صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی

50

صدارتی انتخاب سے صرف سو دن پہلے کسی امیدوار کی مقبولیت میں نمایاں کمی اسکی شکست کے اثرات کا پتہ دیتی ہے ریپبلیکن پارٹی اس حقیقت کو تسلیم کر رہی ہے کہ ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جوزف بائیڈن عوامی مقبولیت کے میدان میںصدر ٹرمپ سے بہت آگے ہیںانکی اس برتری کی کئی وجوہات ہیں جن میںسے اکثر کا تعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے انداز حکمرانی سے ہے جس صدر کے دور میںایک وبائی مرض کی وجہ سے ایک لاکھ اڑتیس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہوںاسکا دوسری مدت صدارت جیت لینا نا ممکن نہ سہی نہایت مشکل ضرور ہے امریکی ادارےCneter For Disease Control And Prevention کے مطابق جمعہ سترہ جولائی کو جن لوگوں کے ٹیسٹ کے نتائج مثبت آئے انکی تعداد 364900 ہے کئی مغربی اور جنوبی ریاستوں میں ہر روز سینکڑوں افراد وائرس کیوجہ سے ہلاک ہو رہے ہیںاس نا گفتہ بہ صورتحال کے باوجود صدر ٹرمپ کورونا وائرس ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر انتھونی فائوچی کے ساتھ حالت جنگ میں ہیںڈاکٹر فائوچی 1984سے محکمہ انسداد وبائی امراض سے وابستہ ہیںاور Infectious (تیزی سے پھیلنے والی) بیماریوں کے ماہر مانے جاتے ہیںکئی سرویز کمپنیوں کے اعدادو شمار کے مطابق سینئر سائنسدان امریکی عوام میں صدر ٹرمپ سے زیادہ مقبول ہیںوائرس کے بڑھتے ہوے زور کی وجہ سے صدر امریکہ اپنے متعین کردہ سائنسدان کو انکے عہدے سے سبکدوش بھی نہیں کر سکتے اور اپنی جولانئی طبع اور سائنسی حقائق کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے انکے ساتھ چل بھی نہیں سکتے اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے انہوں نے اپنے حمائتی نیوز چینلز اور اخبارات کوڈاکٹر فائوچی کیخلاف میڈیا مہم چلانے کی ذمہ داری سونپی ہے اسکے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ یہ کوشش بھی کر رہے ہیں کہ اکانومی کو مکمل طور پر کھول دیا جائے تا کہ خوشحالی کا وہ دور واپس آسکے جو انکی کامیابی کی ضمانت تھا چھ ماہ پہلے نسلی امتیاز کی وجہ سے پھوٹنے والے ہنگامے اور فسادات ابھی تک جاری ہیںفروری کے مہینے Minneapolis میں جارج فلائیڈ نامی سیاہ فام شخص کی ایک پولیس افسر کے ہاتھوں اذیت ناک موت کے بعد شروع ہونیوالا عوامی احتجاج کسی طرح رکنے کا نام نہیں لے رہا اسکے جاری رہنے کی ایک بڑی وجہ صدر ٹرمپ کی کھلم کھلا پولیس کی حمایت ہے یہ طرفداری وہ ایک ایسے وقت میں کر رہے ہیں جب کئی بڑے شہروں میںاقلیتوں کے علاوہ گورے امریکن بھی احتجاج میں بڑھ چڑکر حصہ لے رہے ہیںاس کشمکش میں صدر ٹرمپ کا ہر ٹویٹ جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہے اس وجہ سے Independent  ووٹروں کے علاوہ ریپبلیکن بھی ان سے بد ظن ہوتے جا رہے ہیںملک کا طاقتور لبرل میڈیا کورونا وائرس کی تباہی اور فسادات کی تمام تر ذمہ داری صدر ٹرمپ پر ڈالتے ہوئے انہیںDivider in Chief کہہ رہا ہے اس مخالفت کے باوجود صدر ٹرمپ اپنے حمایتی ووٹروں کو یقین دلا رہے ہیں کہ وہ ہر صورت میںاپنے ایجنڈے پر قائم رہیں گے ۔

