امریکہ میں دقیانوسیت اور اعتدالیت کا مقابلہ

6

امریکی انتخابات 3نومبر کو ہونے جارہے ہیں جس میں فرسودیت یا دقیانوسیت اور اعتدالیت اور جدیدیت کا سخت مقابلہ ہو گا، ایک طرف فرسودیت یا دقیانوسیت پسند صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی نسل پرست تحریک کا علمبردار ہے جو مدمقابل صدارتی امیدوار جوبائیڈن پر طرح طرح کے جملے کس رہا ہے، جو کبھی جوبائیڈن کو کمیونسٹ، سوشلسٹ اور لبرل کے ناموں سے پکار رہا ہے جس کا چنددہائیوں پہلے نام لینا گناہ تھا کہ جس وقت کمیونسٹوں کو باغی اور غدار قرار دیا جاتا تھا جبکہ کمیونسٹوں یا سوشلسٹوں کا نظریہ معاشیات مساویات تھا کہ ہر شہری کو برابر کے ریاستی وسائل میں شامل کیا جائے کہ یہاں قابلیت کے مطابق کام اور ضرورت کے مطابق معاوضہ ملنا چاہیے جس میں دولت کی تقسیم مساوی ہو، دوسری جانب اعتدال پسندوں اور ترقی پسندوں کا نامزد صدارتی امیدوارجوبائیڈن امریکہ میںبلاتفریق اوربلاامتیازسیاسی،معاشی اور سماجی انصاف کا پرچم تھامے کہہ رہا ہے کہ امریکہ میں مفت تعلیم اور صحت کا نظام ہونا چاہیے تاہم امریکی موجودہ صدر ٹرمپ نے 2016ء میں نسل پرستی کا نعرہ بلند کیا تھا جو آج رنگ لارہا ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے انڈسٹریل ریاستوں میں لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مجوزہ ریاستوں میں غیر ملکوں میں منتقل کاروبار واپس لائے گا، انہوں نے اپنا وعدہ پورا نہ کیا مگر اس کے باوجود لوگوں نے ووٹ دیا کہ ٹرمپ الیکٹرول کالج کی بنا پر انتخابات جیت گیا جبکہ مخالف امیدوار ہیلری کلنٹن نے 30لاکھ زیادہ ووٹ لے کر بھی بری طرح ہار گئیں، ظاہر ہے کہ الیکٹرول کالج نظام ریاستوں کو مساوی نمائندگی سے اپنایا گیا تھا تاکہ چھوٹی ریاستوں کو بھی نمائندگی مل جائے حالانکہ موجودہ سینیٹ کے بعد الیکٹرول کی ضرورت نہیں ہے جو اب ایک غیر جمہوری عمل رہ گیا ہے مگر الیکٹرول ابھی بھی جاری ہے جس کی وجہ سے پاپولر ووٹ لینے والا امیدوار کامیاب نہیں ہو پاتا چاہے کیلیفورنیا، نیویارک یا دوسری نارتھ ایسٹ اور ویسٹ کی ریاستیں سو فیصد ووٹ دیں پھر بھی امیدواور صدر نہیں منتخب ہو سکتا ہے یہی وجوہات ہیں کہ امریکہ کی سوئنگز سٹیٹس پر دارومدار ہوتا ہے کہ وہ جس کوووٹ دیں وہ امیدوار صدر منتخب ہو جاتا ہے۔ الیکٹرول کی تعداد ہر ریاست کے کانگریس مین اور سینیٹر کے برابر ہوتی ہے جن کی تعداد 535اور تین الیکٹرول واشنگٹن ڈی سی سے ہوتے ہیں یاد رکھیں کہ بعض ریاستوں کے الیکٹرول جس کو چاہیں ووٹ دے سکتے ہیں جس سے جیتا ہوا امیدوار الیکٹرول کی وجہ سے الیکشن ہار سکتاہے، بہرکیف فی الحال صدارتی امیدوار جوبائیڈن صدر ٹرمپ سے پانچ سے دس پوائنٹ زیادہ نظر آرہے ہیں مگر پچھلی دفعہ میڈیا دھوکہ کھا گیا تھا کہ میڈیا پر ہیلری ٹرمپ سے آگے تھیں مگر انتخابات کے نتائج سامنے آئے تو وہ ہار چکی تھیں، صدارتی امیدوار صدر ٹرمپ کا نعرہ پہلے امریکہ ہے جووہ گزشتہ پانچ سال سے اپنائے ہوئے ہے جس کا مطلب امریکی سرمایہ کاروں اور سرمایہ داروں کو واپس امریکہ لایا جائے گاجس میں وہ مکمل طور پر ناکام رہے، جوبائیڈن کا نعرہ امریکہ کو متحد کرنا ہے جس میں مختلف رنگوں، نسلوں