شمالی امریکہ کے سیاہ فام شہری، اور مسلم تنظیمیں

41

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ شمالی امریکہ میںسیاہ فاموں کو تقریباً چارسو سال سے نسل پرستی اور حقوق سے محرومی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہیں اپنے حقوق اور انسانی مساوات کی ہر جنگ تنہا ہی لڑنا پڑی ہے۔ اس ضمن میں گزشتہ کئی دہایئوں سے عام امریکی مسلمان اس جدو جہد سے نہ صرف دور رہے ہیں بلکہ وہ خود بھی بارہا سیاہ فاموں کے خلاف نسل پرستی میں یا تو کسی طور شامل رہے ہیں، یا وہ اس ضمن میں ایک مجرمانہ خاموشی اختیار کرتے رہے ہیں۔
سیا ہ فاموں نے تنگ آمد بجنگ آمد کے تحتBlack Lives Matterکی تحریک شروع کی جو جلد ہی ساری دنیا میں پھیل گئی۔ اس تحریک کی مخالفت میں سفید فام نسل پرستوں نے All Lives Matter کا نعرہ اٹھایا۔ جس کا مقصد لوگوں کی توجہہ سیاہ فام تحریک سے ہٹانا تھا۔ دیکھا گیا کہ عام مسلمان بھی یہ نعرہ اٹھانے لگے، گویا وہ خود کو سیاہ فاموں سے الگ یا برتر جانتے تھے۔ مسلمانوں کے انسانی حقوق کی تحریکیں بھی روایتی طور پر سیاہ فاموں سے دور رہیں۔
اس حقیقت کو حال ہی میں ایک ممتاز دانشور ڈاکٹر امین حسین نے اپنے ایک مضمون میں بیان کیا ہے ، اور اس فرق کی وجہہ یہ بتائی ہے کہ گزشتہ کئی دہایئوں میں شمالی امریکہ میں مسلمان مہاجر معاشی طور پر سیاہ فاموں سے بہت بہتر رہے ہیں۔ ان کے اپنے اندر کی نسل پرستی بھی انہیں سیاہ فاموں سے الگ تھلگ رکھتی رہی۔
یہاں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ امریکہ میں اولین مسلمان سیاہ فام غلام تھے جو خود سیاہ فاموںمیں ایک اقلیت تھے۔ ان میں سے کئی جبراً عیسائی بنادیئے گئے ۔ بیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں امریکہ میں Nation of Islam کی تحریک چلی اور یوں سیاہ فام مسلمانوں کی ایک منظم جماعت بنی ۔ اس کی روایات عام مسلمانوں سے مختلف ہیں۔ یوں مسلمان ان کو علیحدہ سمجھتے رہے، بلکہ اکثر اس کی مخالفت کرتے رہے۔ اس گروہ میں معروف باکسر محمد علی اور حقوق کی تحریک کے رہنما مالکم ایکس جیسی شخصیات شامل تھی۔
بیسیویں صدی کی پانچویں دہائی سے امریکہ میں مشرق وسطٰی اور جنوبی ایشیا سے مہاجرین کی بڑی تعداد یہاں بسنے آئی۔ ان میں جو مسلمان تھے وہ اکژ سنّی اسلام سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ اپنے ساتھ عام روایات ، فقہہ، اور شریعت لے کر آئے۔ ان کی انجمنیں جن میں پہلے ISNA اور پھر ICNAشامل تھیں ، سیاہ فام مسلمانوں کو روایتی اسلام کی تبلیغ کرتے رہیں۔ یہ عموماً سعودی عرب سے مدد اور رہنمائی لیتے تھے۔ انہوں نے Natioan of Islamکی ایک طرح سے مخالفت کی۔ بلکہ کھلے بندوں عام مسلمانوں میں اس مخالفت کا پرچار بھی کیا۔
یہاں یہ بھی مدِ نظر رہے کہ امریکی سیاہ فامو ں کی غالب اکثر غیر مسلم ہے۔ ان میں مسلمان زیادہ سے زیادہ ایک یا دو فی صد ہیں۔ یوں سیاہ فام اکثریت اور عام مسلمانوں میں مذہب کا فرق بھی تفرقہ کا باعث بنا۔ رنگت اور مذہب کے اسی فرق نے سیاہ فاموں اور عام مسلمانوں میں حقوق کی جد و جہد میں بھی دوری رکھی۔ 911 کے بعد مسلمان تنظیموں نے یہودیوں کے Anti Semitism کے مقابلہ میں Islamophobia کا نعرہ لگایا ۔ اس نعرہ کے پس منظر میں ہر غیر مسلم ، اسلامو فوبیا کرنے والے سمجھا جاتا ہے۔
اب جب Black Lives Matterکی تحریک شروع ہوئی تو مسلم تنظیموں نے اس سے دانستہ اور غیر دانستہ دوری رکھی۔ نہ صرف دوری بلکہ سفید فام نسل پرستوں کی تقلید میں مسلمان بھی All Lives Matter کے جھانسے میں آنے لگے۔ پڑھے لکھے مسلمان اور خود کئی مسلم رہنما بھی کھلے بندوں یا درپردہ اس نعرہ کی حمایت کرنے لگے۔ ایسا سوشل میڈیا پر زیادہ نظر آیا۔
حال ہی میں پولس کے ہاتھوں ایک پاکستانی مسلمان کے قتل کے بعد کینیڈا میں ان کے ہمدردوں نے All Lives Matter کے نعرے اور بینر اٹھائے۔ ستم ظریفی کہ ان کے باقی سب نعرے Black Live Matter والوں ہی کے تھے۔ ہم اپنی گزشتہ تحریروں میں یہ لکھتے رہے ہیں کہ شمالی امریکہ میںسفید فام نسل پرست ہر دیگر نسل کے خلاف ہیں۔ انہیں اس میں بھورے، گندمی، پیلے کا فرق نظر نہیں آتا۔
یہاں یہ بھی ذہن میں رہے کہ امریکہ میں اور اب کینیڈا میں کئی چھوٹے کاروبار مسلمانوں کے ہیں۔ وہ یک طرف پروپگنڈے کے تحت یہ سمجھتے ہیں کہ سب سیاہ فام چور اور مجرم ہیں۔ اور وہ ان کے ساتھ اسی طرح کا برتائو کرتے ہیں۔ یہاں ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ امریکی سیاہ فام جورج فلوئڈ پر جسے پولس نے بہیمانہ طور پر ہلاک کیا، چوری یا جعل سازی کا الزام لگانے والی ایک عرب ملکیت کی دوکان تھی۔ اس واقعہ کی بعد اب اس دکان کے مالکان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان کی کوئی بھی شاخ چھوٹے موٹے معاملوں میں پولس کو شامل نہیں کرے گی۔
اب یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ انسانی حقوق کی بعض مسلمان تنظیمیں ، سیاہ فاموں کے ساتھ جدو جہد کرنے کو تیار ہو رہی ہیں۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ کاش ایسا ہو سکے۔اب تک اس کو ایک خام خیالی ہی سمجھا جا رہا ہے۔ عملی حقیقت میں شاید ابھی وقت لگے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.