ایشیا کی صدی

33

سنگا پور کے وزیر اعظمLee Hsein Loong نے نیو یارک سے شائع ہونیوالے جریدے فارن افیئرز کے جولائی اگست کے شمارے میں ’’  خطرے میںگھری ہوئی ایشیا کی صدی‘‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا ہے  سنگا پور جنوب مشرقی ایشیا کا ایک ایسا ملک ہے جسکی ترقی میں امریکہ نے اہم کردار ادا کیا ہے اسکی آبادی کی اکثریت چینی باشندوں پر مشتمل ہے امریکہ نے جو عنایات جاپان اور سنگا پور پر کی ہیں اسکی مثال ایشیا کے کسی دوسرے ملک میں نہیں ملتی آیئے دیکھتے ہیں کہ وزیر اعظم سنگا پور کو ایشیا کی صدی خطرے میں کیوں نظر آتی ہے

ترجمہ۔چین کے لیڈر ڈینگ زیائو پنگ نے 1988 میں بھارت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی سے کہاتھا کہ آجکل لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اگلی صدی ایشیا اور بحرالکاہل کے ممالک کی ہوگی مجھے ان لوگوں سے اتفاق نہیں ہے آج بتیس برس بعد ڈینگ کی بات سچ ثابت ہو رہی ہے ایشیا آج کئی عشروں کی غیر معمولی ترقی کے بعداقتصادی طور پر دنیا کا ایک ابھرتا ہوا خطہ ہے موجودہ عشروں کے دوران ایشیائی ممالک کی معیشتیںدنیا کے کسی بھی دوسرے خطے سے زیادہ مضبوط ثابت ہوئی ہیں اسکے باوجود ڈینگ کی وارننگ درست ہے کہ ایشیا کی صدی نہ تو ناگزیر ہے اور نہ ہی پہلے سے طے شدہ ہے ایشیا نے اسلئے حیرت انگیز طور پر ترقی کی ہے کہ امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد اسے ایک ایسا تزویراتی تناظر مہیا کیا جو اسکے لئے بہت سازگار ثابت ہوا مگر اب امریکہ اور چین کے بگڑتے ہوے تعلقات نے ایسے حالات کو جنم دیا ہے جو ایشیا کے مستقبل کیلئے نا موافق ثابت ہو سکتے ہیںجنوبی ایشیا کے وہ ممالک اور سنگا پور بطور خاص جو بڑی طاقتوں کے چو راہے پر واقع ہیںان دو ممالک کے مفادات کے درمیان پھنس گئے ہیں اور انہیں ناخوشگوار فیصلے کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے اب ایشیا میں سٹیٹس کو ضرور تبدیل ہو گا مگر سوال یہ ہے کہ نیا نظام ترقی کا پیغام لیکر آئیگا یا عدم استحکام کا باعث بنے گا اسکا انحصار ان فیصلوں پر ہے جو امریکہ اور چین کریں گے دونوں بڑی طاقتوں کو چاہیئے کہ وہ ایک ایسا نظام وضع کریں جو معاندانہ نہ ہو بلکہ مصالحت پر مبنی ہو کسی بھی کاروبار میں مسابقت اور تعاون دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں

ایشیا ئی ممالک امریکہ کو ایک ایسی مہمان طاقت کے طور پر دیکھتے ہیں جسکے اس خطے میں اہم مفادات ہیںاسکے ساتھ ہی انہیں یہ بھی احساس ہے کہ چین انکی دہلیز پر کھڑی ایک حقیقت ہے ایشیائی ممالک یہ نہیں چاہتے کہ انہیں ان دونوں میں سے کسی ایک کو چننے کی مشکل صورتحال میں ڈالا جائے امریکہ اگر یہ چاہتا ہے کہ وہ چین کی ترقی میں رکاوٹ ڈالے ور چین اگر یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ واشنگٹن کے خلاف اپنے دوست ممالک کا ایک اتحاد بنائے تو دونوں ایک ایسے خطرناک راستے پر گامزن ہو جائیں گے جو ایشیا کی ترقی کو کئی عشروں کیلئے مخدوش حالات سے دوچار کر دیگا

گزشتہ ستر برسوں میں چین اقتصادی طور پردو مختلف ادوار سے گذرا ہے سرد جنگ کے دور میں کوریا اور ویت نام کی جنگوں کے دوران اسکی معیشت باقی کی دنیا سے کٹی ہوئی تھی اس دور میں ایشا کے دوسرے ممالک رفتہ رفتہ فری مارکیٹ اکانومی کو اپنا رہے تھے جاپان ان میں سر فہرست تھا اور سنگا پور‘ تائیوان‘ جنوبی کوریا اور ہانگ کانگ اسکے پیچھے تھے امریکہ نے ان ممالک کی کامیابی میں اہم کردار اداکیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایشیا کی ترقی کو جس عنصر نے ممکن بنا یا وہ امریکہ کا تعاون تھا امریکہ نے نہ صرف ایک کھلا ‘ مربوط اورکاروباری ضابطوں پر مشتمل ایک نظام دیابلکہ اسنے ان ممالک کو ایک ایسی دفاعی چھتری بھی مہیا کی جسکے اندر انہوں نے ایکدوسرے کیساتھ کھل کر کاروبار کیا اور ترقی کے ثمرات سمیٹے اس دوران امریکہ کی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے بڑے پیمانے پر ایشیائی ممالک کو سرمایہ‘ٹیکنالوجی اور نئے مواقع مہیا کئے واشنگٹن نے اپنی تجارت کے دروازے ان ممالک پر کھول دئے جسکی وجہ سے انکی معیشتوں کو استحکام ملا اسکے بعد دو ایسے واقعات ہوے جنہوں نے چین کے مستقبل اور اسکے عالمی کردار کو بدل کے رکھ دیا ان میں سے ایک صدر نکسن کے نیشنل سیکیورٹی کے مشیر ہنری کسنجر کا خفیہ دورہ چین تھا اور دوسراڈینگ زیائو پنگ کا اصلاحات کا پیکج تھا جس نے چین کی معیشت کو مغرب کی کھلی منڈی سے پیوست کر دیا 1980 کے عشرے میں چین کی اکانومی نے ٹیک آف کیاکاروباری بندشیں ختم ہونا شروع ہوئیں اور چین کے مغربی ممالک سے اقتصادی تعلقات فروغ پانے لگے اس دوران ایشیائی ممالک نے بھی چین سے رابطے استوار کئے اور بیجنگ کیساتھ ملکر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوگئے اگلے دو عشروں میں چین نے حیرت انگیز طور پر ترقی کی اور اپنی طویل تنہائی کو ختم کرکے خطے کی بڑی طاقت بن گیااسوقت تک چین امریکہ کی برتری کو چیلنج کرنے کے قابل نہ تھا وہ واشنگٹن کے وضع کردہ گلوبل آرڈر کے اندر رہتے ہوے ترقی کرنا چاہتا تھا یہ ڈنگ زیائو پنگ کا بتایا ہوا راستہ تھا اسنے کہا تھا کہ Hide your strength and bide your time اپنی طاقت کو چھپائو اور وقت کا انتظار کرو چین نے اس مقولے پر عمل کرتے ہوے اپنی زراعت اور صنعت کو ترقی دی اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں پیش رفت کرتے ہوے اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کیا

براعظم ایشیا میں اپنے اثر رسوخ کو مزید بڑھانے کیلئے چین نے Belt and Road Initiative کے علاوہ ایشین انفراسٹرکچر بینک جیسا ادارہ بھی قائم کیا ان پراجیکٹس کی وجہ سے بیجنگ کو اپنے ہمسایوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کا موقع ملالیکن اسکا یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ امریکہ کا کردار اس علاقے میں ختم ہو گیا ہے واشنگٹن آج بھی ایشیا کی علاقائی سلامتی کو برقرار رکھنے میں اہم رول ادا کر رہا ہے اس نے Asia Reassurance Initiative Act اور Build Act کے ذریعے ایشیا ئی ممالک کو اپنے حلقہ اثر میں رکھا ہوا ہے اسکے علاوہ علاقائی تنظیمASEAN کے ذریعے اس علاقے کے ممالک امریکہ اور یورپ سے تعلقات استوار کئے ہوے ہیں

یہ ساری صورتحال اب رفتہ رفتہ تبدیل ہو رہی ہے اب چین ایشیا میں ایک بڑا کردار ادا کرنا چاہتا ہے بیجنگ کیلئے یہ پیش رفت اسلئے ضروری ہے کہ اسکی اقتصادی‘ ٹیکنالوجیکل اور سیاسی طاقت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے آج کی چینی قیادت ڈینگ زیائو پنگ کے اس مقولے پر عمل نہیں کر رہی کہ اپنی طاقت چھپائو اور وقت کا انتظار کرو چین کے صدر شی جن پنگ یہ سمجھتے ہیں کہ اب وقت آگیاہے کہ چین اپنی طاقت دکھائے،دوسری طرف امریکہ دنیا میں اپنے نئے رول کا جائزہ لے رہا ہے ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ امریکہ نے ایشیا میں چین کے مقابلے میں ایک بھرپور کردار ادا کرنا ہے یا نہیںصدارتی انتخابات میں انکے مد مقابل جوزف بائیڈن کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ انہیں اگر صدارت ملتی ہے تو وہ امریکہ کے کھوئے مقام کو دوبارہ حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے یہ ایک ایسی صورتحال ہو گی جسمیں ایشیا میں امریکہ اور چین کے مفادات میں تصادم ہو سکتا ہے   (جاری ہے )

عتیق صدیقی

Leave A Reply

Your email address will not be published.