کسے تہذیب کہتے ہیں وہ خود ہی جان جائیں گے تم اپنے اپنے بچوں کو فقط اردو سکھا دینا

7

کراچی والوں کی بول چال
پورے پاکستان سے منفرد بھی ہے اور مختلف بھی
کسے تہذیب کہتے ہیں وہ خود ہی جان جائیں گے
تم اپنے اپنے بچوں کو فقط اردو سکھا دینا،،
یہ کراچی کی زبان ہے – جو بولی سے چڑتے ہیں اْنہیں زبان اور بولی کا فرق معلوم نہیں
کوئی مرنے کے قریب ہو – ‘‘ بریانی دم پر ہے ‘‘
کوئی دکاندار پیسے زیادہ مانگ لے تو کہتے ہیں
سیدھا بول۔۔۔ جائداد تیرے نام لکھ دیں
اسلحہ "سامان” کہلاتا ہے کراچی میں
نکل پڑی” – مطلب توقع سے اچھا کام ہو گیا
کوئی زیادہ ہی خوشامد کرے تو کہتے ہیں
ابے بس کر – جڑ سے اکھاڑ دے گا کیا”
کسی کی بات زیادہ لمبی ہو رہی ہو تو کہتے ہیں
بس۔۔ ہو گیا تیرا ”
کوئی کام کہہ دے اور کرنے کا دل نہ کرے
تو کراچی والے صاف منع نہیں کرتے بس یہ کہتے ہیں
ابے چھوڑ نا اس سے بہتر وہ کام کر لے اس میں زیادہ فائدہ ہے”
اپنا کوئی کارنامہ بتانا ہو تو کبھی یہ نہیں کہیں گے
کہ آج میں نے یہ کارنامہ انجام دیا۔بلکہ کہیں گے
دیکھ جانی – تیرے بھائی نے کیا کام نبٹایا ‘‘
کوئی زیادہ بول رہا ہو تو۔ ” دماغ کی نہ مار”
کوئی چیز بہت پسند آجائے تو کہتے ہیں
انت، اخیر،ادھم چیز ہے یار ‘‘
کبھی فلم دیکھنی ہو یا کھانا کھانے جانا ہو تو یہ نہیں کہتے کہ سب اپنا اپنا خرچہ اٹھائیں گے بلکہ کہتے ہیں امریکن سسٹم ہوگا ‘‘
اگر جھگڑے میں گالی نہ دینی ہو
سامنے اماں یا ابا کھڑے ہوں تو
ابے او مٹر گشتی کی اولاد
اوئے کڑوے
ابے چل جھونپڑی کے
محلے کے سارے بزرگ ” چچا” ہوتے ہیں
کوئی بار بار اگر یہ پوچھے کہ ” میں کیا کروں؟”
تو کہتے ہیں – ’’پکڑ کے ناچ لے ‘‘
کوئی بہت زیادہ کھانے والا ہے تو کہتے ہیں
’’ سووتے جاراہا ہے کھاپڑ ‘‘ —اور دعوت کو کھاپا کہتے ہیں
کراچی والوں کا خیریت پوچھنے کا اسٹائل بھی الگ ہے
کیا حال ہے پوچھنا ہو تو کہتے ہیں ” دے حالآوال”
‘‘ فارمی انڈے’’ -مطلب ٹریفک پولیس والے
اگر کوئی کنجوس ہوتو ‘‘ یہ تو سالہ مفتا ہے کٹا دو اسکو
کراچی کے تمام پان والے ماموں کہلاتے ہیں
‘‘ ماموں سگریٹ دینا ذرا ‘‘
’’ سمجھدانی چھوٹی ہے’’ مطلب بیوقوف شخص ہے
کوئی بات لمبی کر رہا ہو تو – ‘‘ دماغ کا دہی نہ بنا ‘‘
کوئی فضول بول رہا ہو ‘‘ ابے نکل یہاں سے چورن نہیں بیچ ‘‘
بیکار آدمی -‘‘ ابے یار۔۔۔۔ ڈھکن آدمی ہے
ْجب کوئی بول ہی نہیں رہا ہو تو-‘‘ منہ میں کیا ماوا ہے ‘‘
آجکل آپ کا بھائی فل ٹائم ہٹو بچو چل رہا ہے.
پوّا/جگاڑ/جیک=سورس
پھٹیک/گند/چراند=مسئلہ
بھنّوڈ/کریک/چریا/ہٹیلا=غصہ والا
ڈنڈا/بمبو=پریشرائز
بچی/چھانڑی/کٹ= گرل فرینڈ
بھاری/اوپر سے آنا/پھینکو= اوور اسمارٹ
بھرم/ٹور= رعب و دبدبہ
پھوڑنا/سوتنا/منڈنا= کھانا یا مارنا
تو ٹینشن نہیں لے تیرا بھائی سب سنبھال لے گا
یہ کراچی کی زبان ہے… جو بولی سے چڑتے ہیں ان کو بولی اور زبان میں فرق نہیں معلوم
کسے تہذیب کہتے ہیں وہ خود ہی جان جائیں گے
تم اپنے اپنے بچوں کو فقط اردو سکھا دینا،،

Leave A Reply

Your email address will not be published.