بھارتی سپریم کورٹ مقبوضہ کشمیرمیں انٹرنیٹ سروسز بحال کرانے میں ناکام

حکومت سے سیکریٹریوں کی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی گئی جس کی سربراہی سکریٹری داخلہ کریں گے تاکہ درخواست گزاروں کی طرف سے اٹھائے گئے نکات پر غور کیا جائے۔

نئی دہلی(ویب ڈیسک + خبر ایجنسیاں) مقبوضہ کشمیر میںکورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر انٹرنیٹ سروسز کی فوری بحالی کے لیے احکامات جاری کرنے کے بجائے بھارتی سپریم کورٹ نے مودی حکومت کو اس معاملے پر غور کے لئے محض ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت دی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے جموں وکشمیر میں تیز رفتار انٹرنیٹ سروسز کی بحالی کے لیے دائر درخواستوں پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے حکومت سے سیکریٹریوں کی ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی جس کی سربراہی سکریٹری داخلہ کریں گے تاکہ درخواست گزاروں کی طرف سے اٹھائے گئے نکات پر غور کیا جائے۔ تاہم بھارتی عدالت عظمیٰ انٹرنیٹ سروس کی فوری بحالی کے لیے کوئی حکم جاری کرنے میں ناکام رہی ہے۔
جسٹس این وی رمنا کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین ججوں پر مشتمل بینچ نے یہ فیصلہ سنایا جس میں جسٹس آر سبھاش ریڈی اور بی آر گوائی بھی شامل ہیں۔عدالت نے متعلقہ فریقین ، درخواست گزاروں اور بھارتی حکومت کے نمائندوںا ٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال اور سالیسیٹر جنرل توشار مہتا کی طرف سے دلائل سننے کے بعد 4 مئی 2020 کو اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔
عدالت نے فری میڈیا پروفیشنلز (ایف ایم پی) ، شعیب قریشی ، پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن جموں و کشمیرسمیت متعدد درخواستوں پر سماعت کی جنہوں نے وادی کشمیر میں انٹرنیٹ روابط کی معطلی کو چیلنج کیا تھا۔مقبوضہ کشمیر میںدفعہ 370 کی منسوخی کے بعد گزشتہ سال اگست میں انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے