روئیے دھار دھار کیوں، کیجئے ہائے ہائے کیوں ؟ ’’جب زیادہ بارش ہوتا ہے تو زیادہ پاتی آتی ہے ‘‘

13

برسورام دھڑاکے سے۔۔۔بڑھیا مر گئی فاقے سے’’جب زیادہ بارش ہوتا ہے تو زیادہ پاتی آتی ہے ‘‘ یعنی کہ اس میں پریشانی والی کوئی بات نہیں، بارش اور گٹروں کا پانی انسان کو بہا لے جارہا ہے، پریشانی کی کوئی بات نہیں، آپ تو خیر سے بلاول ہائوس میں محفوظ ہیں، عوام جائیں بھاڑ میں ان کی بلا سے، عمران خان کو ووٹ دینے کی پاداش میں کراچی اور حیدر آباد کے عوام سزا بھگت رہے ہیں اور یہاں یہ حال ہے؎
پڑھی نماز جنازہ بھی میری غیروں نے
مرے تھے جن کے لئے وہ رہے وضو کرتے!
وزیراعظم صاحب آپ سے اتنا ہی کہنا کافی ہے؎
گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی!
کئی مہینے سے یہ شور سندھ حکومت مچار ہی تھی کہ محکمہ موسمیات کی اطلاع کے مطابق اس سال زیادہ بارش ہو گی، اس لئے پانی کی نکاسی کے لئے بہتر انتظامات کئے جائیں گے بلکہ یہ بھی کہا گیا کہ کر لئے گئے ہیں، برساتی پانی کی نکاسی کے لئے نالوں کی صفائی جاری ہے، اعلانات تو بہت ہوئے، شاید عوام ہی اندھے ہیں کہ انہیں کوئی ہل جل دکھائی نہیں دی، علی زیدی صاحب بھی آئے تھے، انہوں نے بھی کمر ٹھونک کر کہا تھا تین ماہ میں تمام نالوں کی صفائی مکمل ہو جائے گی، پھر ریاض ملک نے بھی کہا تھا کہ انہیں کوئی علاقہ دیا جائے وہ مکمل صفائی کروا دیں گے، انہیں کورنگی کا علاقہ بخشا گیا تھا، ہوا کچھ بھی نہیں وہی ’’ڈھاک کے تین پات‘‘ عوام پانیوں میں بانس ڈال کر آپ لوگوں کو تلاش کررہے ہیں لیکن کچھ ہاتھ نہیں آتا، روئیے دھار دھار کیوں، کیجئے ہائے ہائے کیوں ، آپ کو خود ہی سب کچھ سمیٹناہے۔
بائولے بھٹے نے فرما دیا کہ ’’سندھ حکومت بہت اچھا کام کررہی ہے‘‘ تو حضور والا ان فریادی، اندھے بہرے عوام کو بھی وہ اچھا کام دکھا دیجئے کون کررہا ہے اور کہاں ہورہا ہے؟ ہم بھی دیکھیں گے۔
آپ تو چین کی بانسری بجائیے جیسے روم جلا رہا تھا اور نیرو بانسری بجارہا تھا، یا وہ مغل بادشاہ جو بٹیرے لڑا رہا تھا لوگوں نے آ کر اطلاع دی کہ حضور دہلی پر فوج نے چڑھائی کر دی ، بادشاہ نے خبر لانے والے کو دھکے دے کر میدان سے نکال دیا چونکہ بادشاہ کا بٹیرا ہارنے والا تھا اور بادشاہ بے انتہا غم اور غصے میں تھا، دہلی جائے جہنم میں بٹیرا جیت جائے۔
اب تو ایسا معلوم ہوتا ہے پاکستان زبردستی ان کے متھے مار دیا گیا ہے، اس وجہ سے اس کی فلاح و بہبود کا ذمہ ان کا نہیں تو پھر یہ پارٹیاں کیوں بنائی جاتی ہیں، ووٹ کی بھیک کیوں مانگی جاتی ہے، یہاں سے مال کیوں سمیٹا جاتا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ ان کا حق تھا، ان کی وراثت تھا، اماں جہیز میں لائیں تھیں یا دادا چھوڑ گئے تھے۔
