونے والے خطے کے دیگر ممالک کے علاوہ آذربائیجان اور آرمینیا کے ساتھ قریبی تعلق رہا ہے البتہ حالیہ جھڑپوں کے شروع میں روس کا واضح جھکائو آرمینیاکی جانب تھا جبکہ ترکی آذربائیجان کی حمایت کررہا تھا۔ دراصل شروع میں روس کا خیال تھا کہ آذربائیجان اپنے نسبتاً طاقتور مخالف آرمینیا کے ہاتھوں ماضی کے تناظر میں جلد گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجائے گا اور ترکی زبانی کلامی اعلانات کے باوجود یونان کے ساتھ جاری محاذآرائی نیز شام کی صورتحال اور سعودی عرب و مصر کی جانب سے جاری اقتصادی بائیکاٹ کے دبائو کے باعث آذربائیجان کی عملاً کوئی مدد نہیں کرسکے گا لیکن ترکی نے دامے درمے سخنے آذربائیجان کی مدد کرکے ان تمام مفروضوں کونہ صرف غلط ثابت کردیا ہے بلکہ آ رمینیا سمیت روس کو ایک ایسے امن معاہدے پر بھی مجبور کردیا ہے جس سے خطے کے ترکی مخالف قوتوں کے علاوہ یونان اور فرانس جو ترکی کو مسلسل جنگ کی دھمکیاں دے رہے تھے کو بھی ایک واضح پیغام گیا ہے کہ ترکی اب یورپ کا وہ پرانا مرد بیمار نہیں ہے بلکہ اسے خطے میں صدر طیب اردوان کی جرأت مندانہ قیادت میں ایک نمایاں اور برتر مقام بھی حاصل ہوچکا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.