حکومت ابتدائی تعلیم اورخواندگی پر توجہ دے، مدرسوں کو چھوڑ دے !

11

اکیسویں صدی کے آغاز میں، ڈاکار (سینیگال،افریقہ) میں اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ،بنیادی تعلیم پرایک بین الاقوا می کانفرنس منعقد کی گئی جس میں بشمول پاکستان 164 ممالک کے مندوبین نے شرکت کی اور ایک معاہدہ پر دستخط کئے جسے ڈاکار فریم ورک فار ایکشن کا نام دیا گیا۔ اس فریم ورک میں تعلیم سب کے لیے کے چھ مقاصد کے حصول پر اتفاق کیا گیا تھا، لیکن پانچ سال بعد جب معاہدہ پر عمل کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ ان پانچ سالوں میں بمشکل تین مقاصد پر کچھ ترقی ہوئی، جو یہ تھے: ابتدائی تعلیم سب کے لیے؛ جنسی مساوات کا ہدف، اور تعلیمی بہتری کا ہدف۔جو باقی کے تین اہداف تھے ان پر کوئی قابل ذکر ترقی نہیں ہوئی۔جن میں سے چوتھا تعلیم بالغاں تھا۔ حکومتوں نے اس ہدف کو، غلط فیصلہ کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری نہیں سمجھا اور نا صرف اس مد میں بجٹ کم کردئیے، اسے رفاہی اداروں کی ذمہ داری بھی بنا دیا۔اس کے نتیجہ میں ’’تعلیم سب کے لیے‘‘ کا بنیادی اصول ہی پائمال کیا گیا۔اس طرح دوسرے اہداف جن کو نظر انداز کیا گیا ان کی وجہ سے بچوں کی نرسری کی تعلیم و تربیت، جس میںصحت، غذائیت ، تعلیم اور دیکھ بھال جیسے موضوعات پر کام ہونا تھا وہ بھی نہ ہوئے۔اور زیادہ مشکل معاملات جیسے برابری کی سطح پر سیکھناسکھانا، اور زندگی کے طور طریقوں کی تربیت،بنیادی اوربالغوں کے لیے جاری و ساری تعلیم، کا کام بھی کھٹائی میں پڑ گیا۔
عملی خواندگی در اصل کیا ہے؟ ایک شخص عملی طورپر اس وقت خواندہ سمجھا جاتا ہے، جب وہ اپنے ارد گرد کے ماحول میں بخوبی کام کر سکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ لکھ پڑھ بھی سکتا ہے، اپنے اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کی ترقی کے لیے ،ضروری حساب کتاب بھی کر سکتا ہے۔لیکن اس تشریح کے پیش نظر دنیا کی بالغ آبادی کا پانچواں حصہ نا خواندہ تھا، جو انسانی حقوق کی نہایت سنجیدہ خلاف ورزی تھی۔مزید برآں، انسانی اہلیتوں کو اجاگر کرنے کی راہ میں رکاوٹ تھی، انسانوں میں ، خصوصاً عورتوں میںبرابری ،اقتصادی اور معاشرتی ترقی کے حصول میں رکاوٹ تھی۔
یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان میں اس معاہدے پر اس حد تک عمل کیا گیا کہ جس سے یہ لگے کہ عمل ہو رہا ہے اور اس مد میں جو بیرونی امداد ملنی تھی وہ ملتی رہے۔ بیرونی امداد کے حصے بخرے کر کے سب نے مزے لُوٹے۔ خیالی کاغذی سکول بنائے گئے جن میں جھوٹ موٹ کے اساتذہ بھی بھرتی کیے گئے اور ان کی تنخواہیں سیاستدان اپنی جیبوں میں ڈالتے رہے اور یوں عوام کے پیارے بچوں کو علم کی دولت سے محروم کیا گیا۔جو تھوڑے بہت سکول بنے بھی وہ بھی بے اعتناعی کا شکار ہوتے رہے۔ اساتذہ تنخواہوں کی کمی کے باعث، کلاس سے زیادہ، ٹیوشن پڑھانے پر توجہ دیتے رہے۔ سکولوں کی عمارت میں شکست و ریخت کا عمل جاری رہا۔ کہیں بجلی نہیں، کہیں غسل خانے نہیں، کہیں فرنیچر نہیں تو کہیں بلیک بورڈ بھی نہیں۔ کہیں چٹائی بھی نہیں اور کہیں بچے درختوں کے سائے میں پڑھنے پر مجبور۔ قوم کے مستقبل کے معماروں کے ساتھ پاکستان کے جاگیر داروں، وڈیروں، اور اسمبلیوں میں بیٹھنے والے سیاستدانوں نے وہ سلوک کیا جس کا غالباًنو آبادکار بھی تصور نہیں کر سکتے تھے ۔ اور حکمران، ان طاقت کے سر چشموں کی مرضی کے خلاف چوں بھی نہیں کرتے تھے۔ زرداری اور نواز شریف نے تو مفاہمت کے نام پر اپنی جیبیں بھرنے کے معاہدے کر لیے جن کی وجہ سے سرکاری اہلکاروں کو کھلی چھٹی مل گئی کہ وہ دبا کر رشوت لیں۔ رشوت اتنے کھلے عام لی اور دی گئی کہ یہ قوم کا وطیرہ بن گیا۔ اور اس کو حکومتی کارندوں سے کام کروانے کا قابل قبول طریقہ معاشرے کا حصہ بن گیا۔ لہذا آج جب عمران خان نواز اور زرداری کے خلاف کرپشن کے الزامات لگاتا ہے تو لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں یہ کیا کہہ رہا ہے؟ اور وہ لوگ جو اس بد دیانتی کا ارتکاب کرتے ہیں یا اس سے مستفید ہوتے ہیں، وہ بلاول اور مریم صفدر کے جلسوں میں جوق در جوق شامل ہوتے ہیں اور غالباً دعا مانگتے ہیں کہ وہ سنہرے دن واپس آ جائیں۔جب دولت کی بلا خطر ریل پیل ہوتی تھی اور سارا ملک خوشحال ہو رہا تھا۔یہ علیحدہ بات ہے کہ کرپشن کی وجہ سے ملک کا خزانہ خالی رہتا تھا اور حکمران قرضہ پے قرضہ لیکر سرکاری اخراجات چلاتے تھے۔
جن لوگوں نے بنیادی تعلیم کو دبائے رکھا، انہوں نے خاندانی منصوبہ بندی کو بھی پنپنے نہیں دیا۔ چونکہ اس کے لیے بھی بہت سی بیرونی امداد آتی تھی اس کو ہڑپ کر کے ڈرامہ بازی سے تاثر یہ دیا جاتا تھا کہ حکومت فیملی پلاننگ پر بہت خرچ کر رہی ہے۔پس پردہ فیملی پلاننگ کی ادویات اور ذرائع کو اہل کار سستے داموں فروخت کر دیتے تھے اور خریدار انہیں سوٹ کیسوں میں بھر کر ہمسایہ ممالک لے جا کر فروخت کرتے تھے۔اس کاروبار سے سب واقف تھے لیکن کوئی کسی کے خلاف نہیں بولتا تھا۔خاندانی منصوبہ بندی کی آگاہی اور اشتہار بازی کے لیے جو بیرونی امداد آتی تھی اس کو بھی نجی اشتہاری کمپنیوں سے بھاری کمیشن لیکر خرچ کیا جاتا تھا۔ اس پیسے کو وفاقی اہل کار اسی لیے اپنے ہاتھ میں رکھتے تھے اور کمیشن سے حاصل کردہ کڑوڑوں روپے کی رقم افسروں سے لیکروزراء تک میں تقسیم کی جاتی تھی۔ آہستہ آہستہ یہ وباء دوسرے محکموں تک بھی پھیل گئی۔
بنیادی تعلیم کے موضوع پر واپس آتے ہیں۔ ڈاکار معاہدے پر قوموں کی ترقی پر پانچ سال کے بعداقوام متحدہ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ خواندگی کسی بھی انسان کی زندگی میں قدر بڑھاتی ہے۔ شخصی ، کنبہ اور برادری کی نشو و نما میں خواندگی ایک اہم کرداد ادا کرتی ہے۔جس سے اوپر کی سطح پر علاقائی اور ملک کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کی ترقی میں کردار ادا کرتی ہے۔کسی بچے کو عمدہ بنیادی تعلیم سے بے بہرہ رکھنا اس کو نہ صرف بحثیت ایک بچہ کے، اس کو عمر بھر کے لیے اپا ہج بنانے کے مترادف ہے، جسے ایسے مواقع پر جہاں لکھنے، پڑھنے اور حساب کتاب کی ضرورت ہو، لاچاری اور مجبوری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔نا خواندگی اور غربت کا چولی دامن کا ساتھ ہے، نہ صرف معاشی لحاظ سے بلکہ بالعموم صلاحیتوں سے محرومی کا باعث بھی۔