اور لسانوں کوایک پرچم تلے جمع کرنا ہے تاکہ امریکی جو کئی قوموں کی ایک قوم ہے جوکبھی سیاہ فاموں، یہودیوں، مسلمانوں، ہسپانویوں کے نام تعصبات کا شکار رہتے ہیں جس سے امریکہ کے وجود کو خطرات لاحق ہونے کے امکانات ہیں جس کا تدارک صدر اوبامہ کے دور میں کیا گیا کہ جب مسلمانوں کے سروں پر لال، پیلی بتیوںکو بجھایا گیا جس کا آغاز گیارہ ستمبر کے بعد چلا آرہا تھا کہ ہر چلتا پھرتا مسلمان دہشت گرد بن چکا تھا، جس کے بعد پھر صدر ٹرمپ نے وہ بجھی ہوئی آگ جلا دی کہ کبھی مسلمانوں کے خلاف آرڈر پاس کر دیا کہ سات مسلم ممالک کے مسلمان شہریوں کو ویزے نہ دئیے جائیں جس کو امریکی عدالتوں نے رد کر دیا ورنہ ٹرمپ کا یہ نسل پرستی کا سلوک آج تک نافذ رہتا یا پھر لاطینو کمیونٹی کے پیچھے پڑ گیا جن کے سامنے دیوار نفرت تعمیر ہونے لگی جس سے امریکہ آج دنیا بھرمیں تنہا کھڑا ہے جس کا کوئی اتحادی اور حامی نہیں ہے اگر سعودیہ جیسا ملک ہے تو جس کی مجبوری ہے کہ وہ ایسے آمرانہ اور جابرانہ جیسے ذہن والے امریکی حکمرانوں کے ساتھ تعلقات رکھیں جس سے ان کی اپنی بادشاہت مضبوط رہتی ہے ورنہ نظریہ سیاست کے مقدس اقوام کے مطابق کوئی بھی جمہوری ملک دوسرے آمرانہ حکمرانوں کی حمایت نہیں روک سکتا ہے مگر ایسا ہی ہوتا چلا آرہا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں فوجی بغاوتوں اور سازشوں کی حمایت کی گئی ہے جس سے پاکستان جمہوریت سے محروم رہا ہے۔ یہی وجوہات ہیں کہ ٹرمپ کے نسل پرستانہ اور آمرانہ رویوں کے خلاف ڈیموکریٹ کا امیدوار جوبائیڈن کھل کر امریکی اقلیتوں کی جنگ لڑ رہا ہے، جس میں امریکہ میں آباد ایک سو ملین سے زیادہ اقلیتیں جوبائیڈن کو منتخب کرنا چاہتی ہیں تاکہ نسل پرستی سے جان چھڑائی جا سکے، بہرحال تین نومبر کو امریکی عوام کا نجات کا دن ہے جس دن امریکی عوام اپنی قسمت کا فیصلہ کرے گی جس میں امریکی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو بڑا اہم رول ادا کرنا ہو گا جن کو اس دن ووٹ اپنی عبادت سمجھ کر ڈالنا چاہیے تاکہ ایک ہٹلر نما حکومت کاخاتمہ ہو، جس کے لئے ہرشہری کو اپناووٹ رجسٹریشن لازمی کرنا چاہیے تاکہ وہ ووٹ سے محروم نہ رہے۔ خاص طور پر موجودہ سوئینگز ریاستوں میں مسلمانوں کاووٹ بڑا اہم ہے جس میں فلوریڈا، پنسلوانیا، نارتھ کرولینا، وسکانسن، میسگین، میساچوسٹھ، جارجیا، اوہائیو وغیرہ شامل ہیںجو پاپولر ووٹ کی بجائے الیکٹرول سے فیصلہ کریں گے، قصہ مختصر امریکہ کے انتخابات وقت پر ہورہے ہیں جس میں کسی قسم کی تبدیلی ناممکن ہے نہ ہی کسی امیدوار کی بیماری سے انتخابات رک سکتے ہیں نہ ہی کسی امیدوار حصہ نہ لینے پر انتخابات میں کوئی تبدیلی رونما ہو گی نہ ہی ٹرمپ کی غیر موجودگی میں۲۰ جنوری 2021ء کو اقتدار منتقل کرنے میں دشواری پیش آئے گی بشرطیکہ انتخابات کا معاملہ کسی عدالت کا شکار نہ ہو جائے ورنہ مائیک پنس نائب صدر، صدر یا سپیکر صدر بن سکتے ہیں جو اقتدار کی منتقلی میں اپنا آئینی کردار ادا کریں گے لہٰذا امریکی نظام حکومت افواہوں کی بجائے حقائق پر چلتا نظر آتا ہے جس میں پاکستان جیسا مخمصوں کا کوئی کردار نہیں ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.