انکے ووٹروں کا آجکل سب سے بڑا مطالبہ پولیس کا دفاع ہے انکی رائے میںاگر پولیس سے اختیارات لے لئے گئے تو ملک میں انارکی پھیل جائیگی یہ وہ صورتحال ہے جو اسوقت نیو یارک‘ شکاگو‘ بالٹی مور اور منی ایپلیس میں دیکھنے میں آرہی ہے ان جگہوں میں جرائم کی تعداد میں گذشتہ سال کے مقابلے میں دو گنا اضافہ ہو چکا ہے جہاں کہیں بھی پولیس کے اختیارات میں کمی کی گئی ہے وہاں لوٹ مار اور قتل کی وارداتیں بڑھ رہی ہیںاسکے باوجود عوامی غم و غصے میں کمی نہیں آرہی بلکہ مظاہرین مطالبہ کر رہے ہیں کہ پولیس فورس کو مکمل طور پر ختم کر کے اسکی جگہ سوشل ورکر ز لائے جائیں جو تشدد کرنے کی بجائے گفت و شنید کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں

نظر یہ آرہا ہے کہ صدر ٹرمپ کو جوزف بائیڈن جو آٹھ سال تک براک اوباما کے نائب صدر رہے ہیں اور ایک ماڈریٹ سیاستدان کے طور پر جانے جاتے ہیںکو للکارنے سے پہلے ڈاکٹر فائوچی سے حساب کتاب برابر کرنا پڑیگا ڈاکٹر فائوچی موجودہ صورتحال میں اکانومی کو کھولنے کی سخت مخالفت کر رہے ہیںکئی سرویز کے مطابق عوام کی اکثریت انکے موقف سے متفق ہے ریپبلیکن پارٹی کے ووٹروں کی اکثریت سینئر سائنسدان کی بھرپور مخالفت کر رہی ہے رائے عامہ کا جائزہ لینے والی کمپنیاں دونوں بڑی جماعتوں کے علاوہ انڈی پینڈنٹ ووٹروں کی رائے بھی معلوم کرتی ہیںآجکل Quinnipiac University کے جاری کردہ سروے کو میڈیا میں خاصی پذیرائی مل رہی ہے اس سروے کے مطابق مئی کے مہینے میں ریپبلیکن پارٹی کے ووٹر ڈاکٹر فائوچی کے بارے میں جو ہمدردانہ رائے رکھتے تھے اب اسمیں خاصی کمی آ چکی ہے دوسری طرف ڈیموکریٹس اور انڈی پینڈنٹ رائے دہندگان میں انکی حمایت میں اضافہ ہوا ہے اس یونیورسٹی کے سروے کے مطابق مجموعی طور پر 65فیصد لوگ سینئر سائنسدان کوصدر ٹرمپ کے مقابلے میں زیادہ قابل بھروسہ سمجھتے ہیںاسمیں حیرانی کی بات یہ ہے کہ ایسے دیہاتی علاقے جہاں 2016 کے الیکشن میں صدر ٹرمپ بہت مقبول تھے وہاں بھی 61 فیصد لوگ ڈاکٹر فائوچی کو زیادہ قابل اعتبار سمجھتے ہیں

اے بی سی نیوز کے ایک سروے کے مطابق مئی کے مہینے میں ریپبلیکن پارٹی کے ورکنگ کلاس ووٹروں کی ساٹھ فیصد تعداد صدر ٹرمپ کی حمایت کر رہی تھی اب یہ کم ہو کر اکیاون فیصد رہ گئی ہے اسی طرح Evangelicalووٹرز جو ایک انتہا پسند مذہبی گروہ ہے اور جسکی ایک بڑی اکثریت صدر ٹرمپ کی طرفدار ہے نے ایک ماہ پہلے ستر فیصد کی تعداد میں صدرامریکہ کے حق میں رائے دی تھی اب انکی تعداد بھی کم ہو کر اٹھاون فیصد رہ گئی ہے گذشتہ مہینے CNBC نیوز چینل کے سروے کے مطابق جوزف بائیڈن کو صدر ٹرمپ پر چودہ پوائنٹس کی برتری حاصل تھی ان رائے دہندگان سے پوچھا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ اور جوزف بائیڈن میں سے کون صدارت کو بہتر طریقے سے چلا سکتا ہے

ان حقائق کی روشنی میں عوام کی اکثریت اس بات پر متفق نظر آتی ہے کہ صدر ٹرمپ کو دوسری مدت صدارت نہیں سونپی جا سکتی سروے کمپنیاں بھی یہی کچھ کہہ رہی ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ تین نومبر کو یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.