کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملے سے قبل ہی پولیس کو خبردار کیا تھا، دی اسلامک ویمن کونسل

13

نیوزی لینڈ کی مسلمان خواتین کی معروف تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ اس نے مارچ 2019 میں کرائسٹ چرچ کی مساجد پر حملے سے قبل ہی اس جیسے حملوں کی دھمکیوں سے متعلق پولیس اور حکام کو خبردار کیا تھا۔

مذکورہ انکشاف دی اسلامک ویمن کونسل آف نیوزی لینڈ (آئی ڈبلیو سی این زیڈ) کی رہنماؤں کی جانب سے کرائسٹ چرچ مساجد حملوں کی تفتیش کرنے والی رائل کمیشن کو دیے گئے بیان میں کیا گیا۔

واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی 2 مساجد پر 15 مارچ 2019 کو آسٹریلوی نژاد سفید فام دہشت گرد 29 سالہ برینٹن ٹیرنٹ نے حملہ کرکے 51 نمازیوں کو شہید جب کہ 50 کو زخمی کردیا تھا۔

دہشت گرد نے حملے کی کارروائی براہ راست فیس بک پر بھی چلائی تھی اور پولیس نے اسی دن کارروائی کرکے اسے گرفتار کرلیا تھا۔

برینٹن ٹیرنٹ پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ چلایا گیا تھا اور انہوں نے رواں برس 26 مارچ کو حملے کے تمام الزامات قبول کرتے ہوئے 51 افراد کے قتل سمیت 40 افراد کے اقدام قتل کے جرائم بھی قبول کیے تھے۔

نیوزی لینڈ کی حکومت نے مساجد پر حملے کے بعد تفتیش کے لیے رائل کمیشن بھی تشکیل دیا تھا، جو حملے میں شہید ہونے والے افراد کے اہل خانہ سمیت دیگر شہریوں کے بیانات قلم بند کر رہا ہے۔

رائل کمیشن بھی اپنی رپورٹ رواں ماہ کے آخر میں حکومت کو جمع کرائے گا جب کہ آئندہ ماہ 24 اگست کو نیوزی لینڈ کی عدالت دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ کو سزا سنائے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.