چیف جسٹس وقار سیٹھ کی موت کا معمہ

11

پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ اچانک کورونا کے باعث وفات پا گئے جس کا کسی کو علم تک نہ ہوا ،جبکہ چیف جسٹس وقار سیٹھ موجودہ دور میں پاکستان کی مشہور ترین شخصیت بن چکے تھے کہ جنہوں نے حال ہی میں ایک جابر، ظالم، آئین شکن سابقہ حکمران جنرل مشرف کو پھانسی کی سزا دی تھی کہ جنرل مشرف کو برطانوی آئین شکن کراموویل کی طرح قبروں سے ہڈیاں نکال کر پھانسی کے پھندے پر لٹکانے کا آرڈر دیا تھا وہ اچانک پشاور کی بجائے اسلام آباد میں انتقال کر گئے حالانکہ کرونا کا علاج پشاور میں بھی ہو سکتا تھا یا پھر ملکی میڈیا جو ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کی خوشی و غمی کی خبریں شائع کرتا ہے مگر میڈیا کی نظر میں جسٹس وقار سیٹھ کیسے چھپے رہے حالانکہ انہیں بھی شیخ رشید، شہباز شریف، اشرف پرویز ،جنرل افضل کی طرح کرونا ہو چکا تھا کہ جن کا علاج فلاں ہسپتال میں ہورہا ہے چونکہ چیف جسٹس وقار سیٹھ نے پاکستان کے آئین شکن، آمر، جابر، ظالم، بدکردار اور بداعمال جنرل مشرف کو عدالتی سزا دی تھی جس کے بعد ملک کے دربانوں اور بلوانوں میں ماتم مچ گیا تھا تاکہ آئندہ کوئی طالع آزما ملکی آئین توڑنے کا سوچ نہ سکے گا جس پر فوجی ترجمان جنرل غفور کو پریس کانفرنس کرنا پڑی کہ فوجی جنرل سابقہ ہو یا موجودہ وہ ایک خاندان ہے جو غدار نہیں ہو سکتے لہٰذا ہم اعلیٰ خصوصی عدالت کے فیصلے کو رد کرتے ہیں جس کے بعد نیم مارشلائی حکومت بے وردی فوجی افسروں نے لاہور کی ایک جونیئر عدالت کے جونیئر جج مظاہر علی نقوی سے سپریم کورٹ کی بنائی ہوئی خصوصی عدالت کے خلاف غیر قانونی فیصلہ کرا لیا کہ خصوصی عدالت کا وجود ناجائز تھا جس کے خلاف کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے مگر فیصلہ نہ جانے کب ہو گا جبکہ قاضی اس دنیا سے رخصت ہو گیا مگر مجرم زندہ ہے اور عیش و عشرت کی زندگی بسر کررہا ہے جس سے ثابت ہوا کہ جنرل غدار نہیں ہوتے چاہے وہ جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ، جنرل ضیاء الحق یا جنرل مشرف آئین شکن اور پاکستان کی منتخب حکومتوں کے خلاف تختے الٹ کر ملک پر قبضے کرتے ہوں، تاہم چیف جسٹس وقار سیٹھ مرحوم کے اس فیصلے کے بعد ان کی سپریم کورٹ میں سنیارٹی کی بنا پر نامزدگی روک دی گئی جس کے بارے میں انہوں نے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کررکھی ہیں کہ مجھ سے جونیئر ججوں کو سپریم کورٹ میں جج بنایا گیا لہٰذا مجھے بھی قانون کے مطابق ترقی دی جائے جس پر عدالت عظمیٰ خاموش نظر آئی ہے، اب شاید ان کے جانے کے بعد درخواستوں کا فیصلہ ہو گا جس کا فائدہ ان طاقتوں کو ہو گا جو پاکستان کی عدلیہ میں وقار سیٹھ، قاضی فائزعیسیٰ، جنرل مقبول باقر اور جسٹس منصور علی شاہ جیسے جج نہیں چاہتے جس سے ایک دفعہ عدلیہ آزاد اور خودمختار ہو جائے گی چونکہ ریاست کے اوپر ریاست کے حکمرانوں نے یہ طے کر لیا ہے کہ پاکستان میں جمہوری نظام کا قیام ان کا خاتمہ ہے لہٰذا وہ دن رات جمہوری قوتوں کے خلاف مصروف نظر آتے ہیںجو جسٹس شوکت صدیقی جیسے ججوں کے قلم رکوا کر اپنے من پسند فیصلے لینا چاہتے ہیں جس کے خلاف جب جسٹس شوکت صدیقی احتجاج کرتے ہیں تو ان کو برطرف کر دیا جاتا ہے بہرکیف چیف جسٹس وقار سیٹھ کے فیصلے سے پاکستان ورلڈ کورٹ آف جسٹس سے بھارتی جاسوس اور