ایران نے جوہری معاہدے پر عملدرآمد کیلیے مشروط رضا مندی ظاہر کردی

22

تہران: ایران نے نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن سے ایران پرعائد پابندی اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے دوبارہ جوہری معاہدے میں شامل ہونے پر زور دیا ہے۔

عرب خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ اگر نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن تہران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ کرتے ہیں تو ایران 2015 کے جوہری معاہدے پر مکمل عملدرآمد کے لیے تیار ہے۔

جواد ظریف نے کہا کہ یہ کام فوری طور پر صرف تین ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔

عرب میڈیا کا بتانا ہےکہ جواد ظریف نے انٹرویو کے دوران امریکا سے کسی بھی قسم کی امداد پر اصرار نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر جوبائیڈن امریکی وعدوں پر عمل کے لیے تیار ہیں تو ہم بھی فوری طور پر اپنے مکمل وعدوں کے مطابق معاہدے پر واپسی کرسکتے ہیں اور اس معاہدے کے فریم ورک کے اندر ہی مذاکرات ممکن ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ہم اس پر بات چیت کے لیے تیار ہیں کہ امریکا کس طرح اس معاہدے میں واپسی کرسکتاہے، اس سلسلے میں صورتحال آئندہ چند ماہ میں بہتر ہوگی کیونکہ جوبائیڈن تین ایگزیکٹو آرڈرزکے ذریعے ایران پر عائد پابندیاں اٹھاسکتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جوبائیڈن 2015 میں 6 عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے میں دوبارہ شمولیت کا عزم ظاہر کرچکے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.