جمہوریت ایک طرز حیات ہے

22

عیدالاضحیٰ سے پہلے حزب اختلاف نے کل جماعتی کانفرنس بلانے کا اعلان کیا تھا چند بڑی جماعتوں کے سربراہوں نے ملاقاتیں کر کے حکومت کو سبق سکھانے کے عزم کا اظہار بھی کیا تھا اسوقت اس اے پی سی کے بارے میں کافی جوش و خروش پایا جاتا تھا اب اسمیں کچھ کمی آگئی ہے لیکن بات چل نکلی ہے اسلئے کچھ نہ کچھ ہو کر رہے گا یوں بھی حزب مخالف کے پاس کانفرنس بلانے کے علاوہ دوسرا کوئی آپشن موجود نہیں قومی اسمبلی میں الزام تراشی پر مبنی دھواں دھار تقریروں کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو سکتا وزیر اعظم مخالفین سے بات کرنے پر آمادہ نہیں اسلئے جمہوری نظام ڈس فنکشنل ہو کر رہ گیا ہے پارلیمانی یا صدارتی کسی بھی نظام میں وزیر اعظم یا صدر مخالفین کو ساتھ لئے بغیر قانون سازی نہیں کر سکتا امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسا بر خود غلط اور ہٹ دھرم صدر بھی قانون سازی کیلئے ڈیموکریٹک پارٹی کی مدد کا طلبگار رہتا ہے واشنگٹن میں اگر دونوں بڑی جماعتیں ملکر قانون نہ بناتیں تو اپریل میںایک کھرب ڈالر کا ریلیف پیکج عوام تک نہ پہنچتادونوں بڑی جماعتوں کی اس مفاہمت کی وجہ سے تین ماہ تک ہر بیروز گار شہری کو گھر بیٹھے 600 ڈالرکا چیک ہر ہفتے ملتا رہا اسکے علاوہ ہر ٹیکس دینے والے کو 1200 ڈالر کا چیک بھی دیا گیا اب وبائی مرض کے طول پکڑنے پر دونوں جماعتیں ملکر تین کھرب ڈالر کے ایک نئے پیکج پر گفت و شنید کر رہی ہیںصدر ٹرمپ نے کہہ دیا ہے کہ وہ اس بل کے سینٹ سے منظور ہوتے ہی اسپر دستخط کر دیں گے اس سارے عمل کو ڈیموکریسی ان ایکشن کہا جا سکتا ہے مگر یہ تمام عوامل ملکر بھی جمہوریت نہیں کہلا سکتے اسمیں اگر اس عوامی احتجاج کو بھی شامل کر لیا جائے جو گذشتہ پانچ ماہ سے جاری ہے تو تب بھی اسے مکمل جمہوریت نہیں کہا جا سکتا
جمہوریت کیا ہے اسے کیسے زندہ رکھا جا سکتا ہے اسکے فوائد کیسے حاصل کئے جا سکتے ہیںاور اسے ایک فعال نظام کی صورت میں کیسے اگلی نسل کو منتقل کیا جا سکتا ہے ان تمام سوالوں کے جوابات ممتاز سول رائٹس لیڈر John Lewis نے حال ہی میں شائع ہونیوالے ایک مضمون میں دیا ہے وہ ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا کے کانگرس مین تھے اس سیاہ فام لیڈر نے اپنی زندگی شہری حقوق‘ نسل پرستی کے خاتمے اور مبنی بر انصاف جمہوری نظام کے حصول کیلئے وقف کی ہوئی تھی گذشتہ ہفتے انہیں انکے آبائی شہر میں سرکاری اعزاز کیساتھ سپرد خاک کیا گیا انکی آخری رسومات میں سابق صدر براک اوباما انکی اہلیہ مشعل اوباما اور ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت نے شرکت کی جان لیوس نے نیو یارک ٹائمز کو ایک مضمون بھیجا تھا اور گذارش کی تھی کہ اسے انکی وفات کے بعد شائع کیا جائے اسمیں انہوں نے لکھا ہے کہ ’’ جمہوریت ایک حالت نہیں ہے بلکہ ایک عمل ہے‘‘ It is not a state, it is an act اور ہر نسل نے اس عمل کو جاری رکھنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہے جان لیوس نے کہا ہے کہ جمہوریت کی بقا کیلئے ضروری ہے کہ ہر فرد ایک Beloved Community ایک قوم اور ایک پر امن عالمی معاشرہ قائم کرنے کے عمل میں شامل ہو
