کرونا وائرس کے بارے میں نیا خوف ناک انکشاف

33

وسکنسن: سائنس دانوں نے اب نئے کرونا وائرس کے بارے میں نیا خوف ناک انکشاف کر دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ کو وِڈ 19 کا باعث بننے والا وائرس اب وہ نہیں رہا جو چین میں نمودار ہوا تھا بلکہ اس نے خود کو اس طرح سے بدل لیا ہے کہ یہ انسانوں کے لیے اور زیادہ متعدی ہوگیا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی نئی قسم نے اس کے پھیلاؤ کی رفتار بڑھا دی، امریکی ریاست وسکنسن کی یونی ورسٹی میں کی جانے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ اس نئی قسم کا نام ’614 جی‘ ہے ناک میں جس کا وائرل لوڈ اصل وائرس سے کہیں زیادہ نکلا، تاہم محققین کہتے ہیں کہ اس سے بیماری کی شدت میں اضافہ نہیں ہوا لیکن دوسروں تک منتقلی کی شرح بڑھ گئی ہے۔

نئی تحقیق کے مطابق کرونا وائرس نے اپنے اسپائیک پروٹینز کو بدلا ہے، یہ وہ حصہ ہے جو جسم میں انسانی خلیات کو متاثر کرنے میں مدد دیتا ہے، چناں چہ اب یہ وائرس مزید تیزی کے ساتھ جسم میں خلیات تک پہنچ کر اپنی تعداد بڑھاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرس کی یہ قسم سب سے پہلے فروری 2020 میں یورپ میں سامنے آئی تھی، اور بہت تیزی سے دنیا بھر میں کرونا کی بالادست قسم بن گئی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی اس سلسلے میں متعدد سائنسی تحقیقات سامنے آ چکی ہیں، امریکا کے لوس آلموس نیشنل لیبارٹری نے اپنی تحقیق میں انکشاف کیا تھا کہ وائرس کی اس نئی قسم سے متاثر جانور، وائرس کی اوریجنل قسم کے شکار جانوروں کے مقابلے میں، زیادہ تیزی سے بیماری کو صحت مند جانوروں میں منتقل کرتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.