خواندگی انسانی صلاحیتوں کو تقویت دیتی ہے بحثیت فرد، خاندان اور محلہ داری کیونکہ انہیں اس سے صحت، تعلیم، سیاست، معاشی اورتمدنی مواقعوں تک رسائی مل سکتی ہے۔عورتوں اور لڑکیوں کے حقوق کے حصول کے لیے خواندگی اور بھی اہمیت کی حامل ہے ۔ اگرچہ عورتوں کی با ضابطہ تعلیم کے فوائد تو اب مسلمہ ہیں، انکی غیر رسمی اور خواندگی کے بھی مثبت اثرات ہوتے ہیں، جن سے عورتوں میں خود اعتمادی بڑھتی ہے، ان میں اقتصادی خود مختاری اور سماجی آزادی کا احساس بھی پیدا ہوتا ہے۔بلا شبہ خواندگی تعلیم، خصوصاً تعلیم سب کے لیے، ایک بنیادی جزو ہے۔ خواندگی غربت کے خاتمہ، نو زائیدہ بچوں کی اموات کم کرنے، آبادی کی افزائش کم کرنے، جنسی مساوات، پائیدار ترقی، امن اور جمہوریت سب کے لیے ضروری ہے۔جو مائیں پڑھی لکھی ہوتی ہیں وہ بچوں کو سکول بھیجتی ہیں۔ اورجو ماں باپ خواندہ ہوتے ہیں وہ بچوں کی تعلیم میں بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اسلامی دنیا میں بنیادی تعلیم کے بارے میں کافی عرصہ سے یہ تاثر عام کیا گیا کہ قران مجید میں جو علم حاصل کرنے کا کہا گیا ہے اس سے مراد دینی علم ہے۔ جب قران نازل ہو رہا تھا دنیا سائینس کی اصطلاح سے واقف نہیں تھی اور نہ ہی ریاضی سے۔ غالباً قران مجید نے اسی لیے ان کا ذکر نہیں کیا، لیکن لکھنے پڑھنے ، قلم اور کتاب کا ذکر ضرور کیا ۔ جن علما نے مسلمانوں کو سائینس اور ریاضی جیسے علوم سے باز رہنے کاکہا، ممکن ہے انہوں نے ان علوم سے لادینیت کے پھیلنے کا امکان سمجھا ہو گا۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے اسلام کے ابتدائی دور ہی میں بڑے بڑے سائینسدان، ریاضی دان، اور ماہرین فلکیات، حکیم اور دانشور پیدا کیے جن کے علوم سے یوروپ نے فیضیابی کی، اور مسلمانوں نے انہیں دریا برد کر دیا۔ کہتے ہیں کہ جب پرنٹنگ پریس ایجاد ہوا تو لوگوں نے مسلمان بادشاہ وقت کو مشورہ دیا کہ قران مجید کو بھی ایسے پریس میں شائع کیا جائے، کیونکہ اس وقت تک صرف ہاتھ سے لکھے ہوئے قران ملتے تھے۔ لیکن ان بادشاہوں نے اس مشورے کو رد کر دیا کہ ایسا کرنے سے قران کی بے حرمتی کا اندیشہ ہے۔
مذہب کے ٹھیکیداروں نے مسلمانوں کو جدید علوم حاصل کرنے سے سختی سے منع کیا کہ یہ شیطانی علوم ہیں ان سے بچیں۔ ہندوستان میں آخر کار سر سید احمد خان نے مسلمانوں کو ایسے غلط اوہام سے جگایا، اور مسلمانوں کو جدید اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے پر اکسایا۔ جس کا نتیجہ تھا کہ آہستہ آہستہ مسلمان اس خواب غفلت سے بیدار ہونے لگے۔لیکن جدید تعلیم کے مخالفین نے خصوصاً غریب مسلم ممالک میں تعلیم پھیلنے نہیں دی اور لڑکیوں کی تعلیم تو صرف مدرسہ تک محدود کر دی۔جب سے مسلمانوں میں وہابی مذہب کا پھیلائو بڑھا اور سعودی عرب کے امراء نے ان غریب مسلمانوں کو مدرسے چلانے کے لیے مالی امداد دینا شروع کی تو مدرسوں کے ٹھیکیداروں نے مدرسوں میں مادری یا قومی زبان کا لکھنا پڑھنا اوربنیادی حساب کی شمولیت بھی منظور نہیں کی۔ کیونکہ ان کو مالی امداد اسی شرط بھی دی جاتی تھی کہ وہ جدید تعلیم سے بچوں کو بے بہرا رکھیں گے۔اس راقم کی نظر میںمسلمانوں کو جدید تعلیم سے محروم رکھنا اگر سازش نہیں تو کوتاہ اندیشی ضرور ہے۔