نفاذ شریعت کا مطالبہ

12

پاکستان میں اسلام، جمہوریت اور آئین کا لفظ جتنی بار بولاگیا ہے اتنی بار کسی ملک میں نہیں بولا گیا، نفاذِ اسلام کا مطالبہ بھی پاکستان میں ہی ہوا ہے، مگر سچ یہ ہے کہ پاکستان میں آئین، جمہوریت، اسلام اور نفاذِ اسلام کا مطالبہ ایک مذاق سے زیادہ کچھ نہیں ، یہ بھی پاکستان میں ہی ہوا کہ آئین کے خالق نے اپناہی بنایا ہوا ٓئین معطل کر دیا، ۱۹۷۳ کے آئین میں لکھا گیا ہے کہ کوئی قانون اسلام کی روح سے متصادم نہیں ہو گا، اس آئین پر جماعتِ اسلامی کے پروفیسر غفور کے دستخط بھی ہیں اور ان کے خیال میں۱۹۷۳ کا آئین اسلامی ہی تھا، پھر حال ہی میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے جہاں اور کئی مطالبات کئے وہاں ایک بار پھر نفاذ شریعت کا مطالبہ کر دیا ہے، اگر ۱۹۷۳ کا آئین اسلامی نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پروفیسر غفور نے اس وقت جھوٹ بولا اور قوم کو گمراہ کیا تو سراج الحق کو یہ اعلان کر دینا چاہیے کہ غفور جھوٹا آدمی تھا اور اس نے قوم کو دھوکہ دیا، اس بار جماعت اسلامی نفاذ اسلام کے مطالبے پرسچے دل سے یقین رکھتی ہے تو اس بات کا یقین کیسے کر لیا جائے، جماعت اسلامی دو بار آئین کو روند کر دو آمروںکی حلیف رہی ہے، اب چونکہ اس کوکراچی پر قبضہ کرنا ہے اس لئے فوج کو برا کہہ کر اس کو بلیک میل کرنا چاہتی ہے، کراچی ریلی میں سراج الحق نے پاکستان کی فوج کو بھی ہدف بنایا، یہ کھلی منافقت ہے،
سراج الحق سے ہمیں کچھ اور بھی معلوم کرنا ہے کہ وہ کس اسلام کا مطالبہ کررہے ہیں، اسلام کی عمر تو بہت مختصر ہے ایک صدی بھی نہیں پوری خلافت راشدہ کی عمر ملا کر بھی اور اس وقت اسلامی ریاست کے خدوخال بھی واضح نہیں ہو پائے تھے اور عجیب بات کہ قرآن کی تدوین تو حضرت عثمان کے زمانے میں ہوئی تھی مگر حضرت عمر کے زمانے میں مسلمان ایران تک پہنچ چکے تھے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمان ایران تک کیا چند آیات ہی لے کر گئے تھے، پورا پیغام تو گیا نہیں تو مکمل نظام دین بھی نہیں دیا جا سکا، مکمل پیغام کی تدوین تو حضرت عثمان کے زمانے میں ہی ہوئی، حسنین ہیکل نے لکھا ہے کہ عمر کے زمانے میں وہ اصول جو رسولؐ کے زمانے میں واضع ہوئے تھے 23%تبدیل ہو چکے تھے، غامدی اس کو اچھا Coverدیتے ہیں کہ یہ سارے انتظامی معاملات تھے مگر یہ کیسے انتظامی معاملات تھے جو دین میں اتنی بڑی تبدیلی لے کر آئے جبکہ احکامات کی تدوین ہی نہیں ہوئی تھی، یہ اہم سوال ہیں۔
سراج الحق اپنے پیر کی یہ بات تو جھٹلا نہیں سکتے کہ کربلا کے بعد ملوکیت آگئی تھی مگر مودودی صاحب اپنی کتاب خلافت اور ملوکیت اس کتاب میں یہ بھی لکھ دیتے تو احسان ہوتا کہ اس کے بعد عثمانیوں تک ملوکیت کا ہی دور دورہ رہا جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تھا، اس جملے سے بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوجاتا مگر سراج الحق یہ معمہ حل کر سکتے ہیں ہمیں بتائیں کہ وہ پاکستان میں وہ نظام لانا چاہیں گے جس کے بقوم غامدی اصول خدوخال ہی نمایاں نہیںہوئے تھے یا وہ اسلام جس کو مودودی صاحب نے ملوکیت ہی کہا تھا، سراج الحق ستر سال سے عوام سے اسلام کے نام پر جھوٹ بول رہے ہیں اور ان کو ایسے سہانے خواب دکھارہے ہیں جو تاریخ کا حصہ ہی نہیں اسلامی حکومت کبھی بنی نہیں اسلامی نظام کبھی برپا ہوا ہی نہیں، 1500سو سال کا