انجینیئروں نے اسٹار وار کی ’لیزر تلوار‘ تیار کرلی

21

وکٹوریا، کینیڈا: ایک مشہور یوٹیوبر اور انجینیئر نے اسٹار وار فلم میں استعمال ہونے والی مشہور تلوار ’لائٹ سیبر‘ تیار کرلی ہے۔ فلم میں یہ تلوار بٹن دبانے پر لمبی ہوجاتی ہے اور اس کا اگلا روشن سرا ایک مکمل تلوار میں ڈھل جاتا ہے۔ وقت پڑنے پر اسے بند کرکے رکھا جاسکتا ہے۔

اب کینیڈا کے انجینیئر جیمز ہابسن نے دنیا کی پہلی لائٹ سیبر بنائی ہے ۔ ان کے یوٹیوب پر ’دی ہیک اسمتھ‘ نامی چینل میں سائنس فکشن فلموں کی ایجادات کو حقیقت کا روپ دینے کی کوشش کی جاتی ہے جس پر ماہرین کی پوری ٹیم کام کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے سبسکرائبر کی تعداد ایک کروڑ سے بھی زائد ہے۔

 

لائٹ سیبر میں پلازمہ ورژن بنایا گیا ہے جس کے لیے پشت پر ایک ٹینک پہننا پڑتا ہے جس میں پروپین گیس بھری ہے۔ یہ گیس ایک پلازمہ شعلہ پیدا کرتی ہے جو بڑھ کر تلوار کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ لیکن اس کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہے یعنی 4000 درجہ سینٹی گریڈ کے لگ بھگ ہے۔

اسے دنیا کی پہلی پھیلنے والی لائٹ سیبر کا نام دیا گیا ہے جو عین اسٹار وار کی تلوار کی طرح کام کرتی ہے۔ یعنی بٹن دباتے ہی بڑی ہوجاتی ہے۔ لیکن اسے کے لیے آتشیں گیس کا سیلنڈر درکار ہوتا ہے۔ اس کی پوری تفصیل ایک ویڈیو میں ظاہر کی گئی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.