بجلی محفوظ کرنے والی ’’ذہین اینٹیں‘‘ ایجاد

29

سینٹ لوئی: امریکی سائنسدانوں نے بجلی محفوظ کرنے والی ’’ذہین اینٹیں‘‘ ایجاد کرلی ہیں اور ایسی ہی ایک اینٹ کی مدد سے دس منٹ تک ایل ای ڈی جلا کر اپنی کامیابی کا عملی مظاہرہ بھی کیا ہے۔

آن لائن ریسرچ جرنل ’’نیچر کمیونی کیشنز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق، سینٹ لوئی میں واقع واشنگٹن یونیورسٹی میں شعبہ کیمیا کے اسسٹنٹ پروفیسر، ڈاکٹر جولیو ڈی آرکی اور ان کے ساتھیوں نے بھٹے میں پکی ہوئی سرخ اینٹوں پر ایک خاص نامیاتی پولیمر کے بخارات جمع کیے، جس کے بعد وہ توانائی ذخیرہ کرنے والے ایک آلے ’’سپر کپیسٹر‘‘ میں تبدیل ہوگیا۔

بھٹے میں پکی ہوئی سرخ اینٹیں پاکستان سمیت دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں تعمیراتی مقاصد کےلیے عام استعمال ہورہی ہیں۔ ان کی سرخ رنگت ’’آئرن آکسائیڈ‘‘ نامی ایک مرکب کی وجہ سے ہوتی ہے جو دراصل ’’زنگ‘‘ کا دوسرا نام ہے؛ اور یہی زنگ ان اینٹوں کو بجلی ذخیرہ کرنے کے قابل بنانے میں اہم ترین ہے۔

اس طرح یہ پہلا موقع ہے کہ جب اِن سرخ اینٹوں کو بجلی ذخیرہ کرنے والے سپر کپیسٹرز میں تبدیل کیا گیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.