پورا دورانیہ ملوکیت کا دورانیہ ہے، جبر اور خلافت کی فسطائیت کا،پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا، دنیا میں کوئی اسلامی ریاست ہے ہی نہیں، پاکستان میں اس بیانیے کو فوج نے ترتیب دیا ہے اور اس کی حفاظت پر دینی جماعتیں مامور ہیں پاکستان کی STRATEGIC LOCATIONاور عوام کے اندر موجود POTENTIALسے دنیا خائف ہے اور فوج کو عالمی طاقتوں نے اس خدمت پر مقرر کر دیا ہے کہ اس قوم کو آگے بڑھنے سے روکیں تاکہ پاکستان کو ایشیائی معاشی قوتوں کے لئے خطرہ نہ بننے دیا جائے اور اپنی مرضی کے نتائج حاصل کئے جا سکیں اور پاکستان کو بفرزون بنا کر رکھا جائے، ان کو یہ بھی خدشہ ہے کہ پاکستان اگر ان کے ہاتھ سے نکل گیا تو خطے کی سیاست تبدیل ہو جائے گی اور اس کا نقصان ان کے IMPLIED INTERESTSپر پڑے گا عالمی طاقتوں کے ان مفادات کا تحفظ فوج کررہی ہے اور اس کام کے لئے وہ دینی جماعتوں کو استعمال کرتی ہے اور بار بار اسلامی نظام کا مطالبہ کرتی ہیں اور جب بھی پاکستان کسی انقلابی تبدیلی کا مرحلہ درپیش ہوتا ہے یہ دینی جماعتیں دین، بے حیائی، فحاشی، کے نعروں کے ساتھ سڑکوں پر چلی آتی ہیں اور مدارس میں پالے ہوئے دولے شاہ کے چوہوں کو جلسوں، جلوسوں اور دھرنوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور مطلوبہ مقاصد حاصل کر لئے جاتے ہیں، ان بدکردار دینی جماعتوں جن میں لواطت اور اغلام بازی عام ہے، ان کو روزی روٹی کا کوئی مسئلہ نہیں، ان کو سماجی اور معاشرتی معاملات سے سابقہ پڑتا ہی نہیں ان کو مہنگائی، پانی و بجلی کی قلت اور سماجی مسائل سے کوئی سروکار ہے ہی نہیں، ان کو ایک خاص مقصد کے لئے استعمال کیاجاتا ہے، حیرت ہوتی ہے کہ مولانا عادل کے قتل پر تمام مکاتب فکر کے علماء باہر نکل آئے مگر شہر شہر کم سن بچیوں کے آئے دن ریپ ہورہے ہیں ان کو بے دردی سے قتل بھی کر دیا جاتا ہے مگر ان بدقماش علماء کی زبان پر نہ تو مذمت کا لفظ آتا ہے اور نہ ہی صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں، خود مدرسوں میں بچوںکا ریپ ہوتا ہے کم سن بچوں کو پیٹا جاتا ہے اوران کو قتل بھی کر دیا جاتا ہے مگر یہ اپنے مجرموں کو یہ لوگ آسانی سے چھڑا کر لے جاتے ہیں، ناموس ختم نبوت جیسا خطرناک ہتھیار ان کے پاس ہے جس کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔
عالمی ایجنڈا ہے کہ پاکستان کا رول ایک بفر زون کا ہی رہے گا اور معاشی طور پر پاکستان کو عوام کی معاشی ترقی سے روک دیا جائے، اس کام کے لئے فوج کو استعمال کیا گیا ہے، اس یقین ہانی کے ساتھ کہ ملک میں تمام ANTI-ESTABLISHMENT MOVEMENTSکو کچلنے میں فوج کی مدد کی جائے گی اور انسانی حقوق کی پامالی کا سوال نہیں اٹھایا جائے گا، آرمی چیف کو یونہی تو اکیس توپوں کی سلامی نہیں دی گئی، کوئی نہ کوئی کام تو موصوف سے لینا ہی تھا جو سمجھ میں تو آتے ہیں مگر ایسی باتیں کہی نہیں جاتیں، افغانستان کا مسئلہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے مگر ہم نے یقین دلا چکے ہیں کہ ہم امریکہ کو افغانستان سے جانے نہیں دینگے اوران کے مفادات کا تحفظ کیا جائیگا، ان تمام مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے دینی جماعتوں کو استعمال کیا جاتا ہے، دینی جماعتوں فوج اور عالمی طاقتوں کا پاکستان کی معاشی ترقی کے خلاف اتحاد ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.