HAGIA SOPHIA MUSEUM

40

ترکی کی ایک اعلیٰ عدالت نے صدر اردگان کو یہ اختیار دیا کہ وہ HAGIA SOPHIA MUSEUMکی حیثیت کو مسجد میں تبدیل کر سکتے ہیں، اس مسجد کو ۱۴۵۳ میں کمال اتاترک نے میوزیم میں تبدیل کر دیا تھا، دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ عمارت ددراصل گرجا گھر تھی جس چھٹی صدر میں بازنطیہ BAZANTINEنے تعمیر کی تھی، یہ گرجا گھر دنیا کا سب سے بڑا گرجا گھر مانا تھا تھا اس کے فن تعمیر کو بھی بہت سراہا جاتا ہے، جب عثمانیوں نے استنبول پر قبضہ کیا تو اس گرجا گھر کو مسجد میں تبدیل کر دیا تب سے کما ل اتاترک کے اقتدارمیں آنے تک اس عمارت کی حیثیت صدیوں تک مسجد کی رہی اور مسلمانوں کی ایک جذبانی کیفیت اس عمارت سے وابستہ رہی، کمال اتاترک کے فیصلے پر بھی مسلمان ملول ہوئے اور انہوں نے اس بات پر کبھی افسوس کا اظہار نہیں کیا کہ گرجا گھر کو مسجد میں تبدیل کر دینا مناسب نہیں اور ان تعلیمات کے بھی منافی ہے جو مسلمانوں کو پڑھائی جاتی ہیں اور ہم مذہبی رواداری کے علمبردار بن جاتے ہیں، مسجد قرطبہ کو مسلمان بھول چکے تھے اقبال کی نظم کی وجہ سے عقیدت کا نشان بن گئی اور اس نظم کو مسلمانوں کے جذبات برانگیجتہ کرنے کے بھی استعمال کیا گیا، یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ اقبال کو مسجد قرطبہ کی تاریخ کا علم نہیں ہو گا اور وہ اس حقیقت سے لاعلم ہونگے کہ مسجد قرطبہ بھی کبھی ایک گرجا گھر ہی تھی، یہ مسجد بنوامیہ کی فتح اندلس سے قبلTHE CATHEDRAL OF OUR LADYS OF ASSUMPTIONSکہلاتا جب اندلس پر قبضہ ہوا تو مسلمانوں نے گرجا گھر کے آدھے حصے کو مسجد میں تبدیل کر دیا، باقی آدھا حصہ گرجا ہی رہا بعد میں عبدالرحمن نے باقی آدھا حصہ خرید لیا اور اس کو مسجد میں تبدیل کر دیا گیا، اور اس کی تعمیر، تزئین و آرائش میں عشرے صرف ہوئے چھٹی صدی سے ۷۱۰ تک یہ عمارت مشترکہ طور پر عیسائیوں اور مسلمانوں کی عبادت گاہ رہی، ۷۸۴ سے ۱۲۳۲ تک یہ عمارت مکمل طور پر مسجد میں تبدیل کر دی گئی، جب سپین سے مسلمانوں کو نکالا گیا تو اس کو دوبارہ CATHEDRALکی حیثیت بحال کر دی گئی، اقبال جن کو اب رحمتہ اللہ علیہ کہا جانے لگا ہے کو اتنا بددیانت نہیں ہونا چاہیے تھا کہ وہ ایک تاریخی حقیقت کو فراموش کر دیں اور یہ بات نظر انداز کر دیں کہ مسجد قرطبہ جس سے وہ اپنی عقیدت کا اظہار کررہے ہیں وہ دراصل گرجا گھر تھا، اردو کے ناقدین کی بے خبری کا یہ حال کہ وہ اقبال کی نظم مسجد قرطبہ پرو روتے روتے بے حال ہو جاتے ہیں، اب تو یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ قرآن تو حضرت عثمان کے دور میں مرتب ہوا تھا، حضرت عمر کی اسلامی فتوحات کے وقت کافروں کو اسلام کے بارے میں کیا بتایا جارہا تھا؟ اب ماتم پڑا ہوا ہے کہ سپین میں سینکڑوں مسجدیں گرجا گھر بن چکی ہیں۔
