جب ہم ہوئے غلام

27

پہلے وزیر آعظم لیاقت علی خان کے دورہ امریکہ کے نتیجے میں پاکستان کو امریکی امداد حاصل ہوئی لیکن پاکستان کسی اعتبار سے بھی امریکی دبائو میں نہیں آیا اور پاکستان نے اپنی آزادانہ خارجہ پالیسی جاری رکھی۔ پاکستانی سربراہان کی طرف سے امریکہ کے سرکاری دوروں کی ابتدا 1950 میں ہوئی جب پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان اس وقت کے امریکی صدر ہیری ٹرومین کی دعوت پر خاتون اول بیگم رعنا لیاقت علی خان کے ہمراہ 3 مئی کو تین روزہ دورے پر واشنگٹن پہنچے۔ صدر ٹرومین نے اس دورے کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہوئے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو واشنگٹن لانے کے لیے اپنا خصوصی طیارہ ’’دی انڈی پینڈنس‘‘ لندن بھیجا۔ واشنگٹن پہنچنے پر صدر ٹرومین نے اپنی کابینہ کے تمام ارکان کے ہمراہ واشنگٹن کے ہوائی اڈے پر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

لیاقت علی خان کے دورے کے موقع پر ان کے اعزاز میں نیویارک میں ایک پریڈ کا اہتمام کیا گیا۔ انہیں کولمبیا یونیورسٹی کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری بھی عطا کی گئی۔ اس موقع پر لیاقت علی خان نے امریکہ کے ایوان نمائندگان سے بھی خطاب کیا۔ لیاقت علی خان کے اس دورے نے امریکہ اور پاکستان کے درمیان خصوصی اور قریبی تعلقات کی بنیاد رکھ دی اور ان تعلقات کی گرمجوشی سرد جنگ کے خاتمے تک برقرار رہی۔