جمہوریت کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ آئین‘ اسمبلیاں‘ انتخابات اور عدالتیں ملکر جمہوری نظام بناتی ہیںجان لیوس کی رائے میں جمہوریت ان سب سے زیادہ اثر انگیز عمل ہے یہ ایک اصول ہے ‘ ایک طرز زندگی ہے اور ایک ایسا نظام ہے جسے زندہ رکھنے کیلئے ہر شخص کو اسمیں شامل ہونا پڑتا ہے جان لیوس سے بہت پہلے معروف امریکی فلسفہ دانJohn Dewey نے 1888 میں The Ethics Of Democracy کے عنوان سے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ جمہوریت صرف اکثریت کی حکومت کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسے اخلاقی اور روحانی تعلق کا نام ہے جو انسان کے کردار اور صلاحیتوں کو جلا بخشتا ہے جان ڈیوی کی رائے میں جمہوریت اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ ہر انسان میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیںاور ان صلاحیتوں کو صرف ایک شخص یا کسی گروہ کی نشوونما کیلئے نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ترقی کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے ڈیوی کا کہنا ہے کہ اگر عام آدمی کی اہمیت کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر جمہوریت لا انتہا امکانات کا نظام بن جاتی ہے یہ نظام ہر فرد کو آزادی دینے کے علاوہ اس سے چند اہم ذمہ داریاں نبھانے کا تقاضا کرتا ہے اور یہ توقع کرتا ہے کہ ہر فرد جمہوری نظام کے بنیادی اصولوں کو زندہ رکھنے کیلئے فعال کردار ادا کریگا جان ڈیوی کی خواہش تھی کہ امریکہ دنیا بھر کیلئے ایک نمایاں اور چمکتی ہوئی جمہوریت کا رول ماڈل بن جائے مگر وہ یہ جانتا تھا کہ اسکی یہ خواہش محض ایک خواب تھا اس نے لکھا ہے کہ حقیقت میں مثالی جمہوریت انسانی حقوق کے حصول کی منزل کی طرف ایک سفر ہے اس منزل تک اس صورت میں پہنچا جا سکتا ہے کہ انسانی فطرت کی طاقت کو تسلیم کر لیا جائے اور اس طاقت کی مخالف سمت میں چلنے کی کوشش نہ کی جائے ہر مثالی جمہوری نظام میں انسانی فطرت کی طاقت کو ایک منصفانہ اور پر امن سماج کی تشکیل کیلئے لازم و ملزوم سمجھا جا تا ہے ڈیوی نے لکھا ہے کہ ایک جمہوری معاشرے کے قیام کیلئے ضروری ہے کہ حکومت اور سوسائٹی ملکر ایسا ماحول تخلیق کریں جسمیں ہر فرد خود کو نظام کا حصہ سمجھے اور اسے یقین ہو کہ جمہوریت پورے سماج کو یکجا اور ہم آہنگ کر کے آگے بڑھانے کے عمل کا نام ہے
جان ڈیوی نے دوسری جنگ عظیم کے دوران دیکھا کہ فاشزم اور پاپولزم عروج پر تھا اس صورتحال کے بارے میں اس نے لکھا کہ ’’ جمہوریت ایک ایسا عقیدہ ہے جو اس وقت انسانی جذبات سے ہم آہنگ ہوتا ہے جب اسے ایک مربوط نظام کی صورت میں ہر روز بروئے کار لایا جائے اور اسے اس یقین کیساتھ نافذ کیا جائے کہ یہ فرد اور معاشرے کے تعلق کو فروغ دے گا اگر جمہوری نظام انسانی عظمت کو تسلیم نہیں کرتا اور مساوات پر مبنی معاشرے کو تخلیق نہیں کرتا تو پھر سارا نظام مخالف سمت میں چل پڑتا ہے‘‘ دیکھا جائے تو امریکہ میں صدر ٹرمپ کی تمام تباہ کاریوں اور ناکامیوں کے باوجود لوگ جمہوری نظام پر غیر متزلزل یقین رکھتے ہیںاسی لئے ڈونلڈ ٹرمپ کو نہ صرف ہر محاذ پر شکست ہورہی ہے بلکہ وہ کھربوں ڈالر دیکر عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنیکی کوشش کر رہا ہے
وطن عزیز میں حکومت کی اظہار رائے پر پابندی‘ میر شکیل االرحمٰن کی گرفتاری‘ مطیع اللہ جان کا اسلام آباد میں اغوا اور نیب کے اپوزیشن پر ڈھائے جانے والے مظالم ثابت کرتے ہیں کہ معاشرہ انسانی فطرت کے تقاضوں کی مخالف سمت میں سفر کر رہا ہے اور لوگ منصفانہ انتخابات کے نام پر آنیوالی سیلکٹڈ حکومت کیوجہ سے جمہوری نظام سے بد ظن ہوتے جا رہے ہیں اس تناظر میں حزب اختلاف کو چاہیئے کہ وہ کل جماعتی کانفرنس کو محض تقریروںکے ایک فورم کی بجائے ایک حقیقی جمہوری معاشرے کی تخلیق کی جانب ایک ہمہ گیر پیش رفت کے طور پر استعمال کرے یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب اس کانفرنس میں ملک کی سماجی اور معاشی ترقی کیلئے ایک مربوط لا ئحہ عمل پیش کیا جائے اور لوگوں کو اسپر عملدرآمد کیلئے آمادہ کیا جائے اسکے بغیر یہ کانفرنس نشستن گفتن اور برخواستن کے تکلف سے زیادہ کچھ بھی نہ ہوگی

Leave A Reply

Your email address will not be published.