گٹر لائنیں پرانی ہو چکی ہیں، ان کی صحیح طور پر دیکھ بھال نہیں ہوئی، اس طرح سے گٹر لائنوں اور واٹر لائنوں کی ٹوٹ پھوٹ سے ایک تو عوام گندا پانی پینے پر مجبور ہیں ، دوسرے یہ گٹر جب ابلنے لگتے ہیں تو سڑکیں ڈوب جاتی ہیں اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہیں، نقل مکانی کرنے والے جہاں مرضی آتے ہیں کچی آبادیاں بسا لیتے ہیں، یہ بھی صاف پانی کی لائنیں توڑ کا اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں، اکثردیکھا گیا ہے لائنیں توڑ کر یہ کپڑے دھورہے ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں، عوام کے رونے دھونے پر جب ٹوٹی ہوئی لائنوں کی مرمت کی جاتی ہے ،لہٰذا وہ نئی سڑکیں جو لائنوںکی مرمت کے بعد بنائی جاتی ہیں دوبارہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں، کیا اس کا کوئی سدباب کیا جا سکتا ہے؟ کچی آبادیوں کو برساتی نالوں کے ساتھ بسائے جانے کو روکا جا سکتا ہے تاکہ بارش کا پانی جو ان تجاوزات کی وجہ سے آبادیوں میں جمع ہو جاتا ہے نہ ہو سکے، کیا سکیورٹی اداروں کی یہ ذمہ داری نہیں کہ ان ناجائز قابضین کو بروقت روکا جا سکے؟
عوام بھی اپنی بے اعتدالیوں سے پیچھا نہیں چھڑوا سکتے، اپنے گھروں کو صاف کر کے کوڑا کرکٹ گلیوں میں پھینکنا، نالوں میں کوڑا تھیلوں میں بھر کر ڈالنا، مردہ جانوروں کو نالوں میں بہانا، ان سب فضولیات کو روکنا کس کا ذمہ ہے، کیا عوام خود کوئی ایسی مہم نہیں چلا سکتے جس پر سب کوعمل کرنے پر مجبور کیا جائے، ہر محلے کی ایک یونین بنائی جانی چاہیے جس کا ایک دفتر ہو، وہاں پر محلے میں رہنے والے تمام مکینوں کے نام افراد کی تعداد، مالک مکان،کرائے دار، سب تفصیل درج ہونی چاہیے، صفائی کے ضمن میں کچھ ماہانہ وصول کیا جائے، کوڑے گاڑیوں ،خاکروبوں کا انتظام کیا جائے، گھر والے کوڑا جمع کریں، ہفتے کو جو دن کوڑا ان کی گلی سے اٹھانے کے لئے مقرر ہو اپنے دروازوں پر رکھ دیں، کوڑا گاڑیوں پر کوڑا ایسی جگہ پھینکیں جو مقرر کی گئی ہو، اپنے شہر کو صاف ستھرا رکھنے کی ذمہ داری عوام پر بھی ہوتی ہے، کتا بھی اپنی دم سے زمین صاف کر کے بیٹھتا ہے تو انسان کو کیا صفائی اور طہارت کا خیال نہیں رکھنا چاہیے؟ اگر محلوں میں کچرا کنڈیاں رکھی جائیں تو محلے میں کام کرنے والی ما سیوں کو سختی سے ہدایت کی جائے کہ وہ کوڑا ان کچرا کنڈیوں میں ڈالیں، باہر ادھر ادھر نہ پھینک کر فرار ہو جائیں، اگر کوئی ایسا کرے تو اس پر جرمانہ عائد کیا جائے، محلے کے نکڑ پرلکڑی کا ایک باکس بنا کر اس میں ڈھکنے والے کچرا کنڈیاں رکھی جائیں تاکہ جانور کوڑے کو نونچ کر بکھرا نہ سکیں۔
پاکستان بنتے وقت کراچی کی آبادی بہت مختصر تھی، پرانی نمائش اور گرومندر پر آس پا س آباد تھے، کچھ آگے تاجر آباد تھے اور کچھ علاقہ غیر آباد تھا، کچھ لوگوں نے پاکستان آ کر گولی مار میں رہائش اختیار کی، وہاں سے پیدل ملیرندی کے پار لسبیلہ تک بڑا مخدوش راستہ تھا جہاں مغرب کے بعداکثر لوگوں کو لوٹ لیا جاتا تھا۔
کراچی کو آباد کرنے کا ،ریگستان کو نخلستان بنانے کا سہرا مہاجروں اور پٹھانوں کی کاوش کا نتیجہ ہے، پٹھان ایک محنتی قوم ہے اور کراچی کی تعمیر میں مہاجرین کی کمائی اور پٹھانوں کی محنت ہے، سندھیوں کے چھوٹے چھوٹے گوٹھ تھے جہاں پر اونٹوں پر جلانے والی لکڑیاں لاد کر بیچا کرتے تھے یا دودھ بیچا کرتے تھے، عام سندھی کراچی آتے ہوئے گھبراتا تھا، یہ تو بھلا ہو بھٹو صاحب کا جنہوں نے بڑے بڑے وڈیروں کو DHAمیں لا کر بسایا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.