اسی کا نتیجہ ہے کہ آج بھی جنوبی ایشیا اور افریقہ کے اسلامی ممالک میںخواندگی کی شرح بہت کم ہے۔ پاکستان میں ، جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے،خواندگی کو کبھی در خور اعتنا نہیں سمجھاگیا۔۱۵ سال اور اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کی تعداد آج سے چند سال پہلے تک پانچ کڑوڑ سے اوپرتھی۔اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، تمام دنیا کے جو بچے سکول نہیں جا رہے ان کی آدھی تعداد صرف دس ملکوں میں ہے، جن میں نائجیریا نمبر ایک ہے اور پاکستان دوسرے نمبر پر جہاں پچاس لاکھ سے زیادہ بچے سکول نہیں جا رہے تھے ۔ یہ حال ڈاکار کے معاہدے پر ان ملکوں نے جو اقرار کیا تھا، اس کے بعد کا ہے۔
صرف سعودی عرب اور اسلامی ملکوں میں غربت کو اس جہالت کا ذمہ وار ٹہرانا مناسب نہیں ہو گا کیونکہ اگر حکومتیں تمام بچوں کو لازمی ابتدائی تعلیم کے قوانین پر عمل پیرا ہو کر سب بچوں کے لیے سکول بناتیں اور کوئی بچہ سکول سے باہر نہ ہوتا، تو مدرسوں کی ضرورت ہی نہ رہتی۔ اصل قصور ان عناصر کا ہے جو ملک میں طاقت کے سر چشمہ ہیں اور خواندہ عوام کو اپنے حقوق سے واقف نہیں ہونے دینا چاہتے۔ ان پڑھ عوام کو غلط راہ پر چلانا اور ان کے حقوق کو پائمال کرنا آسان ہے۔ ان کی جہالت اور غربت سے فائدہ اٹھا کر ان کے ووٹ لیے جا سکتے ہیں اور ان کو کم اجرت پر مزدور بھرتی کیا جا سکتا ہے۔ خواہ وہ زمینوں پر کام کریں، خواہ کارخانوں میں، اور خواہ فوج میں۔ کتنی ستم ظریفی ہے کہ کسی سیاستدان نے بھی کبھی بنیادی تعلیم کو اپنا نعرہ نہیں بنایا۔ غریبوں کے نام کے حامی بھٹو نے بھی روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ بنایا ، اگرچہ دیا کچھ بھی نہیں، لیکن تعلیم کا ذکر نہیں کیا ۔ نوازیوں نے تو روٹی کپڑے کا بھی ذکر نہیں کیا، صرف ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگوایا بھلا اس سے عوام کو کیا فائدہ؟ البتہ اس کا مطلب غالباً، کرپشن کو عزت دو، تھا جو کچھ لوگوں کو بہت پسند آتا۔ صرف ایک پارٹی نے نعرے کی حد تک، ’’پڑھا لکھا پنجاب‘‘ کا نعرہ لگایا اور کچھ کام بھی کیا لیکن اسے حالات ساز گار نہیں ملے، ورنہ شاید کچھ کرگذرتی۔
افسوس اس بات کا ہے کہ موجودہ حکومت کو بظاہر نہ ڈاکار کے فریم ورک کا ادراک ہے ناخواندگی کی اہمیت کا۔ اور وہ تعلیمی اصلاحات کی مخالف مافیا سے ڈرتے ہوئے غالباً پھونک پھونک کر قدم بڑھا رہی ہے ۔ سعودی امداد پر پلنے والے ملائوں پر ہاتھ نہیں ڈالنا چاہتی کیونکہ مخالفین اور انکے گورو فضلو کے ہاتھ ایک مہم جوئی کا بہانہ آ جائے گا، جو ان حالات میں قابل قبول نہیں۔ہماری ناقص رائے میں، حکومت مدرسوں کو ان کے حال پر چھوڑ دے اورلازمی بنیادی تعلیم پر پوری توجہ دے تا کہ ہر بچہ سکول جائے۔ اگر کوئی مدرسہ بھی جانا چاہتا ہے تو جائے۔ لازمی بنیادی تعلیم کے قانون پر پوری طاقت سے عمل کروایا جائے۔ اس کے علاوہ عملی خواندگی کو بھی حکومت کے زیر نگرانی دیا جائے۔ رفاہی ادارے خواندگی پر تربیت اور تحقیق کا کام کریں! کرپشن کے خلاف جنگ اپنی جگہ، یہ مثبت ترقی بھی ضروری ہے!

Leave A Reply

Your email address will not be published.