وائٹ ہائوس میں انتشار

9

صدر ٹرمپ کا وائٹ ہائوس انکی صدارت کے پہلے دن ہی سے بحرانوں کی زد میں رہا ہے ان میں سے زیادہ تر بحران انکی متلون مزاجی‘ ہٹ دھرمی اور خود پسندی کی وجہ سے پیدا ہوے تین نا تمام جنگیں انہیں براک اوباما سے ورثے میں ملیں وہ ابھی تک جاری ہیںمڈل ایسٹ پہلے سے کہیں بڑی دلدل میں دھنس چکا ہے اسکے باوجود صدر ٹرمپ کی عجوبۂ روزگار شخصیت اسقدر امریکی میڈیا پر چھائی ہوئی ہے کہ اسے دنیا کے کسی دوسرے خطے کی خبر ہی نہیںعرب امارات اور اسرائیل کی دوستی کی خبر چند دنوں تک مین سٹریم میڈیا میں گردش کرتی رہی اسکے بعدوائٹ ہائوس کے شب و روزگھن گرج کیساتھ لوٹ آئے اس طرح کی صورتحال پہلے کبھی دیکھنے میں نہ آئی تھی امریکہ باہر کی دنیا سے اتنا بے نیاز پہلے کبھی نہ ہوا تھا امریکی میڈیا میںخارجہ پالیسی ہمیشہ سے اہم ترین مسئلہ چلی آرہی تھی داخلی بحران قومی اخبارات میں اندر کے صفحات میں نظر آتے تھے پھر صدر ٹرمپ نے سب کچھ بدل کے رکھ دیاسب جانتے ہیں کہ امریکہ ایک طاقتور ملک ہے اور اسکا صدر دنیا کی طاقتور ترین شخصیت ہے مگر تین بڑی اور طویل جنگوں میں ملوث ہونیکے باوجود دنیا بھر میں عام تاثر یہی تھا کہ امریکہ کا ہر صدر ذمہ دار‘ سنجیدہ‘ فرض شناس اور عوام کو جوابدہ ہوتا ہے مگر صدر ٹرمپ نے اس تاثر کو زائل کر دیا ہے یورپ امریکہ سے لا تعلق ہو چکا ہے اسے انتظار ہے کہ کب کوئی نیا صدر پرانی دوستی کے ٹوٹے ہوے سلسلے کو بحال کرتا ہے عراق شام اور افغانستان کی جنگیں جاری ہیںڈونلڈ ٹرمپ کی افتاد طبع اسے خارجی معاملات کی طرف جانے نہیں دیتی فلسطین مکمل طور پر امریکہ سے مایوس ہو چکا ہے چین پر ایک ایسی تجارتی جنگ مسلط کر دی گئی ہے جو امریکہ اور دنیا بھر کی اقتصادیات کیلئے ایک ڈرائونا خواب ہے امریکہ کی اپنی اقتصادی حالت دگر گوں ہے بیروز گاری اگر چہ کہ چودہ فیصد سے کم ہو کر نو فیصد پر آگئی ہے مگر کورونا وائرس سے پہلے یہ صرف چار فیصد تھی چھوٹے کاروبار دھڑا دھڑ بند ہو رہے ہیں اور بیروز گاروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے لیڈر گزشتہ چار ماہ سے کسی ریلیف پیکج پر متفق نہیں ہو رہے عوام کی نگاہیں وائٹ ہائوس پر لگی ہیں کہ کب وہاں سے کوئی اچھی خبر آتی ہے لیکن آجکل صدر ٹرمپ کی صحت‘ بر افروختگی اور بیانات ہی سب سے بڑی خبر ہیں میڈیا نے لوگوں کو ایک طاقتور شخصیت کے حصار میں جکڑ دیا ہے لیکن میڈیا انتشار کی دلدل میں پھنسے ہوے وائٹ ہائوس سے لا تعلق بھی نہیں رہ سکتا اس نے ہر روز یہ خبر دینی ہوتی ہے کہ سفید محل میں کیا ہو رہا ہے بادشاہ سلامت کا موڈ کیسا ہے آج کس کی شامت آئی ہے کل کس پر نزلہ گرے گا اسے نیو نارمل کہا جا سکتا ہے