دہشتگرد کلبھوشن کی رہائی رکوانے میں کامیاب رہا، جب عدالت میں پاکستانی فوجی عدالت کے مجرم کی سزا کو چیلنج کیا گیا کہ کلبھوشن کو اپیل کا حق نہیں دیا گیا تو پاکستان کے موجودہ فروغ نسیم وغیرہ چیف جسٹس وقار سیٹھ کا فیصلہ ورلڈ کورٹ میں پیش کیا جس میں 74اشخاص کی ہائیکورٹ سے رہائی تھی جن پر فوجی عدالتوں نے دہشت گردی میں سزائیں دی تھیں جو اب سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں جس کے بعد عالمی عدالت نے کلبھوشن کو رہائی کی بجائے پاکستان میں حق اپیل کے لئے عدالتوں پر اعتماد کیا تھا ورنہ کل بھوشن رہا ہو چکے ہوتے، مزید برآں چیف جسٹس وقار سیٹھ مرحوم نے تاریخی فیصلے کئے جس میں فوجی عدالتوں کے فیصلوں کو کالعدم کیا، فوجی عقوبت خانوں کو بند کیا، پاکستان کی تاریخ کا بہت بڑاکرپشن بی آر ٹی کا فیصلہ کہ جس میں اربوں کے گھپلے ہوئے ہیں اس کی ایف آئی اے تحقیقات کرے جو اب سپریم کورٹ میں لٹکا دیاگیا ہے اس طرح پختون خواہ میں لا تعداد کرپشن کے مقدمات موجود ہیں جن کے وزراء اور مشیر چیف جسٹس وقار سیٹھ کے سخت خلاف تھے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ جسٹس وقار سیٹھ کی وفات معمہ بنتی جارہی ہے، بہرحال جسٹس وقار سیٹھ ایک بااصول اور باکردار جج تھے جنہوں نے اپنی عدالتی زندگی میں اپنے قریبی رشتے داروں اور عزیزوں سے ملنا جلنا بند کر رکھا تھا تاکہ کوئی شخص ان کی عدالتی زندگی پر اثر انداز نہ ہو پائے، یہی وجوہات ہیں کہ جسٹس وقار سیٹھ کو بلیک میل کرنا مشکل ہو چکا تھا جنہوں نے ہر قسم کی مراعات اور سوغات سے دوری اختیار کررکھی تھی جس میں ججوں کے لاٹ کردہ پلاٹ بھی شامل تھے۔
قصہ مختصر پاکستان بار کونسل سپریم کورٹ بار اور ملک کی دوسری بار کونسلوں اور باروں نے چیف جسٹس وقار سیٹھ کے غم میں یوم سوگ منایا جو ایک نہایت جرأت مندانہ عمل ہے کہ ایسے ججوں کو خراج عقیدت پیش کرنا انسانی فرض میں شامل ہے جس سے باقی ماندہ دلیر اور نڈر ججوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے کہ جن کو عدالتی کارروائیوں میں حوصلہ ملتا ہے کہ وہ آزادنہ عدالتی فیصلے کر پائیں جن پر جبری اداروں کی تلوار لٹکتی رہتی ہے، علاوہ ازیں پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کونسل کو جسٹس وقار سیٹھ کی موت کا معمہ حل کرنے کے لئے ایک اعلیٰ درجے کا کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے جو جسٹس قاضی جسٹس مقبول باقر اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل ہو جو تحقیقات کرے کہ جسٹس وقار سیٹھ کی موت کیسے اور کیوں ہوئی جس میں ان کے خاندان کو بھی پوسٹ مارٹم کرانا چاہیے تاکہ لوگوں میں پائی جانے والی شک و شبہات دور ہو جائیں جو ان کی اچانک بے خبر اطلاعات سے پیدا ہو چکی ہیں کہ ان کی موت کس طرح ہوئی ہے کہ کرونا تھا یا مروانا تھا چونکہ پاکستان میں ملکی سیاستدانوں اور اہلکاروںکی ایسی ویسی اموات ہو چکی ہیں جس میں ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان مسلم دنیا کی پہلی دو مرتبہ منتخب وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کا قتل اور مادر ملت فاطمہ جناح کی مسخ شدہ لاش کا آج تک اتا پتہ نہیں چل پایا ہے لہٰذا جسٹس وقار سیٹھ کی مکمل تحقیقات کرائی جائے کہ ان کی موت کیسے اور کن حالات میں ہوئی؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.