لیاقت علی خان کے بعد امریکہ کا دورہ کرنے والے دوسرے لیڈر گورنر جنرل غلام محمد تھے جنہوں نے علاج کی غرض سے 8 سے 13 نومبر، 1953 کو امریکہ کا دورہ کیا۔ وہ زیادہ تر علاج کی غرض سے میساچیوسٹس ریاست کے شہر بوسٹن میں مقیم رہے۔ تاہم دورے کے دوران واشنگٹن میں ان کی اس وقت کے امریکی صدر آئزن ہاور سے باضابطہ ملاقات ہوئی۔۔پاکستان کے وزیر آعظم خواجہ ناظم الدین کے دور میں پاکستان شدید غذائی بحران کا شکار تھا۔ خواجہ ناظم الدین کی درخواست پر امریکہ نے پاکستان کو 8 ملین ٹن اناج فراہم کر دیا۔ اگرچہ یہ امداد ملک کو مغربی کیمپ میں جانے کا باعث نہ بنی مگر اس کے بعد آنے والا وقت شاہد ہے کہ ملک کی خارجہ پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی رونما ہوئی اور پاکستان کو امریکہ کے سامنے جھکانے کی شروعات ہو گئی تھیں۔امریکہ نے امداد کے زعم پر سیاسی مفادات کا سودا اپنی پالیسی بنا لی۔پاکستان کے گورنر جنرل غلام محمد نے امریکہ کی ایما پر کئی دورے کئے اور ڈالروں کی خیرات نے پاکستان کو روس کے خلاف اپنا حلیف بنا لیا اور یوں پاکستان اپنی مسلمہ غیر جانبدار حیثیت گنوا کر مغرب کا اتحادی بن کر رہ گیا۔ان حالات میں پاکستان کی طرف سے کسی آزادانہ طرز عمل کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ صدر جمی کارٹر کے دور حکومت کے دوران امریکی سیاسی حکمت عملی میں پاکستان کی حیثیت ثانوی ہو کر رہ گیء۔ امریکہ اس نتیجہ پر پہنچ چکا تھا کہ جنوبی ایشیا میں بھارت کو بالا دستی حاصل ہے ، پاکستان جیسے کمزور حریف کو دوست بنانے کی بجائے روس اور بھارت کے خلاف شاطرانہ طریقہ سے استعمال کیا جائے۔چنانچہ جمی کارٹر نے 1978 میں بھارت کا دورہ کر کے پاکستان پر ثابت کر دیا کہ ملکوں کے درمیان دوستی مستقل نہیں بلکہ یہ مفادات سے مشروط ہوتی ہے۔ امریکہ نے پاکستان کو اسلامی بم بنانے کے الزام کی آڑ میں اپنی تمام فوجی اور اقتصادی امداد بند کر دی مگر یہ بے وفائی دیر پا ثابت نہ ہوئی۔ انقلاب ایران اور افغانستان پر روسی حملے جیسے دو اہم واقعات نے امریکہ کو ایک بار پھر پاکستان کو اتحادی بنانے پر مجبور کر دیا۔ انقلاب ایران کے نتیجہ میں امریکہ کو ایران سے بھی نکلنا پڑا اب اس خطہ میں ایک ایسے ملک کی ضرورت تھی جہاں پائوں جما کر اپنے عالمی مفادات کا تحفظ حاصل کر سکے۔جبکہ پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت اور خلیج سے قربت کی بنا پر امریکہ کے لئے غیر معمولی حیثیت رکھتا تھا۔ تجدید مراسم کے اس عمل میں امریکہ نے ایک بار پھر پاکستانی فوجی آمر کو اقتدار کے علاوہ ڈالروں اور ایف 16 سے فْول بنایا۔پاکستان کے کمزور کاندھے کے استعمال سے روس کی طاقت توڑنے کے لئے اسامہ بن لادن جیسے پیدا کئے۔ پاکستان کی بد نصیبی کہ اس ملک یتیم کو قائد آعظم کے بعد کوئی دوسرا قائد نصیب نہ ہو سکا۔جو آیا بھیک منگا ہی آیا۔بھیک کی کمائی سے قائد اور اقبال پیدا نہیں ہوا کرتے۔ دیار غیر میں بے شمار ایسے پاکستانی بستے ہیں جنہوں نے وطن عزیز میں کرپشن چور بازاری جھوٹ بے ایمانی کی زندگی پر پردیس کی زندگی کو ترجیح دی۔وطن سے دور زرمبادلہ بھی بھیجتے ہیں اور سب سے زیادہ محب وطن بھی یہ اوورسیز پاکستانی ہیں۔ نہ پاکستان میں سیاست کرنے جاتے ہیں نہ پاکستان کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں۔ دل و جان مال سے وطن سے محبت اور خدمت کرتے ہیں۔کرونا جیسے مالی بحران میں بھی اوورسیز پاکستانیوں نے ڈالروں کے ڈھیر لگا دیئے۔ مالی سال 2020 میں بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں نے 23 ارب ڈالر بھیجے۔ سب سے زیادہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی مزدوروں نے 5 ارب ڈالر سے زائد بھیج کر دیگر پاکستانیوں سے بازی لے گئے۔لیکن پاکستان کا حکمران پھر بھی معیشت کا رونا روتا ہے کہ لٹے گئے مارے گئے ؟۔۔یہ ہیں محب وطن اوورسیز پاکستانی جبکہ پچھلے پانچ ماہ سے بیروزگار اوورسیز مزدوروں  کے ساتھ حکومت پاکستان نے جو سلوک روا رکھا ہوا ہے شرم آتی ہے اوورسیز پالیسی بنانے اور چلانے والوں پر۔امریکہ نے گیارہ ستمبر کے واقعہ کی آڑ میں اپنے ہی پیدا کردہ مجاہدین پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کر دیا۔اور پھر امریکہ کی زمین مسلمانوں پر تنگ کر دی گئی۔ لاکھوں محنت کش پاکستانی بھی اپنا بچپن جوانی آرزوئیں امیدیں غرض اپنی تمام جمع پونجی پاک امریکہ کی مصنوعی دوستی پر ہار گئے۔نائن الیون کے بش سرکار نے الیگل لاکھ سے زیادہ پاکستانیوں کے پیروں میں بیڑیاں پہنا کر جہازوں میں لاد کر ڈی پورٹ کر دیا۔جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف کو توپوں کی سلامی دینے والے امریکہ بہادر نے افغانستان میں مطلب پورا ہوتے ہی پاکستان کو ہمیشہ کے لئے دہشت گردی کے جہنم میں دھکیل دیا۔پاک امریکہ تعلقات کا یہ مفاد پرست کھیل آج تک جاری ہے۔ صدر ٹرمپ ماضی کی پالیسیوں کا تسلسل ہے اور پاکستان میں بھی بھیک بھکاری غلامی ہوس اقتدار کا نظریہ ضرورت جوں کا توں قائم و رائج ہے۔امریکہ میں بھی چہرے بدلتے ہیں پالیسی نہیں اور پاکستان میں بھی چہرے تبدیل ہوتے ہیں غلامی نہیں۔۔۔    ؎ جب ہم ہوئے غلام آقا ئوں سے الجھنا چھوڑ دیا!!!

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.