یہ صورتحال ایک طویل عرصے سے چلی آرہی ہے کورونا وائرس جیسی طاقتور عفریت بھی اسے بدلنے میں ناکام رہی ہے صدر ٹرمپ اگر اس وبا کو سمجھداری سے ہینڈل کر لیتے تو آج دوسری مدت صدارت جیتنا انکے لئے مشکل نہ ہوتا مگر دو لاکھ تیرہ ہزار امریکیوں کو اپنی کوتاہ اندیشی اور ناقص پالیسیوں کی بھینٹ چڑھانے کے بعد بھی وہ اپنی اس ضد پر قائم ہیں کہ انکی حکومت نے بڑی کامیابی سے اس خطرناک وبا کا مقابلہ کیا ہے اور کوئی بھی دوسری حکمت عملی زیادہ تباہ کن ثابت ہو تی
صدر امریکہ نے گذشتہ ہفتے چار دن اور تین راتیں والٹر ریڈ ملٹری اسپتال میں گذاریںاسکے بعد انکے ناقدین بھی یہ امید کر رہے تھے کہ اب وہ کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کا اعتراف کر کے اپنی پالیسی تبدیل کریں گے اور سائنسدانوں کے بتائے ہوے راستے پر چل کر نقصانات کم کرنے کی کوشش کریں گے مگر صدر ٹرمپ ہوا کے جس گھوڑے پر سوار ہیں اسکی رفتار اور سمت کا تعین کسی کے بھی بس کی بات نہیں میری لینڈ کے اسپتال سے واپسی کے بعد چھ اکتوبرکی صبح جب صدر ٹرمپ بیدار ہوے تو وائٹ ہائوس ایسی افراتفری کا شکار تھا جو یہاں کام کر نیوالے صحافیوں نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی صدر ٹرمپ پہلے سے زیادہ گرجدار آواز میں بات کرنے کی کوشش کر رہے تھے مگر انکی سانس بار بار پھول جاتی تھی اخبارات کے مطابق وائٹ ہائوس کا ویسٹ ونگ جہاں اوول آفس کے علاوہ درجنوں دیگر دفاتر بھی ہیں تقریباً خالی پڑا تھا صدر کے معاونین اور مشاہیر بہت کم تعداد میں تھے ان میں سے چودہ افراد کورونا وائرس کا شکار ہو کر کوارنٹین میں جا چکے تھے اکثریت گھروں میں آن لائن کام کر رہی تھی وائٹ ہائوس میں درجنوں کی تعداد میں رپورٹر کام کرتے ہیں انکی Correspondent Association کے صدر نے حکام کو اطلاع کر دی تھی کہ وہ صدر امریکہ کے جہاز ایئر فورس ون میں اسوقت تک سفر نہ کریں گے کہ جب تک انہیں اس میں کورونا وائرس سے بچائو کے اقدامات پر مکمل عملدر آمد کا یقین نہیں دلایا جاتاواشنگٹن پوسٹ نے وائٹ ہائوس کو دارلخلافے کا مشہورکورونا ہاٹ سپاٹ قرار دے دیا تھا صدر ٹرمپ نے اپنے چیف آف سٹاف Mark Meadows کو خصوصی ہدایات دی تھیں کہ وہ انکی صحت کے بارے میں اخبار نویسوں کو مثبت اور حوصلہ افزا بریفنگ دے یہ تاثر اسلئے ضروری تھا کہ ایک صحتمند‘ مضبوط اور طاقتور صدر ہی دوسری مدت صدارت کا الیکشن جیت سکتا تھا لیکن مدتوں سے وائٹ ہائوس کی رپورٹنگ کرنیوالے صحافی جانتے تھے کہ اصل صورتحال نہایت مختلف تھی کورونا وائرس وائٹ ہائوس میں پنجے گاڑھ چکا تھا صدر ٹرمپ کو جو دوائیاں دی جا رہی تھیں ان میںsteroid اور dexamethasone بھی شامل