امریکی صدارتی انتخاب غیر سنجیدہ ماحول، آئندہ صدر کون ہو گا؟

10

امریکی صدارتی انتخابات میں اب صرف چندد ن رہ گئے ہیں، 3نومبر وہ دن ہو گا جب امریکی عوام نئے صدر کے لئے ووٹ ڈالیں گے، آئندہ 4سال کیلئے دنیا کے سب سے طاقتور انسان کا انتخاب کریں گے، ٹرمپ اور جوبائیڈن عوام کے سامنے امیدوار ہیں، ٹرمپ کے ماضی میں بہت زیادہ کامیابیاں نہیں ہیں، افغانستان سے وہ امریکی فوجوں کو نہیں نکال سکے جو انہوں نے اپنے خطابوں میں عوام سے وعدہ کیا تھا، کرونا نے صدر کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا، لاکھوں افراد اس کی لپیٹ میں آگئے، ملک کی معیشت کو بہت بڑا نقصان ہوا، لاکھوں لوگ بیروزگار ہو گئے، مرنے والوں کی تعداد اتنے ترقی یافتہ ملک میں بہت زیادہ تھی جس طرح شروع میں نیویارک میں لوگوں کو اجتماعی قبروں میں دفنایا گیا وہ پوری انسانیت کی آنکھ کھول دینے کے لئے کافی تھا، اتنے ترقی یافتہ دور میں بھی انسان انسان سے ہی ڈرنے لگا تھا، لوگ اپنے پیاروں کو بھی ہاتھ لگانے سے ڈرنے لگے تھے، سڑکیں بہت دردناک منظر بعض ملکوں میں پیش کررہی تھیں، ہر طرف لاشیں ہی لاشیں تھیں، انسان اپنے ہی خون سے اجنبی بن گیا تھا، یہ سب باتیں ٹرمپ کے حصے میں آئی ہیں، امریکی لوگ سوال کرتے ہیں ہیں جب چین میں یہ بیماری شروع ہوئی اس وقت حکومت نے احتیاطی تدبیریں کیوں نہیں کیں، کیوں نہیں ہسپتالوں کو الرٹ کیا گیا، ٹرمپ اس کا مذاق اڑاتا رہا، اس کو چینی وائرس کہتا رہا، سنجیدگی سے اس کو لیا ہی نہیں، نتیجہ یہ نکلا کہ لاکھوں امریکی اس کا نشانہ بن گئے، پوری دنیا حیران اور پریشان تھی یہ امریکی حکومت ہے جو اپنے عوام کو صرف موت ہی موت دے رہی ہے، سونے پر سہاگہ ٹرمپ بھی اس کا نشانہ بن گئے، بعض لوگوں کا خیال ہے ٹرمپ نے الیکشن کے لئے ڈرامہ کیا ہے، پہلے صدارتی بحث میں جوبائیڈن سے ان کی پرفارمنس اچھی نہیں تھی، عوام پر ٹرمپ نے اچھا تاثر نہیں چھوڑا ہے، 2016ء کے ٹیکس ریٹرن پر ٹرمپ کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکے، صرف راڈ اور بوگس کہہ دینا ہی کافی نہیں، نیویارک ٹائمز نے اپنی خبر پر ابھی بھی زور دیا ہوا ہے کہ اس کی خبر سچ ہے، دوسرے لفظوں میں ٹرمپ جھوٹ بول رہا ہے اور سچائی کو چھپارہا ے، ورنہ حقیقت یہی ہے، ٹرمپ کو جوبائیڈن نے آڑے ہاتھوں لیا اور اس کو ایک جوکر تک کہہ ڈالا، شائد یہ پہلی مرتبہ اس طرح کے الفاظ استعمال کئے گئے ، کسی بھی صدارتی امیدوارو کی طرف سے امریکی عوام بہت دلچسپی کے ساتھ یہ مباحثہ دیکھ رہے تھے، ٹرمپ کے جوابوں سے کوئی اچھا اثر امریکی عوام پر نہیں پڑا، لوگ بھی سوچ رہے تھے یہ کیسا صدر ہے، بجائے کارکردگی پر بات کرنے کے یہ ادھر ادھر کی باتوں میں وقت ضائع کررہا ہے، بار بار کمپیئر کو ٹرمپ کو ٹوکنا پڑا لیکن وہ رکا نہیں۔ جوبائیڈن نے امریکی عوام پر اچھا اثر چھوڑا۔ایک سنجیدہ اور سمجھدار انسان جو اپنی 82سالہ عمر کے باوجود اس کو ہر چیز کا پتہ تھا اور اس نے کسی بھی جگہ پر اپنی کمزوری کو ظاہر نہیں کیا بلکہ بھرپور طریقہ سے اپنی بات کو پیش کیا، جوبائیڈن نے یہ ثابت کیا کہ وہ نہ صرف معلومات میں ٹرمپ سے بہتر ہے بلکہ اس کے پاس مستقبل کی منصوبہ بندی موجود ہے ا ور وہ بحیثیت صدر بھی ملک کو چلا سکتا ہے، صرف ایک چیز اس کے خلاف جاتی ہے وہ اس کی عمر ہے، اس کی عمر ٹرمپ سے زیادہ ہے وہ شائد سب سے زیادہ عمر کا صدر ہو گا، نائب صدارتی مقابلے میں بھی کملا ہیرس نے متاثر کیا، اس کا انداز اور الفاظ بہت سخت اور متاثر کن تھے، اس نے نائب صدر پر سخت حملے کئے اور ہر بات کا بھرپور انداز میں جواب دیا، کملا ہیرس شائد مستقبل کی اچھی لیڈر ثابت ہوں گی اور ابھی بہت زیادہ اس کی عمر نہیں ہے وہ آگے چل کر ملک پر حکومت بھی کر سکتی ہے ابھی تک تو امریکہ میں کوئی عورت صدر نہیں بنی لیکن کملا ہیرس آگے چل کر امریکہ کی صدر بن سکتی ہے۔
صدارتی انتخاب کے نتائج کا اندازہ کریں تو کوئی بھی چیز واضح نہیں ہے، عوامی طور پر جوبائیڈن کا حال بہتر ہے، عوام میں پوزیشن بھی بہتر ہے لیکن انتظامی معاملات ٹرمپ کے پاس ہیں اور بہت کم صدر دوسری مرتبہ ہارے ہیں، اس لئے اتنی ناکامیوں کے باجوود بھی ٹرمپ کا مستقبل بہتر لگ رہا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.