تاریخ اپنے آپ لو دہراتی ہے، رسول اکرم ﷺ کی دور تک مکہ اور مدینے کے عوام خود کو قبائلی رسم و رواج سے الگ نہیں کر سکتے، وہ اسلامی طریقہ اخلاق پر بھی پورے نہیں اترتے تھے کہ بے پناہ فتوحات نے ان کو CIVIC SENSEسے آشنا ہونے کا موقع ہی نہ دیا، صدیوں تک ان کی زندگی فتوحات، مال غنیمت اور جزیہ تک ہی رہی، حتیٰ کہ کوئی مناسب تبلیغی نظام بھی نہیں بنایا گیا، احادیث گھڑنا شوق بن چکا تھا، اگر سپین میں لکھی گئی تواریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ان کے مورخین کہتے ہیں کہ مسلم حملہ آوروں کو مال غنیمت اور عورت سے شغف تھا جس کی کچھ جھلکیاں نسیم حجازی کے ناولوں ’’اور تلوار ٹوٹ گئی‘‘ اور ’’یوسف بن تاشفین‘‘ میں دیکھی جا سکتی ہیں، تہذیب اور سماجی شعور نہ ہونے کے سبب ان کو یہ غلط فہمی ہو گئی کہ جن علاقوں پر وہ قبضہ کررہے ہیں وہ ان کی ملکیت ہیں اوردوسری شدید غلط فہمی تھی کہ ان علاقوں پر ان کا قبضہ ہمیشہ رہے گا، پہلی بار یہ سحر تب ٹوٹا جب اندلس ان کے ہاتھوں سے نکل گیا پھرجب COLONIZATIONنے تو سب کچھ غارت کر دیا، اسلامی تعلیمات میں یہ تہذیب تو نظر آتی ہے کہ دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کا احترام کیا جائے، مگر ایسا ہوا نہیں ہر مذہبی عبادت گاہ پر قبضہ اور اس کی حیثیت تبدیل کرانا ایک معمول بن گیا تو اس کا ردعمل بھی سامنے آیا جس پر اب ہم افسردہ ہیں، پاکستان میں باریش حضرات کی لکھی گئی جھوٹی تاریخ پڑھائی جاتی رہی اور یہ فرض کر لیا گیا کہ حقیقت کبھی سامنے نہیں آئے مگر زہر پھر بھی پھیلا آج بھی مسلمان اپنے آپ کو مظلوم سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں انتہائی جہالت کے باوجود دنیا کی امامت ان کو دے دی جائے۔
اردگان استنبول میں الیکشن ہار گئے تھے لہٰذا انہوں نے مذہبی ووٹ حاصل کرنے کے لئے HAGIA SOFIA MUSEUMکو مسجد کی حیثیت دینے کا فیصلہ کیا، ہر چند کہ یہ اختیار ان کو ترکی کی اعلیٰ عدالت نے دیا مگر عدالت پر بھی سوال اٹھ گئے کہ مسلم عدالتوں کا سٹیٹ آف مائنڈ ایک جیسا ہوتا ہے اور یہ بھی کہ اردگان کے خوف کی وجہ سے یہ فیصلہ آیا، جو انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا، یہ بھی کہا گیا کہ ترکی یورپ کی رکنیت لینے کے لئے بے چین ہے مگر یورپی سماجی آداب سے دور ہے، ترکی میں بھی اس فیصلے کو بھرپور عوامی پذیرائی نہیں ملی، ترکی دراصل ایک غلط روایت بنارہا ہے، کیا تمام غیر مسلم ممالک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی اپنی اعلیٰ عدالتوں سے فیصلے لے کر مذہبی عبادت گاہوں کی حیثیت تبدیل کر سکتے ہیں اور پاکستان کی اقلیتوں کی طرح اپنی اپنی اقلیتوں کو مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ مذہب تبدیل کر لیں جیسا کہ سندھ میں ہوتا ہے، ایسا کرنا انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے خلاف ہو گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.