کرونا وائرس برطانوی معیشت کو لے بیٹھا، ملک کساد بازاری کا شکار

57

لندن: کرونا وائرس کی وجہ سے برطانیہ کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے اور برطانیہ کساد بازاری کا شکار ہوگیا ہے، ایک سروے کے مطابق رواں برس ستمبر کے آخر تک ہر 3 میں سے ایک برطانوی کمپنی تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گی۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق سال رواں کے پہلے 3 ماہ کے مقابلے میں برطانوی معیشت 20.4 فیصد سکڑ گئی ہے، سنہ 2009 کے بعد سے اب تک 11 سال کے دوران ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ برطانیہ کساد بازاری کا شکار ہوا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق ملک میں بیروزگاری کی شرح تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، صرف جون کے مہینے میں 1 لاکھ 39 ہزار سے زائد افراد اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

کرونا وائرس کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہزاروں فرمز بند ہونے کے باعث بیروزگاری کا طوفان برپا ہوا جسے حکومتی کوششوں کے باوجود سنبھالا نہیں جا سکا، بیروزگاری کی شرح میں ابھی بھی مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

برطانوی معاشی ماہرین کے مطابق گھروں میں کام کرنے والے اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

برطانیہ کے چارٹرڈ انسٹی ٹیوٹ آف پرسونل اینڈ ڈویلپمنٹ (سی آئی پی ڈی) کے مطابق حکومت اب اپنی ملازمتوں کی افلاس اسکیم کو ختم کرنے کے بعد کاروباروں کو بڑھتے ہوئے اخراجات کے امکان کا سامنا کر رہی ہے۔

سی آئی پی ڈی کے ہی ایک سروے کے مطابق رواں برس ستمبر کے آخر تک ہر 3 میں سے ایک کمپنی تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.