لڑکیوں کے تعلیمی اخراجات بوجھ کیوں ؟

11

لوگ اکثر کہتے ہیں لڑکیوں کو تعلیم کیوں دلوائیں اور اس پر اتنا خرچا کیوں کریں جب اس نے آگے جا کر چولہا چوکی ہی کرنی ہے اور گھر سنبھالنا ہے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ عورت گھر نہ سنبھالے بلکے ہم تو یہ چاہتے ہیں اسے تعلیم ملے تاکہ وہ گھر کے ساتھ ساتھ نسلوں کو بھی اچھے سے سنبھالے۔عورت کے دم سے یہ معاشرہ قائم ہے جو اپنی گود میں نسلوں کو پروان چڑھاتی ہے۔اب جس نے نئی نسل کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ آگے چل کر اس معاشرے کو سنبھال سکیں جب وہ خود کسی قابل نہ ہو تو وہاں نئی نسل کیا کرے اور کسے ترقی کرے۔اسی مقصد کو مد نظر رکھتے ہوئے مومنہ چیمہ فائونڈیشن مستحق طالبات کو وظائف کی سہولت مہیا کر رہی ہے۔ رزق حلال کمانے والا ایک باپ بمشکل لڑکے کے تعلیمی اخراجات کا بوجھ اٹھالے تو بڑی بات سمجھی جاتی ہے کجا لڑکیوں کو تعلیم دلائے۔غریب اور سفید پوش باپ کی بیٹی سرکاری سکول سے بمشکل میٹرک کی تعلیم حاصل کر تی ہے جبکہ لڑکیاں محنتی اور با صلاحیت ہونے کے باوجود پیشہ ور ڈگریاں حاصل کرنے سے محروم ہیں۔ غریب باپ بیٹی کو شہر بھیجنے اور اس کے تعلیمی اخراجات کا بوجھ اٹھانے کا اہل نہیں ہو سکتا لہذا پاکستان کا ٹیلنٹ گھروں میں پڑا سڑ جاتا ہے اور امیر کی بیٹی مہنگے نجی اداروں سے ڈگریاں لے کر بھی معاشرہ کا حصہ نہیں بنتیں۔اچھے رشتے یا اچھے سٹیٹس کے لئے میڈیکل میں بھی داخلے لے لیتی ہیں لیکن تعلیم نا مکمل چھوڑ کر اچھا رشتہ ملتے ہی شادی کرا لیتی ہیں اور ڈگری لے بھی لیں اس کا استعمال نہیں کرتیں کہ پیسہ ان کا مقصد نہیں ہوتا ،زیادہ تر بیرون ملک چلی جاتی ہیں یا گھر بیٹھ کر تعلیم گنوا دیتی ہیں۔جبکہ غریب کی لڑکی تعلیم حاصل ہی ملازمت کرنیکے لئے کرتی ہے تا کہ خاندان کو غربت اور قرض کی دلدل سے نجات دلا سکے۔لیکن غریب کی بیٹی کے کالج کے اخراجات کون برداشت کرے ؟ پاکستانیوں میں ابھی اتنا شعور بیدار نہیں ہو ا کہ تعلیم کو حقیقی زیور تسلیم کر سکیں۔امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں مقیم پاکستانی بھی الا ما شا اللہ وطن عزیز میں تعلیم کے فروغ میں دلچسپی نہیں رکھتے۔اپنی سیاست اورچودھراہٹ پر ہزاروں ڈالر خرچ کر دینے والے اپنے گاؤں کے غریب بچوں کو تعلیم دلانے سے محروم ہیں ؟ پاکستان جہاں ملازمت کے لحاظ سے بی اے کی ڈگری کی وقعت بھی میٹرک کے برابر ہے وہاں پیشہ ور ڈگری کے بغیر کوئی ملازمت ملنا مشکل ہو چکا ہے۔ غریب کے بچے ملازمت کے لیئے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ملازمت کا نہ ملنا بھی ایک تکلیف دہ موضوع ہے لیکن تعلیم کا حاصل نہ کرسکتا اس سے بھی زیادہ اذیت ناک ہے۔پاکستان ایک اسلامی مملکت ہونے کے باوجود یہاں تعلیم کی اہمیت کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ سرکاری سکولوں کا جو حال ہے ،اس سے بہتر ہے سرکاری نظام تعلیم بند کر دیا جائے۔ بچوں کونہ پینے کا صاف پانی میسر ہے ، نہ معیاری سہولیات فراہم کی جا تی ہیں۔ بلاول ،حمزہ شہباز ،مریم نواز،سلیمان خان ،قاسم خان،کے سکول اور ہیں اور ایک عام پاکستانی کے بچوں کے سکول اور ہیں۔غریب بچے کے سکول کا نام ’’ سرکاری سکول ‘‘ہے اور امیر بچے کے سکول کا نام ’’ پرائیویٹ سکول ‘‘ ہے۔ امیر اور غریب میں فرق برقرار رکھنا امیر کی خواہش ہے۔ امیر نہیں چاہتا کہ غریب کا بچہ اس قابل ہو جائے کہ اس کے بچے کے برابر والی کرسی پر بیٹھ کر انگریزی بولنے کی جسارت کر سکے۔ غریب ملک کے حکمرانوں کے بچے انگریزی نجی اداروں سے تعلیم حاصل کرتے ہیں اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیئے مغربی درسگاہوں میں بھیج دیئے جاتے ہیں۔ کسی کا بچہ سرکاری سکول سے فارغ التحصیل نہیں اور نہ یہ لوگ خود سرکاری سکولوں سے پڑھے ہوئے ہیں۔ سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والے غریب کے بچے کا درد کیا جانیں؟ جنوبی پنجاب اورسندھ میں تو نظام تعلیم کا بیڑا ہی غرق ہے۔تعلیمی بجٹ غیر تسلی بخش ہے۔ پاکستان کی نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے، خواتین کی تعلیم کی جانب توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ بلوچستان میں خواتین کی تعلیمی شرح 15 سے 25 فیصد ہے۔ پاکستان میں معیار تعلیم‘ تعلیمی سہولیات‘ تعلیمی شعور اور رحجان کے بحرا ن سے نبٹنے کے لئے سرکار کی توجہ اور نیت کو بہت دخل ہے۔ جو تعلیمی معیار بھٹو خاندان‘ عمران خان اور شریف برادران نے اپنے اور اپنی اولاد کے لئے پسند کیا‘ وہ معیار ایک عام پاکستانی کو نصیب ہو جائے تو پاکستان ترقی میں امریکہ کو بھی مات دے جائے۔ خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم کو اہمیت دی جائے تو پاکستانی معاشرہ صحیح معنوں میں اقبال کا پاکستان بن جائے۔ لڑکیوں کی تعلیم کئی خاندانوں کو سنوارتی ہیں اور خاندانوں سے معاشرہ تشکیل پاتا ہے اور معاشرہ ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔ جس ملک کی ماں ان پڑھ ہے، اس ملک کی نسلیں کبھی پیروں پر کھڑی نہیں ہو سکتیں۔ اگر ہر پاکستانی اپنے حصے کی ذمہ داری لے لے اور اپنے خاندانوں میں مستحق لڑکیوں کو تعلیم کے زیور اور لڑکوں کو تعلیم کی دولت سے ہمکنار کر دے تو ناخواندگی کے سرطان کا خاتمہ خود بخود ہو جائے گا۔ تعلیم ہی حقیقی زیور اور دولت ہے۔ اسے نہ کوئی چوری کر سکتا ہے اور نہ چھین سکتا ہے۔ اپنی لڑکی کو ڈھیروں تولہ سونا بھی پہنا دو‘ اس میں وہ اعتماد پیدا نہیں ہو سکتا جو پروفیشنل ڈگری کے حصول سے ہو سکتا ہے۔ ارشاد نبوی ہے:- ’’علم حاصل کرنا مرد و عورت دونوں پر فرض ہے۔‘‘ بقول نپولین بونا پارٹ:- ’’بہترین قومیں بہترین مائیں ہی بنا سکتی ہیں‘‘۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.