تھیں جو کورونا کے ایسے مریضوں کو دی جاتی ہیں جنکی حالت خطرے سے باہر نہ ہوان ادویات کی ایک خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ یہ عارضی طور پر انرجی لیول کو بلند کر دیتی ہیںاس غیر مستقل صورتحال کو بھانپتے ہوے صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جوزف بائیڈن کیساتھ اپنا دوسرا صدارتی مباحثہ یہ کہہ کر کینسل کر دیا کہ وہ کسی ورچوئل ڈی بیٹ میں حصہ نہیں لینا چاہتے اور مد مقابل ایک ہی جگہ پر آمنے سامنے نہ ہوں تو مذاکرہ بے معنی ہو جاتا ہے
واقفان حال کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اور انکے سٹاف کو نوشتۂ دیوار صاف نظر آرہا ہے متعدد سرویز کے مطابق صدر ٹرمپ مڈویسٹ اور جنوبی ریاستوں میں جو بائیڈن سے چار سے آٹھ پوائنٹس پیچھے ہیںان ریاستوں میں مشی گن‘ وسکانسن‘ نارتھ کیرولائنا اور فلوریڈا شامل ہیں صرف اوہائیو اور پنسلوینیا میں مقابلہ سخت ہے ان چھ ریاستوں کا کردار ہر صدارتی الیکشن میں فیصلہ کن رہا ہے تین نومبر کو ہونیوالا الیکشن جوں جوں قریب آرہا ہے صدر ٹرمپ کے غصے اور سٹپٹاہٹ میں اضافہ ہو رہا ہے آٹھ اکتوبر کے دن انہوں نے اپنی کابینہ کے اراکین کو سخت برا بھلا کہا کہ وہ انکے احکامات پر عمل کرتے ہوے انکے مخالفین کے خلاف تادیبی کاروائیاں نہیں کر رہے اٹارنی جنرل William Barr پر تنقید کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ وہ انکے بار بار کہنے کے باوجود جوزف بائیڈن اور براک اوباما پر مقدمات قائم نہیں کر رہے وزیر خارجہ مائیک پومپیو پر برستے ہوے انہوں نے کہا کہ اس نے ابھی تک ہیلری کلنٹن کی ای میلز شائع نہیں کیں ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے کی کارکردگی کو بھی انہوں نے مایوس کن قرار دیا
وائٹ ہائوس کے انتشار کی آکاس بیل نے واشنگٹن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے تمام جوائنٹ چیف آف سٹافس جن میںچیئرمین General Mark Milley بھی شامل ہیں کوارنٹین میں جا چکے ہیں ان میں سے ایک جنرل نے وائٹ ہائوس کی اس تقریب میں شرکت کی تھی جس میں کئی اہم عہدیدار کورونا وائرس کا شکار ہوے تھے میڈیا کے مطابق یہ اسلئے ایک Alarming Development ہے کہ اب کورونا وائرس سول بیوروکریسی کے اعلیٰ ترین افسروں سے ہوتی ہوئی ملٹری کی ہائی کمان تک جا پہنچی ہے ان جرنیلوں کو Heart of the country’s national security apparatus کہا جاتا ہے اس تباہی اور انتشار کی زد سے جو بچا ہے وہ صدر ٹرمپ کی متلون مزاجی‘ بر افروختگی اور خود پسندی ہے یہ تکبرو استکبار بھی شائد تین نومبر کو جل کر راکھ ہو جائے

Leave A Reply

Your email address will not be published.